لواری سرنگ ،رحمت یا زحمت ؟

لواری سرنگ ،رحمت یا زحمت ؟

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جمعہ 6 جنوری کو دیر اور چترال کے درمیان لواری سرنگ کے دونوں طرف 600 گاڑیوں میں 8 ہزار سے زیادہ مسافروں نے سفر کیا اور 9گھنٹے کا سفر 26 گھنٹوں میں طے کر کے کچھ لوگ بیمار ہو کر منزل مقصود کی طرف روانہ ہوئے کچھ لوگ واپس چلے گئے مسافروں میں بچے بھی تھے عورتوں کی بڑی تعداد تھی بیمار تھے،بوڑھے تھے جنوری کی سردی تھی اوپر سے برفباری بھی ہو رہی تھی بشری ضروریات کے لئے برف میں کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا بیما روں کیلئے کچھ نہیں ہو سکتا تھا ایک دن ایک ہی وقت پر گاڑیوں کے ایسے ہجوم میں سیکیورٹی چیکنگ کیلئے تین تین گھنٹے ایک چیک پوسٹ پر انتظار کرنا پڑا ایسے دو چیک پوسٹوں سے گزرنا تھا یہ تلخ تجربہ تھا لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے ذولفقارعلی بھٹو اور جنرل مشرف نے لوگوں کو اذیت دینے کیلئے لواری سرنگ بنا یا تھا یالوگوں کو سہولت دینے کیلئے 9 کلومیٹر لمبی سرنگ تعمیر کر کے دیر اور چترال کو ملایا جمعہ 6 جنوری کا اذیت ناک سفر حکومت کے اس فیصلے کا شاخسانہ تھا کہ لورای سرنگ مسافروں کے لئے بر فباری کے موسم میں ہفتے میں ایک دن چند گھنٹوں کے لئے کھو لا جائے گا چترال اور دیرکے درمیان ہفتے میں اوسطاً3 ہزار چھوٹی اور ڈیڑھ ہزار بڑی گاڑیاں سفر کرتی ہیں ساڑھے چارہزار گاڑیوں میں سے اگر ایک ہزار گاڑیاں بھی برفباری میں مجبوری کی وجہ سے سفر کر رہی ہوں تو ان کے لئے ایک دن مقرر کرنا کامن سنس کی رو سے بھی غلط ہے انتظامی نقطہ نظر سے بھی غلط ہے سیکیورٹی نقطہ نظر سے بھی غلط ہے یہاں عوامی سہولت کا نام لینا مناسب نہیں اس وقت وفاق اور صوبے کی حکومتوں کے پاس عوامی سہولت کی کوئی کھڑکی نہیں بھٹو شہید کے دور میں چترال میں برفباری ہوئی غلہ اور چارہ لانے کے راستے بند ہوئے رات 10 بجے ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے ایم این اے اتالیق جعفر علی شاہ نے وزیر اعظم کا گرین فون ملایا یہ 26 فروری 1976 کا واقعہ ہے اور یاد گار واقعہ ہے وزیر اعظم نے پوچھا،امداد کسطرح پہنچائی جا سکتی ہے ؟وی آئی پی شخصیت کو بتا یا گیا کہ سی – 130 جہازوں کے سوا کوئی انتظام نہیں ہو سکتا وزیر اعظم اُس رات نہ خود سوئے نہ کسی اورکو سونے دیا رات بھر جی ایچ کیو ،آرمی ایوی ایشن ،ایف سی ہیڈ کوارٹراور چترال سکاوٹس ہیڈ کوارٹر کے ساتھ ڈی سی ہاوس چترال کے ٹیلیفون بجتے رہے صبح 10 بجے پہلا سی- 130 جہا ز غلہ اور بھوسہ لیکر چترال کے اوپر نمودار ہوا اور متاثرین کی بحالی تک جہازوں نے سروس دیا 1988 ؁ٗ ؁ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی حکومت تھی برفباری میں لواری ٹاپ بند ہوا وزیر اعظم کو رپورٹ ملی وزیر اعظم نے صوبائی وزیر اعلیٰ افتاب احمد شیر پاؤ کو ٹاسک دیا شیر پاؤ اور نصیر اللہ خان بابر نے روس سے لیز پر ہیلی کاپٹر حاصل کئے دیر اور دروش میں ہنگامی بنیادوں پر دو ہیلی پیڈ بنا ئے گئے دن بھر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مسافرون کو لواری پارکر ایا جاتا تھا اور تین سالوں تک سردیوں کے چار مہینے دیر اور دروش کے درمیان ہیلی کاپٹرسروس چلتی رہی ازبک پائلٹ خراب موسم اور ناموافق ہواوں کی پرواہ کئے بغیر سروس دیتے تھے حکومت اور عوام کے درمیاں رابط تھا پل تھا ایم این اے اور ایم یی اے کی بات سنی جاتی تھی انٹیلی جنس کی رپورٹ پڑھی جاتی تھی سول انتظامہ اور سٹیشن کمانڈ سے رائے لی جاتی تھی موجودہ حکومت اندھی اور بہری حکومت ہے اس کا قانون اندھا اور بہر اہے اوپر سے نیچے تک کسی بھی دفتر میں کاغذ پڑھنے والا کوئی بندہ نہیں ہے اس لئے لواری سرنگ کو مسافروں کے لئے رحمت کی جگہ زحمت بنا یا گیا ہے اس بات کو ہم مانتے ہیں کہ چترال کی 6 لاکھ آبادی کو نسلی اور لسانی اقلیت کا درجہ دیا گیاہے اس قلیت کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ،تجربہ کار افسر وں کو فیلڈ میں پوسٹنگ نہیں دی جاتی اس اقلیت کو شہری حقوق دینے کے قابل نہیں سمجھاجاتا اس قلیت کی حب الوطنی اور امن پسندی کا غلط مطلب لیا جاتا ہے مگر لواری ٹنل سے برفباری کے موسم میں صرف چترالی سفر نہیں کر تے پختون بھی سفر کرتے ہیں پاکستان دوسرے صوبوں کے لوگ بھی سفر کرتے ہیں غیر ملکی بھی سفر کرتے ہیں یہ کوئی فنی یا تکنیکی مسئلہ نہیں ہے انجینئر نگ کا مسئلہ نہیں ہے راکٹ سائنس نہیں ہے تعمیراتی کمپنی کو معاوضہ ادا کرکے ہفتے میں 3 دنوں کے لئے سرنگ کا راستہ برفباری کے چار مہینے مسافروں کے لئے کھولنا ہے روزانہ 300 تک گاڑیاں آئینگی تو سیکیورٹی چیکنگ میں بھی آسانی ہوگی ٹرانسپورٹروں کو بھی مسئلہ نہیں ہوگا عوام بھی اذیت اور عذاب میں مبتلا نہیں ہونگے اکرم خان درانی اور امیر حیدر خان ہوتی کے ادوار میں ایسا ہی ہوتا تھا مو جودہ سال سیاسی قیادت کے طرز عمل سے مایوس ہو کر چترال کے عوام نے آرمی چیف جنرل قمر با جوہ اور کور کمانڈر لفٹننٹ جنرل نذیر احمد بٹ سے اپیل کی ہے کہ لواری ٹنل کو چار ماہ تک ہفتے میں 3 دن کے لئے کھولا جائے تو 48 دنوں کا معاوضہ بنتا ہے یہ معاضہ کنسر کشن کمپنی کو ادا کرکے چترال اور دیر کے درمیاں سفر کرنے والے مسافروں کو اذیت اور عذاب سے نجا ت دلائی جائے ۔رحمت کو لوگوں کیلئے زحمت نہ بنایا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔