یارخون روڑ پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی، بروغل تک سڑکیں پیدل چلنے کے بھی قابل نہیں، میر صاحب بیگ

یارخون روڑ پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی، بروغل تک سڑکیں پیدل چلنے کے بھی قابل نہیں، میر صاحب بیگ

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (نذیرحسین شاہ )ممبرتحصیل کونسل یوسی یارخون میرصاحب بیگ نے ایک اخباری بیان میں کہاہے کہ برفباری کے بعد کئی دن گزرنے کے باوجود یارخون روڈ پرابھی تک کوئی توجہ نہیں دیا ژوپوسے بروغل تک تمام روڈزپیدل چلنے کے قابل نہیں ہے تقربیا40اینچ سے زیادہ برف پڑی ہے صفائی اور بحالی کے کام ابھی تک شروع نہیں کیاگیاہے جس کے باعث لوگ مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اپر یارخون کے لوگ جس طرح محصور ہو چکے ہیں، ان کا رابطہ مستوج چترال شہر سے بحال کرنے کیلئے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں کیاہے۔انہوں نے کہاکہ اپریارخون میں شدید برفباری کی وجہ سے زندگی مفلوج ہو چکی ہے، لوگ موت و حیات کے کشمکش میں ہیں، سردی کی وجہ سے مختلف بیماریوں نے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ،علاج نہ ہونے کی وجہ ہلاکتوں کا خدشہ ہے اور بروغل کو جانے والے راستے میں کئی مقامات پر برف کے بڑے بڑے تودے گرے ہیں اس لئے علاقے میں خوراک کی شدید قلت ہونے کاخطرہ ہے۔

انہوں نے صوبائی حکومت اورضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ یوسی یارخون کے تمام لنک روڈز کی صفائی اوربحالی کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ لوگوں کے مسائل حل ہوسکیں اور 2015کے سیلاب میں تباہ شدہ دربندسے بروغل تک سڑکوں کے ملبے ابھی تک سڑکوں پر پڑے ہوئے جس کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے آمدرفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اورمسافرجان ہتھیلی پر رکھ کرسفرکرتے ہیں۔

انہوں نے مزیدکہاکہ 2015کے سیلاب سے تباہ شدہ پترانگاز،اناوچ،دیوسراورگرم چشمہ بروغل کے پلوں کی بحالی پر اب تک کام شروع نہیں ہواجس سے علاقے کے لوگوں کے آمد روفت اورطلباء وطالبات کی سکول آنے جانے میں بہت دشواریوں کاسامناہے۔انہوں نے کہا صوبائی حکومت کوچاہیے کہ ایسے حالات میں باہمی مشاورت اور رابطہ کاری کے تحت حالات پر قابو پانے اور لوگوں ریلیف دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چترال میں گذشتہ کئی سالوں سے قدرتی آفات آتے ہیں۔ لیکن ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں کیاہے۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔