چترال : معدومیت کے خطرے سے دوچار مذہبی اور لسانی اقلیت کالاش اور دیگر مادری زبانوں کے شمار کے بغیر چھٹی مردم شماری قابل قبول نہیں۔ چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس

چترال : معدومیت کے خطرے سے دوچار مذہبی اور لسانی اقلیت کالاش اور دیگر مادری زبانوں کے شمار کے بغیر چھٹی مردم شماری قابل قبول نہیں۔ چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس

26 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) معدومیت کے خطرے سے دوچار مذہبی اور لسانی اقلیت کالاش اور دیگر مادری زبانوں کے شمار کے بغیر چھٹی مردم شماری قابل قبول نہیں۔ چترال ، ملاکنڈ ڈویژن اور گلگت بلتستان کے عوام شماریات ڈویژن کا ناکام مردم شماری کا مکمل بائیکاٹ کریں گے اور اس کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر صدائے احتجاج بلند کیا جائے گا۔ اتوار کے روزچترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد کوثر ایڈوکیٹ مرکزی چیر مین کھوار اہل قلم، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، ممبر تحصیل کونسل انعام اللہ، لوک رحمت کالاش ، اقلیتی ممبر ضلع کونسل نابیک ایڈوکیٹ ، یدغا زبان کا نمائندہ محمد ولی، سماجی وادبی تنظیم سہارا کا چیرمین جے۔کے ۔ صریر،مادری زبانوں کا تحقیقی ادارہ میئر کے محمد نایاب فارانی اور انجمن ترقی کھوار کے سرپرست اعلیٰ محمد عرفان نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کی کسی بھی مردم شماری رپورٹ میں معدومیت کے خطرے سے دوچار اقلیت کالاش کا نام نہیں ہے جس کی وجہ سے بیرونی یونیورسٹیوں کے سکالر ہماری مردم شماری کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہیں اور کوئی محقق اور دانشور اس کو مستند نہیں مانتا۔ا نہوں نے کہاکہ مذاہب اور زبانوں کی بنیادی معلومات کے بغیر مردم شماری کبھی کامیاب نہیں ہوتی ۔ کالاش برادری اور چترال کے چودہ مادری زبانوں کے نمائندہ تنظیموں نے صدر ممنوں حسین، وزیر اعظم نواز شریف، چیف جسٹس ثاقب نثار اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا ہے کہ چھٹی مردم شماری کو ناکامی سے بچانے کے لئے اس میں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق مذہبی اقلیت کالاش اور ان کی زبان کالاشہ کے ساتھ دیگر مادری زبانوں مثلاً کھوار، گوجری، پالولہ، یدغا، شینا، گاؤری، گواربتی، بشگالی وار، توروالی، بلتی، بروشسکی، گوجالی، سریقولی، ڈامیا سب کے لئے الگ خانہ مخصوص کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستان کی تمام زبانوں اور اقلیتوں کی آبادی کو دیکھایا جائے ۔ کالاش اقلیت اور دیگر زبانوں کے نمائندوں نے اس امر پر دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے کہ شماریات ڈویژن نے پانچ مذاہب کا نام لے کر کالاش کے لئے صفر کا عددلکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس طرح مردم شماری میں صفر ، چترال ، غذر، تاجکستان، کابل، سکنیانگ اور پاکستان کے تمام شہروں میں بیس لاکھ آبادی کی زبان کھوار اور دیگر اہم تمام پاکستانی زبانوں کے لئے صفر لکھنے کا طریقہ اپنایا ہے جوکسی بھی طورپر ہمارے لئے قابل قبول نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کالاش اقلیت کو عالمی ورثہ قرار دینے کی تجویز دوبار عالمی فورم پر صرف اس وجہ سے مستردہوئی کہ مردم شماری رپورٹ میں کالاش کا نام نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ 2015ء میں وزارت داخلہ اور نادرا نے کالاش اقلیت کو ریکارڈ میں شامل کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یونیسکو اور ECOSOCجیسے عالمی فورموں پر اس کا مطالبہ کیا جارہا ہے ، اس لئے چیف جسٹس آف پاکستان سے سوموٹو نوٹس لینے کی اپیل کی جاتی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔