عوامی شمولیت اور قدرتی آفات کو روکنے کی ترقیاتی منصوبہ بندی 

عوامی شمولیت اور قدرتی آفات کو روکنے کی ترقیاتی منصوبہ بندی 

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سید عبدالوحید شاہ،

ڈائریکٹر جنرل جی بی ڈی ایم اے

گذشتہ روز سیکرٹری محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کی زیر صدارت ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی گلگت بلتستان (محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات)کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس اس لئے اپنی نوعیت کا منفرد اور اہمیت کا حامل تھا کہ اس میں سال دو ہزار سولہ میں ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی گلگت بلتستان( محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان) کی طرف سے ایک اہم اٹھائے گئے قدم پر پیش رفت اور اس کا جائزہ مقصود تھا ۔اجلاس میں محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان کے تمام اسسٹنٹ ڈائریکٹرز نے سال دو ہزار سولہ میں ڈپٹی کمشنر حضرات کو ضلعوں میں قدرتی آفات سے بچاو کے اقدامات کے لئے جو رقوم مہیا کی گئی تھیں ان کا تفصیلی با تصویر جائزہ پیش کیا ۔ اجلاس میں کل ایک سو اکسٹھ سکیموں پر بحث ہوئی اور ہر سکیم کی افادیت اور اس کا جواز پیش کیا گیا کہ کس طرح یہ سکیم مختلف قسم کی آفات کا تدارک بہتر انداز سے کر سکے گی اور کس طرح وہاں کی مقامی آبادی اس سکیم سے مستفید ہو گی ۔ یہاں یہ منصوبہ اصل پس منظر کے تعارف کا متقاضی ہے ۔ اس منصوبہ کی پشت پر در اصل انگریزی زبان کا وہ محاورہ ہے کہ وقت کا ایک ٹانکا بے وقت کے نو ٹانکوں سے بہتر ہے (a stitch in time saves nine( لہٰذا اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے سال دو ہزار سولہ میں حکومت گلگت بلتستان نے عوامی سروے اور ڈپٹی کمشنر حضرات کے مشورے سے تمام اضلاع میں ایسے مقامات کی فہرست مرتب کی جو یا تو کسی بھی قدرتی آفت کی زد میں رہ چکے ہوں یا جہاں قدرتی آفت سے نقصانات کا اندیشہ ہو۔اور ایسی تمام جگہوں کا جائزہ لینے کے بعد محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان نے ڈپٹی کمشنر ز کو مناسب رقوم کی فراہمی کی جو کہ محدود تھی اور اپنے دائرہ استعمال کے لئے بھی مخصوص تھی ۔ یہ ان تمام ترقیاتی سکیموں کے بر عکس تھیں جن کا دورانیہ اور حجم وسیع و عریض ہوتا ہے اور جو بذریعہ ٹھیکہ جات دی جاتی ہیں ۔ ان اسکیمات کی رقم از بس دو سے چار لاکھ روپے مختص ہوتی ہے ۔اور یہ مقامی کمیو نٹی کے تعاون سے تکمیل پذیر ہوتی ہیں ۔ان اسکیمات کا دائرہ کار اور طریقہ کار حسب ذیل ہے ۔

سکیم کی نشاندہی اور جواز کے لئے کم از کم گاوں کی سطح پر عوام الناس اپنی ایک کمیٹی تشکیل دیں گے اور ان تمام مقامات کا جائزہ لیں گے کہ جہاں جہاں کسی بھی قدرتی ، زمینی سماوی آفت کا اندیشہ ہو ، مثلا اگر کہیں کسی بستی کے قریب پانی کے بہاو سے زمینی کٹاو کا اندیشہ ہو اور نتیجے میں وہاں کی آبادی اور عوام کے گھروں کو خطرہ ہو۔لہٰذا ایسے مقامات کے لئے حفاظتی دیوار تعمیر کرنا ۔ یا کسی نالہ جات کا اپنا رخ بدل کر بستی میں داخل ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسے نالہ کی کھدائی اور حفاظتی پشت کی تعمیر وغیرہ ۔سرکاری و عوامی عمارات و تنصیبات کو قدرتی آفات وغیرہ سے بچاو کی تدابیر کے لئے اقدامات ،جیسے پلوں ،ہسپتالوں ،عوامی پانی کی گذرگاہوں اور زیر آفت راستوں کی حفاظتی تدابیر وغیرہ شامل ہیں ۔

سکیم کی نشاندہی کے بعد مقامی سطح کی یہ کمیٹی اپنی ان تجاویز کو بذریعہ قرارداد محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان کے علاقائی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے توسط سے ضلعی محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات یعنی ڈپٹی کمشنر کو پیش کرتے ہیں ۔ ان تجاویز پر غور و خوض کے بعد متعلقہ ضلعی محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات اور محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ترجیحی فہرست مرتب کرتے ہیں اور ان کا تخمینہ لگا کر محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان گلگت کو بھیج دیتے ہیں ۔یہاں سے ان اسکیمات پر محکمہ داخلہ کی سربراہی میں گفت وشنید ہوتی ہے اور سکیمات کے جواز و عدم جواز یا مفاد عامہ کے لئے اس کی حیثیت پر مکمل شرح وبسط سے تمام پہلووں کو زیر بحث لایا جاتا ہے ۔ایسی تمام سکیمیں جو سمجھی جاتی ہیں کہ ان کا دائرہ کار آفات سے ہٹ کر ہے یا جن کا مفاد صرف شخصی ہے تو انہیں یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے ۔اور دیگر اسکیمات کو ترجیحی زاویہ سے برائے منظوری جناب چیف سیکرٹری صاحب کو پیش کیا جاتا ہے ۔

ان اسکیمات کی منظوری کے بعد محکمہ خزانہ مطلوبہ رقوم کا اجراء کرتا ہے ۔یہ رقومات ضلعی محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان یعنی ڈپٹی کمشنر کو منتقل ہو جاتی ہیں اور وہ حسب تجویز ان تمام مقامی کمیٹیوں کو پہلی قسط کی ادائیگی کرتے ہیں تا کہ وہ مجوزہ منظور شدہ سکیموں پر کام شروع کر سکیں ۔یہ سکیمیں چونکہ عوامی مشترکہ مفاداتی ہیں لہٰذا ان میں مقامی کمیٹی کا حصہ بصورت مزدوری لازمی ہوتا ہے ، یعنی وہاں کی مقامی کمیٹی مزدوری بلا معاوضہ مہیا کرے گی اور صرف سامان کی خریداری پر سرکاری رقم خرچ ہو گی ۔ان اسکیمات کی معائنہ کاری کے لئے محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان کے علاقائی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہر ضلع کی سطح پر موجود ہوتے ہیں اور وہ گاہے بگاہے ان اسکیمات پر پیش رفت اور معیار کا جائزہ لیتے رہتے ہیں ۔کسی بھی کمی بیشی کی صورت میں وہ کام کو روک سکتے ہیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرتے ہوے کام کو بند بھی کروا سکتے ہیں ۔کام کے معیار و مقدار کو جانچنے کے لئے محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان کے اپنے انجینیزز کی سربراہی میں ٹیم ہر منصوبہ کا دورہ کر کے جزوی کار کردگی رپوٹ مرتب کرتی رہتی ہے ۔

اس ضمن میں سال دو ہزار سولہ میں ضلعی محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان یعنی ڈپٹی کمشنرز کا کردار بہت ہی امید افزاء اور باعث اطمینان رہا ۔گذشتہ روز کے جائزہ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ داخلہ جناب احسان بھٹہ صاحب نے بلتستان ڈویژون کی کارکردگی کو بالخصوص سراہا اور کمشنر بلتستان کو تعریفی مراسلہ بھی جاری کیا گیا ۔ باقی اضلاع کی کارکردگی کو بھی قابل اطمینان پایا ۔ امسال یعنی سال دو ہزار سترہ کے لئے بھی محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان گلگت نے دوبارہ سے مقامی و علاقائی کمیٹیوں سے تجاویز بصورت قراردادبذریعہ ضلعی محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان (ڈپٹی کمشنرز) اور محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان کے علاقائی اسسٹنٹ ڈائریکٹرز طلب کی ہیں ۔جو کہ عرصہ دو ماہ کے اندر اندر متعلقہ ضلعی محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان کی تصدیق و منظوری کے بعد مزید کارروائی کے لئے محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان گلگت کو پہنچ جانی چاہیں ۔

عوامی شمولیت کا یہ تصور اگرچہ کوئی نیا نہیں تاہم آفات کی پیش بندی منصوبہ جات میں مقامی لوگوں کا صلح مشورہ نا گزیر ہے ۔وہ علاقے میں وقوع پذیر ہونے والے مختلف حادثات و واقعات کا بہتر مخزن ہیں اور اسی طور پر بہترین راہنمائی بھی کر سکتے ہیں۔اسی اصول کو زیر نظر رکھتے ہوئے محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان نے عوام الناس سے ان کی مشاورت اور ان کی آراء بصورت تجاویز و قرارداد طلب کی ہیں ۔اسکیمات میں کسی قسم کی کوئی لسانی مذہبی علاقائی تفریق و تقسیم روا نہیں رکھی گئی ہیں ۔عوامی شمولیت کے پس منظر میں در اصل عوام کو اس سکیم کی نشاندہی سے لے کر اس کی تکمیل اور بعد ازاں اس کی ملکیت تک کے مرحلے میں شامل کرنا مقصود ہے ،تاکہ سرکار جب ایک دفعہ اسکیمات کی تکمیل کر کے عوام الناس یا مقامی لوگوں کے حوالے کرے تو وہ اسے اپنا اثاثہ سمجھ کر اس کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے سر لیں ۔گلگت بلتستان میں یہ پہلا تجربہ رہا اور بحمداللہ کامیاب رہا ۔جس کے ثمرات کو دیکھتے ہوئے محکمہ داخلہ نے امسال کے لیے بھی اس امر کی پالیسی منظوری دی ہے جو کہ خوش آئند ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام الناس بر وقت اپنے گاوں سطح کی دیہی تنظیمیں تشکیل دیں اور پوری ایمانداری سے علاقے کا جائزہ لیں اور اپنی تجاویز بصورت قرارداد ضلعی محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان (ڈپٹی کمشنرز) اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز برائے محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان، جو کہ ہر ضلع میں متعین ہیں ، کو پہنچا دیں ۔ تاکہ بروقت تحقیق و تفتیش اور مکمل تشفی و تسلی حاصل کر لینے کے بعد محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان ،گلگت دیگر قانونی مراحل کا آغاز کر سکے ۔تا ہم یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ ضلعی محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان (ڈپٹی کمشنرز) اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز برائے محکمہ انسداد و بچاو قدرتی آفات گلگت بلتستان،کو کلی قطعی اختیار ہو گا کہ وہ مجوزہ علاقوں کا دورہ کر کے کسی بھی مجوزہ سکیم کو منظور یا مسترد کریں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔