تحریک انصاف کے حالیہ نوٹیفیکیشن پر ایک نظر

تحریک انصاف کے حالیہ نوٹیفیکیشن پر ایک نظر

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:محمد شریف رحیم آبادی

بظاہر کچھ موضوعات انتہائی عام فہم اور سادہ نظر آتے ہیں مگر اس پر بحث و مباحثہ اور اسے صفحہ قرطاس پرمنتقل کرنے کے لئے منتشر خیالات کو یکجا کرنے کے جو جتن کرنا پڑتا ہے ماہر لکھاری اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ کرنٹ معلومات سے آگاہی اور وسیع تجربہ کی بدولت انہیں کوئی مشکل نہیں ہوتی تا ہم مجھ جیسے کبھی کبھار لکھنے والوں کیلئے عنوان کی حساسیت کا خیال اور قارئین کی انٹرسٹ کا ملحوظ نظر رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ چلئے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔24جنوری2017 بہ روز منگل مرکزی قیادت تحریک انصاف پاکستان نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا جس کے مطابق راجہ جلال حسین مقپون کو تحریک انصاف گلگت بلتستان کے صدر، فتح اللہ خان جنرل سیکریٹری، شاہ ناصر کو سینیئر نائب صدر اور محمد تقی اخونزادہ کو سیکریٹری اطلاعات کی ذمہ داری دی گئی۔ نوٹیفیکیشن کے اجراء کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے مبارک بادی کے پیغامات سوشل میڈیا اور سیل فونز کے ذریعے بھیجے جانے لگے۔جس کی بازگشت بھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ پارٹی کے کچھ سینیئر رہنماؤں اور انکے ہم خیال گروپ اس فیصلے کے خلاف کھل کر سامنے آگیے۔ جن رہنماؤں کے موبائل نمبرز میرے پاس تھے ان سےرابطہ کرنے پر پتہ چلا کہ وہ اس فیصلے کو تبدیل کروانے کیلئے اسلام آباد میں موجود ہیں اور انکی ایک نشت نعیم الحق سے ہوچکی ہے مگر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ملاقات پانامہ کیسز کی مصروفیات کے باعث ممکن نہیں ہوسکا۔

مذکورہ رہنما اپنے تحفظات کے اظہار کیلئے تادم تحریر اپنی کوششوں میں مصروف ہیں۔دوسری طرف تحریک انصاف گلگت بلتستان کے اکلوتے رکن قانون ساز اسمبلی راجہ جہانزیب، نیکنام کریم، شیر غازی، غلام محمد، رحیم حیات خواجہ اور دیگر کارکنان نے مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو پارٹی کیلئے نیک شگون قرار دیا ہے۔اس صورتحال کا عمیق جائزہ لیتے ہوئے اپنے تجربات بالعموم قارئین اور بالخصوص تحریک انصاف کے کارکنان کے سامنے رکھونگا۔تحریک انصاف کی بنیادگلگت بلتستان میں صابر نامی نوجوان اور اسکے چند ساتھیوں نے رکھی تھی مذکورہ نوجوان نے تحریک انصاف کی پلیٹ فارم سے سینکڑوں ووٹ حاصل کئے تاہم مذکورہ پارٹی سے پہلے الیکشن لڑنے کا اعزاز اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ بعد ازاں حشمت اللہ خان سابق کنوینیئر گلگت بلتستان، عزیز احمد، فاروق احمد اور دیگر کارکنان کی ذاتی کاوشوں کی بدولت یہ پارٹی دوسری پارٹیوں کیلئے خطرہ بن گئی۔الیکشن کے دنوں میں مجھے یاد ہے پارٹی منشور سے متاثر عوام کی ایک بڑی تعداد پارٹی جوائن کرنے کیلئے پر تول رہی تھی مگر نئے ہونے کی وجہ سے الیکشن کنٹسٹ کرنے والے مضبوط کنڈیڈیٹس کا فقدان تھا۔اس وقت راقم نے کنوینیئر حشمت اللہ خان کوHead Hinting کی تجویز دی جس پر عمل کرتے ہوئے بہترین کردار اور شفافف ماضی کے حامل لیڈران سے رابطہ کیا گیا۔کامیابیاں بھی ہاتھ آئیں اور مایوسیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ پھر بھی فتح اللہ خان، آمنہ انصاری، راجہ جہانزیب ، مرزہ حسین جیسے نایاب ہیرے اس پارٹی کی لڑی میں پروئے گئے۔الیکش کے دنگل میں ٹکٹسں تاخیر سے ملنے کے باؤجود مخالفین کو ٹف ٹائم دیا گیا۔کچھ حکومتی ناانصافیاں اور وسائل کی کمی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں حائل رہیں۔اگلے الیکشن تک سابقہ کمزوریوں اور غلطیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی کو منظم اور فعال بنانے کی ضرورت تھی مگر آثار مخالف ہواؤں کا پتہ دے رہے ہیں کارکن تذبذب کا شکار ہیں۔وقت ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے۔اپنے رویوں میں سنجیدگی لائیں۔ہوسکتا ہے کوئی اور آپکی جگہ لے جوعزت آپکو اس پارٹی نے دی ہے اور جو مقام پر آج ہیں وہ نہ رہے کیونکہ کوئی ادارہ یا پارٹی کسی ایک فرد کی وجہ سے نہیں چلتی بلکہ سسٹم قوائد و ضوابط اور خلوص مضبوطی کی ضامن ہوتی ہیں۔ کاش اختلافات ان ہاؤس حل کئے جاتے اور اپنے ڈیمانڈز کا اظہار اعلیٰ قیادت تک ہی محدود ہوتے تو مجھے آج کا کالم تحریر کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔پارٹی اختلافات کو میڈیا میں اچھالنا نہیں چاہئے تھا۔پارٹی پالیسی کا تقاضا بھی یہی ہے۔چونکہ مرکزی قائد جہانگیر ترین کی دستخطوں سے نوٹیفیکیشن جاری ہوچکا ہے اس پر من و عن عمل کرنا تحریک انصاف کے سٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے۔اگر اس فیصلے سے کسی کو اختلاف ہے تو جمہوری انداز میں لاجک کو ملحوظ رکھتے ہوئے تمام کارکنان کی رائے کو اہمیت دیں چونکہ مرکزی قائدین نے کافی سوچ و بچار اور مشاورت کے بعد نوٹیفیکیشن جاری کیا ہوگا۔ اب مجھے لگتا ہے کہ اس میں کلی یا جزوی تبدیلی کی گنجائش مرکزی قائدین کے پاس بھی نہ بچا ہے۔البتہ خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ قیادت دیگر رہنماؤں کے ساتھ بھی انصاف کرسکتی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔