کرگل اور لداخ کے علاقوں میں بٹے ہوئے خاندان میں رابطوں کی بحالی پاک بھارت مذکرات کی بحالی سے مشروط ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ

کرگل اور لداخ کے علاقوں میں بٹے ہوئے خاندان میں رابطوں کی بحالی پاک بھارت مذکرات کی بحالی سے مشروط ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اسلام آباد (فدا حسین ) دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا نے کرگل اور لداخ کے علاقوں میں بٹے ہوئے خاندان میں رابطوں کی بحالی کو پاک بھارت مذکرات کی بحالی سے مشروط قرار دیا ہے۔اسلام آباد میں ہفتہ وارنیوز بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یکم مارچ کو اقتصادی تعاون تنظیم کےاجلاس کے لئے اکثر ممبر ممالک نے شمولیت کی یقین دہائی کرائی ہے۔ ترجمان کے مطابق اجلاس کا اہم مقصد ممبر ملکوں کے درمیاں روابط کو فروغ دینا ہے۔نفیس ذکریا نے بتایا کہ کہ امریکی سفارتخانے نے واضح کیا ہے کہ ویزہ پابندی کا اطلاق پاکستان پر نہیں ہو گا۔کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کا سلسلہ عروج پر ہے جبکہ لائن آف کنٹرول پر بھی بھارتی افواج کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ترجمان نے افغانستان میں ہلال احمر کے چھ ملازمین کی ہلاکت کی بھی مذمت کی۔

کرگل لداخ میں بٹے ہوئے خاندانوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس وقت کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہورہے ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی مسئلے پر پیش رفت نہیں ہو رہی ۔ترجمان کا کہناتھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا مسئلہ ہے۔بھارت کا روایہ دو طرفہ مذکرات کی بحالی حوالے سے کبھی بھی مثبت نہیں رہا ہے۔اور پاکستان بھارت کے اچھے ہمسائے کی طرح رہنا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ کرگل اور لداخ کے علاقوں میں 1971میں ہونے والی جنگ میں بہت خاندان ایک دوسرے سے جدا ہوگئے تھے ۔جس میں ماں اور بیٹے کے درمیان جدائی ، میاں بیوی کے درمیان جدائی اور بہن اور بھائی کے درمیان جدائی ہوئی۔ مذکورہ علاقے کے لوگوں کے مطابق اکثر جدائیاں تو اب بھی برقرار ہے۔جس کی طرف قومی اور بین الاقوامی میڈیا نشاندہی کرتا رہتا ہے۔معاصر انگریز ی میگزین ماہنامہ ہیرالڈ کے گزشتہ سال کے ایک شمارے کے مطابق اور اس وقت جدا ہونے والے خاندان لوک گیتوں کو ابلاغ کا ذریعہ بناتے ہیں۔ گزشتہ سال لداخ سے ایک شخص اپنے والد سے ملنے سکردو پہنچے تو بی بی سی اردو نے اپنی خبر شہ سرخی یہی لگائی تھی چار گھنٹے کا سفر 44سال میں طے ہوگئے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔