کوہستان: لوئر کوہستان کے کسی بھی علاقے کو اپر کوہستان میں شامل نہ کیا جائے، 80 رکنی کمیٹی

کوہستان(نامہ نگار) کوہستان اپر سے80 رکنی کمیٹی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوئر کوہستان کے کسی بھی علاقے کو اپر کوہستان میں شامل نہ کیا جائے، خیبر پختونخواہ حکومت عدالت عالیہ کے فیصلے پر من وعن عمل کرے۔ اسی رکنی کمیٹی کے امیر قاری محمد سعید نےپشاور جاتے ہوئے میڈیا کو بتایاکہ کوہستان کے مشران نے اس عزم کا اعادہ کیاہے کہ وہ ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کریں گے ۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک سے ملاقات طے ہے جہاں کوہستان کے مشران اپنی عوام کا موقف پیش کریں گے ۔ قاری سعید کا کہنا تھا کہ آج وزیراعلیٰ سے ملاقات میں اس بات پر زور دیاجائے گا کہ صوبائی حکومت کے جاری کردہ نوٹیفیکشن میں کوئی ردوبدل اور ممکنہ علاقوں کا انضمام نہ ہو۔ کمیٹی ممبر عبدالجبار کا کہنا تھا کہ مشرقی و مغربی کوہستان کا نعرہ لگانے والے عوام میں تعصب پھیلارہے ہیں ، سیو اور کندیا کے لوگ جالکوٹ اور شیناکی کے لوگوں سے کبھی جدا نہیں ہوسکتے۔ حاجی فضل الرحمن نے بتایا کہ جے یو آئی (ف) کے ایم پی اے مولانا عصمت اللہ کوہستان میں بننے والے میگاپروجیکٹ ، بلدیاتی انتخابات اور علاقائی ترقی کے خلاف ہیں ۔ اُن سے تحریک انصاف کی ترقی ہضم نہیں ہورہی کیونکہ 2015سے پاکستان تحریک انصاف کوہستان میں سیاسی گڑھ بن چکی ہے ۔ دوغلا پن کی انتہا یہ ہے کہ مولانا لوئر کوہستان ایشو پر عدالت سے ناکام ہونے کے بعدوزیراعلیٰ پرویز خٹک کے سامنے مگر مچھ کے آنسو رورہے ہیں جس کی کوہستانی قوم مذمت کرتی ہے ۔

پریس کانفرنس سے ملک محمد ولی خان ، ملک حیدر ، ملک ودود، ملک سر مختیار، ملک قدم خان ، قاضی محمد رحمان ، میر غزن سکندر، اقبال خان تیال ، حاجی ستبر شاہ، مولانا ولی اللہ ، حاجی زرنوش ، ملک سیراج ، احسان الحق ، عبدالجبار، حاجی فقیرشاہ، سرنزیب ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments