سوچ پر پہرے

تحریر: زُبیدہ یعسوب

اس ملک میں ایک عام لڑکی کو کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس بات کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا اور نہ ہی سمجھ سکتا ہے۔  اس کے پاس زندگی کو اپنے طریقے سے جینے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور نہ ہی مواقع ہوتے ہیں۔ایک عام سی لڑکی کو خواب دیکھنے کا، زندگی میں آگے بڑھنے کا کوئی حق نہیں۔ کسی عورت پر انگلی اٹھانا اور اس کے کردار، طور طریقوں پر تنقید کرنا بہت آسان ہوتا ہے جبکہ قوم ،معاشرے اور ملک کی عزت کو اس کے ساتھ منصوب کرنا ہم اپنا فرض اول سمجھتے ہیں۔

غربت، دہشتگردی، مضر بیماریوں اور بچوں سے مزدوری کرانے جیسے اہم مسائل پر غور فکر کرنے کی بجائے عورت کے کردار اور  اس کے افعال پر نظر ثانی کرنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ وہ کیا پہنتی ہے، کیسے چلتی ہے، کس سے بات کرتی ہے، بناوسنگھار  کرنا اور بلا اجازت گھر سے باہر قدم رکھنا جیسے افعال ہماری مخصوص توجہ کا مرکوز بنتے ہیں۔

پس ماندگی، غربت اور مسلسل ذلت کی زندگی سے نکل کر آگے بڑھنا چاہے تو انجام نام نہاد غیرت کے نام پر قتل یا سماجی انحراف کی صورت میں ملتا ہے۔  عزت اور غیرت، خواتین یا لڑکیوں کے ساتھ جوڑ کے ہم اس حد تک لے جاتے ہیں کہ مردوں کو  اس بات کی کھلی چھوٹ دی جاتی ہے کہ وہ جب چاہے اپنے گھر کی خواتین کو کسی بھی وجہ سے سزا دے سکیں اور غیرت مند کہلا سکیں۔ اور جہاں ان کی محدود عقل اور معتصب  بینائی کو لگے کہ ان کی عورتیں مردوں کے مقرر کردہ حدود کو پار کر رہی ہیں تو وہیں اُن کا گلہ گھونٹ کر مار دے۔ افسوس اس کا ہے کہ ایسے گھناؤنے افعال سرانجام دینے والے مردوں کو اپنی  اس درندگی  پر کوئی ندامت نہیں ہوتی، نہ ہی کوئی .مناسب سزا ملتی ہے کہ ایسے نام نہاد بہادری کے مظاہروں کی کوئی روک تھام ہو سکے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments