عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے گلگت بلتستان پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے جارہے ہیں- ماہرین

گلگت(پ ر) عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے گلگت بلتستان پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے جارہے ہیں جوکہ گلیشئرز کا پگھلاؤ، گلیشیائی جھیلوں کے ٹوٹ جانے سے ندی نالوں میں سیلاب اور طغیانی، لینڈسلائیڈنگ اور دریائی کٹاؤکی صورت میں نمایاں ہیں۔ گزشتہ ایک عشرے سے اس خطے میں طرح طرح کی قدرتی آفات وقوع پذیرہونے کے سبب مقامی آبادی کوجس قدرنقصانات کا سامنا کرنا پڑا اس کا آزالہ کئی سالوں بعد بھی ممکن نہیں تاہم کلائمیٹ چینج سے متعلق احتیاطی تدابیرپر سنجیدگی سے عمل پیرا ہوکرقدرتی ماحول کو آلودگی سے بچانے سے ان آفات کے خطرات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین نے ہلال احمر گلگت بلتستان کے زیراہتمام رضاکاروں کے لئے موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پرمنعقدہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے معروف ماہرماحولیات وڈبلیو ڈبلیو ایف گلگت بلتستان کے ہیڈڈاکٹربابرخان نے کہا کہ موسیماتی تبدیلی کے پہاڑی اور ساحلی علاقوں پر سب سے زیادہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی تناظرمیں گلگت بلتستان کوکلائمیٹ چینج کے حوالے سے شدیدخطرات کا سامنا ہے۔ ان خطرات کو کم کرنے کے لئے حکومتی اور عوامی سطح پر شعورکی بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے۔

محکمہ تحفظ ماحولیات گلگت بلتستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر وماہرماحولیات خادم حسین نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے لیکن ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے عوام الناس میں شعورواگاہی نہ ہونے کے سبب یہ وسائل یہاں کے لوگوں کے لئے وبال جان بنتے جارہے ہیں جس کے تدارک کے لئے عوام کو انفرادی واجتماعی طورپر کرداراداکرنے کی ضرورت ہے۔

ہلال احمرکی صوبائی سکریٹری نورالعین نے کہا کہ ہلال احمرخطے میں قدرتی آفات کے متاثرین کی امدادوبحالی کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے کے حوالے سے بھی متعدد شعوری منصوبوں پرکام کررہی ہے تاہم ادارے کے پاس محدود وسائل ہونے کے سبب ان منصوبوں کے دائرہ کوکمیونٹی کی سطح پرپھیلانے میں مشکلات کا سامنا ہے جس کے لئے ہلال احمرکو صوبائی حکومت کا تعاون درکارہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کی سطح پر موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے خطرات سے متعلق شعوری منصوبوں کے اجراء سے مقامی آبادی کو آفات کے خطرات سے بچانے میں مددمل سکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments