مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان اور بھٹکے لوگ

مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان اور بھٹکے لوگ

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: اسلم چلاسی

کشمیر وہ جنت ہے جس کو عالم کفر کا سر غنہ بھارت نے بدترین جہنم بنا رکھا ہے۔ جہاں مسلما نوں پر حیات تنگ ہے۔ جعلی پو لیس مقا بلوں میں نوجوانوں کے قتل عام معمول کا حصہ ہے۔ یہاں خوا تین کے عصمت دری کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ نا معلوم عقوبت خا نوں میں بہیما نہ تشدد اور پھر اجتماعی قبروں کے دریافت کشمیریوں کیلے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وادی کا کوئی ایسا گاؤ ں شہر یا قصبہ نہیں ہے جو گزشتہ ستر سالوں میں کشمیریوں کے لہو سے درجنوں مرتبہ نہ نہلا یا گیا ہو۔ کوئی گھر ایسا نہیں جس میں بھارتی غاصبوں کے ہاتھوں لاشوں کے تحفے نہ بھیجے گئے ہوں۔ کشمیری آزادی کے حصول کیلے گزشتہ ستر سا لوں سے لہو لہا ن ہیں۔ کشمیریوں کیلے آزاد ریاست کشمیراتنا اہمیت نہیں رکھتا جتنا کشمیر بنے گا پا کستان اہم ہے اور بھارت کے نزدیک کشمیریوں کا گناہ عظیم پا کستان کا یہی محبت ہے۔ جس کی وجہ سے بھا رت نے کشمیر کو جنت سے جہنم بنا دیا ہے۔ جس دن کشمیری متفقہ طور پر اپنے اس موقف کشمیر بنے گا پا کستان سے دستبردار ہو نگے اسی دن بھارت کشمیر کو مکمل داخلی خود مختاری دے سکتا ہے لیکن کشمیر ی مسلمان پا کستان سے جو ایمان کا رشتہ رکھتے ہیں وہ اتنا کامل و مستحکم اور دائمی بن چکا ہے کہ دنیا جہاں کے جدید ترین اسلحہ اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کے باوجود زرا برابر بھی متزلزل نہیں ہوا بلکہ آئے روز کشمیری جزبہ ایمانی کے نئے ولولے اور شوق شہادت سے سر شار ہوتے جا رہے ہیں۔ بھارتی غاصب کشمیریوں کو مار مار کے تھک چکے ہیں مگر کشمیری ما رکھا کھا کہ بھی تازہ دم ہیں اور کشمیریوں کی یہ قر بانی صرف اور صرف تکمیل پا کستان کیلے ہے ہم نے کشمیر کے آزادی کیلے تین جنگیں لڑی اس احسان کو جتاتے ہوئے ہم چوڑے ہو رہے ہیں مگر کشمیری گزشتہ ستر سالوں سے مسلسل حالت جنگ میں صرف اور صرف تکمیل پا کستان کی وجہ سے ہیں ہم نے تو صرف تین جنگیں کشمیر کیلے لڑی مگر جو ستر سالوں سے پا کستان کیلے ہر ہر لمحہ لڑتے ہیں ان کیلے ہم نے کیا کیا؟ محض اخلاقی حما یت پر امن مزاکرات منصفا نہ حل منٹ سما جت وغیرہ وغیرہ ۔با با صدیوں کے جان پہچان کے باوجود ابھی تک آپ کو دشمن کے نفسیات کا بھی علم نہیں ہوا جو لاتوں کے بھوت ہوتے ہیں وہ با توں کے بھا شہ کہاں سمجھتے ہیں پھر بھی آپ بات بات پر اپنی سمجھداری دیکھاتے ہیں اور اسی سمجھداری کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہیں اقوام متحدہ کے واضع قرار داد وں کے با وجود ابھی تک بھارت مسلہ کشمیر کو کوئی مسلہ ماننے کیلے تیار نہیں ہے ۔

جب ہم ستر سالوں سے کشمیر کو مقبو ضہ تسلیم کرانے میں ناکا م ہیں تو آیئندہ سو سالوں تک بھی ہم کوئی تیر نہیں مار سکتے کیو نکہ ہمارے کرتوت ہی کچھ ایسے ہیں ہم کھلم کھلا کشمیر کے اکایؤں کو چھیڑ رہے ہیں آئے روز پکیجیز کے نام پر مسلہ کشمیر کو مردہ سے مردہ کرتے جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان مسلہ کشمیر کا ایک اکائی ہے۔ وزیر اعلی، وزراء صوبائی کا بینہ ہمارا سفر گلگت بلتستان کے حوالے سے مکمل آینی صوبے کی طرف جا رہا ہے اور انقریب قومی اسمبلی میں نما ئندگی بھی ملے گی اور ہم پا کستان کے پا نچوہ صو بہ کے با سی کہلا ینگے ۔ جب ہم خود نہیں چا ہتے کہ مسلہ کشمیر حل ہو، خود ہی اپنے ہا تھ پا ؤ ں کا ٹ رہے ہیں، کل کو کیا کر سکتے ہیں ؟ جب گلگت بلتستان پا نچوا صوبہ بنتا ہے یہاں کی پوری عوام پا کستان کے پا نچواں انتظامی صوبہ کی شہری بن جا تے ہیں تو کیا کل کو رائے شماری میں کسی پا کستانی شہری کو رائے حق دہی میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو گا؟ جب گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے اور ہم پر امن مزاکرات سے آگے نہیں جا سکتے۔ ہم ہر صورت میں نام نہاد ادارہ اقوام متحدہ یا کسی تیسری ریاست کی ثالثی میں مسلہ کشمیر کا حل چا ہتے ہیں تو مسلہ کشمیر کے اکائیوں کو چھیڑ کر ہم کہیں کوئی غلطی تو نہیں کر رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جو تمھارے پاس ہیں وہ تم رکھو جو ادھر ہیں اس پر ہم گزراہ کرینگے۔ تب تو ٹھیک ہے اگر ہم اپنے کمزوری پر مایوس ہو گئے ہیں تو وادی وہ رکھینگے گلگت بلتستا ن اور مظفر آباد پر تم گزارہ کرو۔ لیکن خدا کیلے اپنے اس پالیسی کو واضع کرو اور کشمیریوں کو بھی آگا ہ کرو تا کہ بچا رے کشمیری اس آسرے پر بے موت نہ مر جا ئے ۔ یا پھر اگر ہم مزاکرات کے بھوت سے نکل سکتے ہیں اخلاقی حمایت سے آگے بھی کوئی شے پر نیت با ندھ سکتے ہیں تو بھی بسم اللہ کوئی مسلہ نہیں گلگت بلتستان تو کیا ہم سرینگر تک چھیڑ سکتے ہیں مگر ہاتھ با ندھ کر کچھ حا صل نہیں ہو سکتا اس کیلے دما غ کے ساتھ ہا تھ کا بھی استعمال ضروری ہے۔ چو نکہ بدقسمتی سے ہمارے پڑوس میں ایک ایسی قوم سے ہمارا پا لا ہے جو شرافت کی زبان سمجھتی ہی نہیں ہے جن کی تا ریخ ایسی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مقدس اور باقی سب کو خسو خا شاک تصور کرتی ہے اور یہ قوم صرف اور صرف سلطان محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری کے لہجہ کو سمجھتی ہے۔ ان کے اس گھمنڈ کو توڑنے کیلے اسلاف کی اس روایت کو دھرانے کے علاوہ کوئی اور حل نہیں ہے۔اگر وہ ہما رے لو گوں کو ہمارے خلا ف بڑھکا رہا ہے تو ہم کیوں ان کے تلوار سے ان کے سر نہیں اڑاتے ؟اگر وہ بلو چستان تک پہنچ سکتے ہیں تو ہم بھی خالصتان کے خیالات کو پروان چڑھا سکتے ہیں، ہم تا مل تحریک کو ہوا دے سکتے ہیں، ہم ماؤں اتحاد تک پہنچ سکتے ہیں، کشمیری مجا ہدین کیلے اخلاقی حمایت سے تھوڑا باہر آسکتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کر رہے ہیں نہ ہم ہمت کر سکتے ہیں نہ ہمیں حکمت کا گر آتا ہے ۔ اگر کشمیر پا کستان کا شہہ رگ ہے اور مائنس کشمیر کا ادراک ہمیں بخوبی ہے تو یقیناً ریاستی پالیسی میں یکسر تبدیلی کی ضرورت ہے وہ بھی انقلا بی اور ہنگامی تبدیلی کی ضرورت ہے چو نکہ جس طرح کشمیر کے حوالے سے مایوس کن مرکزی پالیسی ہے ٹھیک ایسی طرح گلگت بلتستان میں بھی مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ عوام یہ سمجھنے لگی ہے کہ مسلہ کشمیر کچوے کی رفتار سے محو سفر ہے اور ہم ستر سالوں سے بغیر شنا خت

کے زندہ رہ رہے ہیں کشمیر کے قسمت کا فیصلہ ہونے میں سو سال مذید درکار

کشمیر کے قسمت کا فیصلہ ہونے میں سو سال مذید درکار ہیں لوگ مایوس ہوچکے ہیں ایک طرف پر امن مذاکرات دوسرے طرف پھیکے تلسمات اور اپر سے وفاقی وزراء اور سنیٹرز کی طرف سے طنزیہ انداز میں گلگت بلتستان کو بے آیئن کہنا جلتی پر تیل کے مترادف ہے ظاہر ہے ستر سالوں سے مسلسل ایک قوم کشمیر کے نام پر قربانی دیتی آرہی ہے ان کی اس قر بانی کو قدر کے نگاہ سے دیکھنے کی بجائے طعنے ملینگے تو گلہ شکوہ تو ہو گا اور یہ گلہ گلگت بلتستان میں ایک بڑی تعداد کو ہے جس کا تزکرہ میں نے بارہا اپنے تحریروں میں کیا ہے معاشرے میں بیروزگاری ہے نوجوان سفارشی کلچر سے مایوس ہو چکے ہیں روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیے جارہے ہیں عوام کو تحفظ حا صل نہیں ہے لوگ منفی سر گرمیوں کی طرف جا سکتے ہیں مگر بد قسمتی سے نوٹس نہیں لیا گیا تو شائد کچھ لوگ غلط راستے پر چلے ہو نگے لیکن کوئی ایک علاقہ ایک کمیو نٹی یا ایک مخصوص قوم کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے ایسے بھٹکے لوگ ہر جگہ میں ہو سکتے ہیں اب بھی معاشرے کے اندر مایوسی ہے جس کا سد باب لازمی ہے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں گلگت بلتستان کے پندرہ لاکھ آبادی میں سو فیصد محب وطن لوگ ہیں جو پا کستان کو ایمان کا جز سمجھتے ہیں وہ پاکستان اور اسلام کو لازم ملزوم تصور کرتے ہیں اور کوئی مائے کا لعل پندرہ لاکھ محب وطن شہریوں کے مو جودگی میں ملک کاکچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے خاص کر ضلع غذر تو گلگت بلتستان میں ان محب وطن شہریوں کا زمین ہے جنھوں نے ملکی دفاع میں اپنے جانوں کے نظرانے پیش کیے ہر گھر میں ہر محلہ میں ایک شہید ہے کار گل سے بلو چستان تک ملک کیلے جو خدمات اس ضلع کی ہیں شائد کوئی اور قطعہ زمین ایسا ہو ۔اب ضرورت اس امر کا ہے کہ معا شرے میں پیدا ہونے والے ان تمام خرا فات کو لگام دینے اور سدباب کیلے اقدامات کی ضرورت ہے لوگ مر کز کے رویہ سے ما یوس ہو چکے ہیں جس کا اظہار اکثر و بیشتر عوامی اجتماعات میں ہوتا آرہا اب مسلہ کشمیر کو نقصان پہنچائے بغیر گلگت بلتستان کو سیاسی پزیشن بھی دینا لا زمی ہے اور مسلہ کشمیر کو بھی زندہ رکھنا ہے اب مر کز کیلے محض پندرہ لاکھ کی آبادی کو مطمئن کرنا کون سا مشکل کام ہے ؟گلگت بلتستان کے کل آبادی پنجاب کے ایک تحصیل کے آبادی سے بھی کم ہے اب یہ وفاق پر منحصر ہے کہ وہ صحت کشمیر کو متا ثر کیے بغیر گلگت بلتستان کے عوام کو کیسے اعتماد میں لیتا ہے؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔