دیا مر میں دیرینہ دشمنیوں کے بنیادی اسباب(۴)

دیا مر میں دیرینہ دشمنیوں کے بنیادی اسباب(۴)

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر۔اسلم چلاسی

پرانے زمانے میں دشمنیاں قدرے آسان تھی۔ لوگوں کے ضروریات محدود تھے۔ وسائل بھی خوراک کے حد تک درکار ہوتے تھے۔ ہتھیار کے طور پر تیر و تلوار زیادہ سے زیادہ ،بدرم،اور ،، پتئی،،جیسے ہتھیار ہوا کرتے تھے جن سے بچاؤ بھی ممکن تھا ۔ چو نکہ ان ہتھیاروں کو استعمال کریں تو آواز پہلے پہنچتی تھی اور گولی بعد میں جس سے باآسانی اپنے آپ کو بچایا جاسکتا تھا ۔ ،،بدرم ،،تو ایک ایسی بندوق تھی جس کی لمبائی پانچ ہاتھ ہوا کرتی تھی۔ بھاری اتنی تھی کہ اس کو اٹھانے کیلے اچھی خاصی صحت در کار ہوتی تھی لیکن،،پتئی ،،اپنے دور کے حساب سے جدید ہتھیار ہوا کرتی تھی جو قدوقامت کے ساتھ وضع قطع میں بھی بہتر تھی لیکن بدقسمتی سے اس زمانے میں بھی دیامر میں دیرینہ دشمنیاں ہوتی تھی۔ چالیس کے دہائی میں جب میجر الیگزنڈر براون چلاس ایجنسی میں اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ تھا تو وہ اپنے ڈائری میں دیرینہ دشمنیوں کا ذکر کرتے ہیں اور ان دشمنیوں کے بنیادی اسباب تین چیزوں کو گردانتے جن کا تزکرہ حصہ اول اور حصہ سوئم میں ہو چکا ہے۔ جیسا کہ ،،زن،،زر،،اور،،زمین،،،اس زمانے میں سو فیصد دشمنیاں ان تین چیزوں پر ہوتی تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ اسباب وسائل ضروریات کا دائرہ بڑھتا رہا۔ دشمنیوں کے وجوہات کا دائرہ بھی ترقی کرتا گیا۔ پہلے بہت بڑی بات ہو تو دشمنی کی نوبت آتی تھی اب تو بات بات پر دشمنی بن جاتی ہے۔

جس طرح دنیا نے سائنسی ایجادات میں ترقی کیا ا سی طرح ادھر دشمنیاں پروان چڑی۔ اب یہاں دشمنیوں کے دو اقسام ہیں، ایک وہ دشمنیاں جو قتل غارت گری ہوئی یا ہورہی ہیں اوردوسری وہ ہے جو اب سردجنگی کے ما حول میں ہیں اورآہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہیں، خلش موجود ہیں آپس میں توں تکرار بھی ہو گیا ہے، بات گالم گلوچ تک پہنچی ہے یا پہنچنے والی ہے، ایک دوسروں کو برا بھلا کہا جا رہا ہے، منافقین بھی درمیان میں داخل ہو چکے ہیں ،دونوں طرف سے طول دیا جا چکا ہے، فریقین کو حق بجانب فرشتہ صفت کے خطابات بھی مل چکے ہیں، روایتی انداز گروپ بندیاں بھی ہو گئے ہیں، ما حول مکمل طور پر جارحانہ بنا یا جا چکا ہے، ایک دوسروں کو آنکھیں دیکھا رہے ہیں۔ یہ دشمنی کی دوسری قسم ہے اورصرف گولی نہیں چلی ہے باقی دشمنی ہے، ایک مسجد میں نماز نہیں پڑتے، ایک محفل میں ایک دوسروں کو برداشت نہیں کرتے، کسی کے شادی بیاہ، غم خوشی میں ایک فریق جاتی ہے تو دوسرے کو مخالف فریق کی آمد کا اطلاع ہو تو وہ نہیں جاتے، راستے میں ملتے ہیں تو سلام نہیں کرتے۔ حتی کہ عوامی اور دینی مجالس اور اجتماعات میں بھی ایک ساتھ شرکت نہیں کرتے ہیں۔ یہ دوسری قسم کی دشمنی دو چیزوں پر ہی بنی ہے، اس کے پیچھے یا تو ،،زر،، ہے یا پھر،،زمین،،۔ کسی نے کسی کی جا ئیداد چھین لی ہے یا مقدمہ دائر کیا ہو یا پرانے زمانے کی چپقلش کو منا فقین کی طرف سے نیا رنگ دیا گیا ہو یا کوئی چرا گاہ جنگل کا مقدمہ ہو یا کوئی آپس میں لڑائی ہوئی ہو پانی بند کیا گیا ہو یا راستے کا کوئی مسلہ ہو۔ معا ملہ اتنا بڑا نہیں ہوتا مگر زد اور بغض سے انا کا مسلہ بنا ہوا ہے۔ اگرچہ قتل و غارت نہیں ہوا مگر سرد جنگی کے طور پر نوبت قتل و غارت گری کا ہے۔ مقامی سطح پر اس کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا، دشمنی صرف قتل کر کے کسی کو ہلاک کرنے کو کہتے ہیں۔ لیکن میرے نزدیک یہ بھی دشمنی کی ایک قسم ہے۔ چونکہ جتنے بھی دشمنیاں آج موجود ہیں یا اپنے انجام کو پہنچی ہیں ان سب کے شروع میں ایسا ہی سردجنگی کا ماحول تھا اور ایسے ہی عوامل کار فرما تھے۔ سابقہ اور موجودہ اٹھانویں فیصد دشمنیاں اسی طرح ہی شروع ہوئی ہیں۔ میں نے پہلے بھی ذکر کیاہے کہ اٹھانویں فیصد دشمنیاں کوئی خاص وجہ سے ہی ہوتی ہیں۔ بے وجہ صرف دو فیصد دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ باقی اٹھا نویں فیصد میں قاتل اور مقتول میں کسی ایک کی ہٹ دھرمی کار فرما ہوتی ہے۔ بہت زیادہ تو ظلم پر انتقام کی صورت میں یا بار بار نظر انداز کرنے پر بن جاتی ہیں۔

کچھ بلائنڈ مرڈر کے بعد صورتحال عجیب رخ اختیار کرتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ رات کی تاریکی میں کوئی قتل ہوا۔اب ہر بندہ اپنے مخا لف کو اس میں ملوث کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر مقتول کے لواحقین کسی ایسے شخص کی بات کو سچ مان کر کوئی قدم اٹھاتے ہیں جس سے کسی بے گناہ کے ساتھ زیادتی تو ہو ہی جاتی ہے مگر پھر ایک نہ ختم ہونے والا دیرینہ دشمنی کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے جس سے کئی قیمتی جا نے بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ ابھی دیامر میں ایک سلسلہ عجیب و غریب چل نکلا ہے اگر کسی کا جانی و مالی نقصان ہو جاتا ہے تو ہزاروں روپے فیس ادا کر کے کتے لائے جا تے ہیں۔ اب کتا پہلے جا ئے وقوع پر لیے جاتے ہیں پھر کتا آگے ہوتا ہے اس کا گائیڈ پیچھے چل کر داستان گڑنا شروع کر دیتا ہے۔ ادھر آکر چور یا قاتل کھڑا ہوگیا ادھر بیٹھ گیا پھر نیچے دیکھا پھر آسمان کی طرف دیکھا پھر چلتے چلتے رک گیا چلتے چلتے کسی کے گھر میں گھس جائے تو شامت آگئی۔ اب کتا دیکھے اس کا کام دیکھے اور اس پر یقین کر کے کسی کے جان لینا یا مورد الزام ٹھہرانا کہاں کا انصاف ہے؟ اس کتے کی وجہ سے بھی کئی قیمتی جانیں ضا ئع ہوچکی ہیں لیکن اب علاقے کے ہمدرد پڑھے لکھے انتہائی اہم اور اچھے شہرت رکھنے والے انسانیت دوست سماجی اتحاد سونی دیامر کے نام سے سامنے آئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ حضرات سماج کے اندر موجود خرافات کا خاتمہ کرنے کیلے اپنے تمام تر کوششیں جاری رکینگے اور بہت جلد دیامر امن کا گہوارہ بن جائے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔