جون ایلیا ۔۔۔۔۔۔  ایک عظیم شاعر

جون ایلیا ۔۔۔۔۔۔ ایک عظیم شاعر

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عباس کامل چھٹ پا

زندانیان شام وسحر خیریت سے ہیں شاعر تو دو ہیں میر تقی اور میر جون ہر لمحہ جی رہے ہیں مگر خیریت سے ہیں باقی جو ہیں وہ شام وسحر خیریت سے ہیں

؛جانی جی نہ میں جون ایلیا ہوں نہ حضرت جون ایلیا ہم تو کچھ بھی نہیں ہم شاعر ہی نہیں ہے ؛یہ وہ باتیں ہیں جو ایک عظیم شاعر ،محقق ،فلسفی اور مفکر اپنے مشاعرے کے آغاز میں کیا کرتے تھے

بالکل اسی طرح میں نہ تو شاعر ہوں نہ ادیب، نہ دانشور،نہ فلسفی اور نہ ہی کوئی علمی شخصیت آج تک گھر میں کاپی پہ کچھ نہیں لکھا لیکن آج کانپتے پاؤں اور لرزتے ہاتھوں کے ساتھ جون ایلیا جیسے عظیم شخصیت کی حالات زندگی او ر ان کی انمول شاعری کے بارے میں کچھ لکھنے بیٹھ گیا ہوں میں جانتا ہوں مجھ جیسا انجان لاعلم ان کی زندگی اور علم و ادب کا احاطہ نہیں کر سکتا لیکن ان سے محبت اور عقیدت کا اظہار اپنے ٹوٹے پھوٹے انداز میں بیان کرنے کا حق رکھتا ہوں اسی عقیدت اور محبت کے جذبے کو اپنے انداز میں تحریر کرنے کا فیصلہ کر لیا گو کہ جون ایلیا کو کون نہیں جانتا لیکن جس زاوئے سے میں نے پڑھا ،دیکھا اور سنا وہ باتیں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں دوران سخن اگر میں علم و ادب کی سیڑھی کو برقرار نہ رکھ پا ؤں تو روح جون اور ان کے چاہنے والوں سے معذرت چاہوں گا سید جون ایلیا14 دسمبر 1931کو بھارت کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے ان کا گھرانہ اس وقت امروہی میں علم و ادب کا خزینہ سمجھا جاتا تھا کیونکہ ان کے والد علامہ شفیق حسن ایلیا اپنے زمانے کے اونچے پائے کے عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست شاعر ،محقق اور فلسفی بھی تھے علامہ شفیق حسن ایلیا کے تین بیٹے تھے جن میں رئیس امروہی ،سید محمد تقی اور جون ایلیا شامل ہیں انہوں نے ایک عالم باعمل ہونے کا ثبوت اپنے بچوں کی بہترین پرورش اور اعلیٰ درجے کی تعلیم و تربیت کے ذریعے دنیا کو دکھایا تینوں بیٹوں نے بھی باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خوب نام کمایا رئیس امروہی اور سید محمد تقی نے صحافت کے میدان میں اپنی شناخت کرایا توجون ایلیا نے علم و ادب کے میدان میں قدم جمانے کا فیصلہ کیا۔جون ایلیا بچپن ہی سے ایک حساس شخصیت کے حامل انسان تھے ہر چیز کو مختلف زاویوں سے دیکھنا ان کا شوق نہیں فن تھا انہوں نے پہلا شعر8سال کی عمر میں لکھا اور رفتہ رفتہ ادب کے میدان میں لوگوں کے دل کی دھڑکن بن گئے وہ ایک شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم فلسفی بھی تھا انہیں پانچ مختلف زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا جن میں اردو ،انگریزی ،فارسی،سنسکرت اور عبرانی شامل ہیں جون ایلیا 1958میں ہندوستان سے پاکستان منتقل ہوئے اور باقاعدہ شاعری کا آغاز پاکستان میں شہر کراچی سے شروع کیا وہ ایک روشن خیال اور کھلی ذہنیت کے مالک تھے اور وہ د وسرے شاعروں سے بہت ہی مختلف دکھائی دیتے ہیں جس کا اظہار انہوں نے اپنے اشعارکے ذریعے عام آدمی تک پہنچائے ۔جون کی شاعری کے بہت سارے پہلو قارئیں کو دیکھنے کو ملتی ہے لیکن ان سب کا یہاں احاطہ کرنا ممکن نہیں اور نہ ہی میرے پاس اتنا علم ہے کہ یہ سب بیان کر سکوں ۔بحرحال اگرہم اردو شاعری پر نظر دوڑائیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے میر اور غالب کی شاعری سے اہل علم کافی متاثر نظر آتے ہیں وہی کچھ لوگ جون ایلیاکو میر اور غالب کے ہم پلہ شاعر سمجھتے ہیں خیر وہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جون ہی وہ واحد شاعر ہیں جس نے اردو شاعری کو نئے انداز میں پیش کی جون کی شاعری میں ایک الگ امتزاج ہے جس میں قارئیں کو شاعری کے مختلف رنگ دکھائی دیتے ہیں جس میں وہ کبھی اپنے چاہنے والوں سے انتقام لینے کی بات کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو مجھے نہیں لگتا کہ کسی دوسرے شاعر نے اپنی شاعری میں اس قسم کی روایات ڈالی ہوجون ایلیا کی شاعری اس دائرے سے نکلی ہوئی شاعری ہے جس کے اندر باقی شعراء قید سخن نظر آتے ہیں جون نے شاعری کی وہ حدیں اور وہ روایات توڑ دی جو کہ ایک شاعر اور ادیب کے لئے اس حد کو پار کرنا آسان نہیں ہوتا مگر جون نے وہ کر کے دکھایاانہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اس سے پہلے کے شعراء کیا کہہ گئے ہیں اور اس کے بعد آنے والے شعراء ان کے بارے میں کیا کہیں گے وہ اپنی منزل کی طرف بڑھتا گیا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے جون ایلیا کی شاعری تو دوسروں سے مختلف ہیں ہی لیکن ان کا انداز بیان ان کی شاعری سے بھی مختلف نظرآتے ہیں جب وہ کسی مشاعرے میں شرکت کرتے تو تالیوں کی گونج ،جون جون اور قہقہے کی آوازیں فضا میں بلند ہونے لگتے اور ان کے انداز بیان کو شرکاء بھی خوب انجوائے کرتے خاص کر مشاعرے کے دوران اپنے ساتھیوں کو آواز لگانا ، سر پیٹنا ،سگریٹ کا کش لگانا،رونے کی شکل بنانا اور بالوں کو بار بار ہاتھ لگانا یہ وہ انداز سخن تھے جسے دیکھنے کے لئے لوگ میلوں کا سفر کر کے ان کے مشاعرے میں دوڑے چلے آتے تھے مگر کچھ لوگ جون ایلیا کو سمجھ نہیں پائے معاشرے میں ایسے بہت سارے لوگ ہونگے جنہوں نے مختلف ادوار میں ان پر مختلف قسم کے فتوے بھی لگائے بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں کا شروع سے یہ المیہ رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر تہمت اور بہتان لگا کر نیچا دکھا نے میں دیر نہیں کرتے جون ایلیا ایک سید خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود ان پر بے جا تہمت لگا کر کچھ لوگوں نے دل کی بھڑاس خوب نکال لی ہو گی مگر اہل سخن علم و ادب کی نظر میں ان کے مقام و منزلت میں نہ کوئی کمی آئی نہ آسکتی ہے کیونکہ ان کے افکار و اقوال ہر کسی کے دل کو چھو جاتا ہے لوگ آ ج بھی انہیں ویسا ہی پڑھتے اور سنتے ہیں بلکہ یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ جو لوگ جون ایلیا کو اب بہتر انداز میں سمجھنے لگے ہیں جس وقت وہ انہیں سمجھ نہیں پائے تھے انہوں نے 30سے ذائد کتابیں لکھی غزلوں پر مشتمل ان کا پہلا دیوان 1991 میں (شاید) کے نام سے شائع کیاگیا جب وہ زندہ تھے جسے خوب پذیرائی ملی اور قارئین نے شاعری اور خاص کر مجموعے کے دیباچے پر خو ب تبصرہ کیا ۔ 2000ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا ان کے باقی پانچ مجموعے جن میں ( یعنی ،گمان ،لیکن ،گویا، اشعار وغزلیں )( فرنود، انشائے اور مضامین )پر مشتمل ہیں ان کی وفات کے بعد شائع کیا گیا آج جب وہ ہم سے بچھڑے ہوئے سالوں کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن پوری دنیا میں ان کے چاہنے والے اور ان کے فکر سے متاثر ہونے والے دن بہ دن تیزی سے پھیل رہے ہیں کوئی حضرت جون اولیا ء کہہ کر پکار رہے ہیں تو کوئی جون سرکارحرف لب لا رہے ہیں اس کی وجہ کیا ہے ۔۔۔۔۔؟جہاں تک میں نے سنا ، پڑھا ا ور دیکھا تو یہ نتیجہ نکلا شاید ان کا حقیقت پسندانہ رویہ ، دل افروز شاعری او ر منفرد انداز سخن اس کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے ۔ آخر میں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمااور ان کے چاہنے والوں کو ہر آفا ت و بلیات سے محفوظ فرمائیں۔آمین

میر و غالب کو ٹوکتاہوں میں

سن رکھو جون ایلیا ہوں میں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔