چلاس: بٹوگاہ دو میگاواٹ ہائیڈرو پاور ہاؤس کا ٹینڈر تین ماہ گزرنے کے باوجود اوپن نہ ہو سکا

چلاس: بٹوگاہ دو میگاواٹ ہائیڈرو پاور ہاؤس کا ٹینڈر تین ماہ گزرنے کے باوجود اوپن نہ ہو سکا

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس (ڈسٹرکٹ رپورٹر ) چلاس کے علاقے بٹوگاہ میں دو میگاواٹ ہائیڈرو پاور ہاؤس کا ٹینڈر تین ماہ گزرنے کے باوجود اوپن نہ ہو سکا ۔ محکمہ برقیات نے بٹوگاہ نالے میں اٹھارہ کروڑ روپے کی لاگت سے 2میگاواٹ پاور ہاؤس بنانے کیلئے تین ماہ قبل ٹینڈر طلب کیا تھا لیکن ابھی تک ٹینڈر اوپن نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے جہاں ایک طرف ٹھیکیداروں کے کروڑوں روپے پھنسے ہوئے ہیں تو دوسری طرف چلاس شہر میں بجلی کا منصوبہ تعطل کا شکار ہو گا جس سے بجلی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے اعلانات ہوائی ثابت ہوں گے۔ محکمہ برقیات دیامر کے تمام ٹینڈرز گلگت میں کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے بھی محکمہ برقیات دیامر اور عوام اور ٹھیکیداروں کو بھی سخت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوامی ، سیاسی اور کاروباری حلقوں نے کہا ہے کہ دو میگاواٹ پاور ہاؤس کا ٹینڈر جلد اوپن کر کے کام شروع کیا جائے تاکہ آنیوالی گرمیوں میں عوام لوڈشیڈنگ کی اذیت سے بچ سکیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔