اے گنبد خضراء

اے گنبد خضراء

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: ایس ایم شاہٍ

ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مسلمانان عالم  پورے سال میں بالعموم اور ایام حج میں بالخصوص  مدینہ منورہ کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں بہت ساری تاریخی مساجد اور مقامات کے علاوہ  پیغمبر اکرم ؐ کے والد گرامی ،  آپ کی والدہ ماجدہ،  ائمہ کرام، زوجات النبی اور اصحاب کرام کے مقابر بھی ہیں۔ مدینہ منورہ پہنچتے ہی  گنبد خضری کو دیکھ کر دل کو چین اور ذہن کو سکون ملتا ہے۔بہت ساری امیدیں دل میں لیے، اپنے کیے کی توبہ کرنے کی غرض سے  غسل کرکے اجلے ملبوس میں اور خوشبو سے معطر ہوکر اپنے محبوب کی ضریح سے اپنے گناہ گار بدن کو مس کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ مسجد نبوی کی تعمیر بھی جدید طریقے سے بہت دلکش انداز بھی کی گئی ہے۔صحن حرم  میں ٹائلوں کی چمک سے ایسے لگتا ہے کہ گویا سورج یہاں سے طلوع کر رہا ہو۔ جاپانی انجینیروں کے ذریعے لگائی گئی خوبصورت طرز کی چھتریوں کا طلوع  آفتاب کے  ساتھ ہی کھل جانا اور غروب آفتاب کے ساتھ سمیٹ جانا بھی بہت ہی دلکش ہے۔حرم پاک کے چاروں طرف  آپ کو حرم میں داخل ہونے کےلیے گیٹ ملیں گے۔ صاف ستھرے باتھ رومز بھی فراہم ہیں۔ اکثر حاجی ہوٹلوں سے ہی باوضو ہوکر جاتے ہیں۔ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری جگہوں پر دس ہزار نمازوں سے بہتر ہے جبکہ مسجد الحرام میں پڑھی جانی والی نماز ایک لاکھ نمازوں سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔(1)

نوے فیصد سے بھی زیادہ مسلمان آج بھی رسول اللہ کو  ویسے ہی اپنے لیے شفیع سمجھتے ہیں  جیسے آپ قید حیات میں تھے۔   آپ کو مسجد نبوی کے اندرونی دروازے پر پہنچتے ہی ایک  چمکدار اور خوبصورت دروازے پر باب جبریل دکھائی  دے گا۔ ساتھ ہی ہر دروازے پر آپ کو  کوئی پولیس یا سفید کپڑے پر سرخ دانے دار شال مخصوص انداز میں   ایک کالا عربی حلقہ بندسروں پر رکھے لمبے لمبے جبّے پہنے مولوی حضرات دکھائی دیں گے۔جونہی آپ اپنی عقیدت کا اظہار کرنے کے لیے اس در کا  بوسہ لینے کی غرض سے آگے بڑھیں گے  تب یہی افراد آپ کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آئیں گے، ساتھ ہی یہ بھی کہیں گے کہ یہ بدعت ہے شرک ہے اس سے اجتناب کرو۔ جب آپ مسجد کے اندر داخل ہوجائیں گے تو رحمت عالم کی قبر اطہر کے سامنے پہنچ جائیں گے، آپ  یہی حال وہاں بھی نظارہ کریں گے، ضریح مبارک کے کناروں اور وسط میں آپ انہی افراد کے ساتھ پھر روبرو ہوں گے۔ لوگوں کی قبر رسول تک رسائی کو روکنے کے لیے آپ ہر طرف گرل کا بھی مشاہدہ کریں گے جو تقریبا ضریح کے ارد گرد ڈھائی فت تک کے فاصلے پر لگے ہوئے ہیں۔ آپ جب رسول کی وساطت سے دعا کے لیے ہاتھ بلند کریں گے تو وہ آپ کو اشارہ کریں گے دعا صرف خدا سے مانگو! رسول کی وساطت  سے مانگنا شرک ہے۔ جب آپ اپنی عقیدت سے ضریح کی طرف ہاتھ بڑھانے کی کوشش کریں گے تو وہ آپ کے ساتھ سختی سے نمٹنا شروع کریں گے کہ یہ کام مت کرو  یہ بھی شرک  اور بدعت ہے، اس وقت مجھ جیسے ایک عام مسلمان کے دل پر یہ  بات گزرتی ہے  کہ ہم روزانہ دسیوں بار اپنے بچوں کا بوسہ لیتے ہیں مشرک نہیں ہوتے، بزرگوں کا ہاتھ چومتے ہیں مشرک نہیں بنتے، اپنے عزیزوں سے دعا کی التماس کرتے ہیں دین سے خارج نہیں ہوجاتے، خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والوں کو قرآن بھی زندہ قرار دیتا ہے، “(2) اور جو لوگ راہ خدا میں مارے گئے ہیں قطعاً انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس سے رزق پا رہے ہیں۔”(2) تو کیا میرا رسول ہماری ظاہری انکھوں سے اوجھل ہوجانے کے بعد ایک عام شہید سے بھی کمتر ہوجاتا ہے کہ اسے ہم نعوذ باللہ مردہ کہہ دیں۔  خود قرآن کہتا ہے کہ “اور ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس لیے بھیجا ہے کہ باذن خدا اس کی اطاعت کی جائے اور جب یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھتے تھے تو اگر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا پاتے۔”(3) ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کہیں میں خواب میں تو  اس منظر کا مشاہدہ نہیں کر رہا۔ نہ آپ کو دعا مانگنے دیں گے۔ اگر عشق رسولؐ میں آپ آنسو بہانا شروع کریں تو وہ دوبارہ آپ پر بھرس پڑیں گے، دوبارہ شرک کے نعرے بلند کریں گے۔ نہ آپ کو جی بھر کے رونا نصیب ہوگا نہ وصال کے لمحوں میں اپنے محبوب سے لو لگانے کی مہلت دیں گے۔ آپ اگر ان سے معمولی بحث کرنے لگ جائیں تو جونہی وہ لاجواب ہوجائیں گے  فورا پولیس بلاکر آپ کو جیل بھیج دیا جائے گا۔یہ میں کسی کی دشمنی میں کسی  خاص مکتب فکر  کی کتاب سے نقل نہیں کررہا بلکہ اپنا انکھوں دیکھا حال بیان کررہا ہوں جس کے لاکھوں مسلمان گواہ ہیں۔آپ اس وقت سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ بالفرض آج یہ پاکیزہ مسجد کسی غیر مسلم ملک میں بھی ہوتی تب بھی ہمارے ساتھ ایسی سختی نہ بھرتی جاتی جو آج کل آل سعود کے کارندے اور وہابی مکتب فکر کے تنگ نظر مولوی ہمارے ساتھ برت رہے ہیں۔  ضریح کے سامنے “ریاض الجنّہ” بھی ہے۔ یہ درحقیقت وہی محراب عبادت ہے جہاں حضور نماز کی امامت کیا کرتے تھے  اور مسلمانوں کو درس دیا کرتےتھے۔ اسی جگه نماز پڑھنے کی اسلامی روایات میں کافی تاکید ہوئی ہے۔یہاں ہمیشہ  نمازیوں کا رش رہتا ہے۔(جاری ہے)

  1. ibrahimamini.com

  2. نساء/64

  3. آل عمران/169

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔