غذر جیسے پرامن علاقے میں دفعہ 144نافذکرنا عوام کے منہ بند رکھنے کا ایک سیاسی حربہ ہے ۔ محمد ایوب شاہ صدر پاکستان پیپلزپارٹی غذر

غذر جیسے پرامن علاقے میں دفعہ 144نافذکرنا عوام کے منہ بند رکھنے کا ایک سیاسی حربہ ہے ۔ محمد ایوب شاہ صدر پاکستان پیپلزپارٹی غذر

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یاسین (معراج علی عباسی ) سابق ممبرگلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی و صدر پاکستان پیپلزپارٹی ضلع غذر محمد ایوب شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور عوام کو اپنے جائزحقو ق کے لیے آواز بلند کرنے سے روکنے کے لیے دفعہ 144لگارکھا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے عوامی حقو ق کے لیے احتجاجی تحریک چلانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یاسین میں دو پاورہاوسز، وافرمقدار میں پانی اور ضرورت کے مطابق سٹاف دستیاب ہونے کے باوجود بجلی کا شدید بحران ہے۔ سول سپلائی یاسین کے مرکزی گودام میں ایک دانہ گندم موجود نہیں ہے ۔ عوام پر دفعہ 144 لگاکرانہیں خاموش کیاگیاہے۔ یاسین میں دستیاب بجلی کو محکمہ برقیات نےاپنے من پسند افراد کے لیے مخصوص کررکھا ہے ۔ غریب بجلی اور گندم کے لیے ترس رہے ہیں ۔یاسین کے منتخب عوامی نمائندئے کی جانب سے عوامی مسائل پر خاموشی سمجھ سے بالاترہے ۔عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے ۔ غذر جیسے پرامن علاقے میں دفعہ 144نافذکرنا عوام کے منہ بند رکھنے کا ایک سیاسی حربہ ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ انتظامیہ 144کی آڑ میں غذر میں ہزاروں سالوں سے منائے جانے والے ثقافتی میلہ جشن تخم ریزی پر پابندی لگاکر ڈراو اور حکومت کرو کے پالیسی پرگامزن ہے ۔ غذر کے اندر موجود ہزاروں سالوں سے جاری ثقافتی ر سومات منانے سے کوئی انتشار نہیں پھیلے گا، بلکہ لوگوں کی آپس میں محبتیں بڑھیں گیں ۔ ثقافتی رسومات پر پابند لگاکر بلاوجہ علاقے میں خوف و ہراس پیدا کیا گیا ہے ۔

انہوں نے غذر کے منتخب عوامی نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب عوامی نمائندئے عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔اور غذر جیسے پرامن علاقے میں نافذ دفعہ 144کے خلاف آواز بلند کریں ۔غذر میں ہزاروں سالوں سے جاری ثقافتی رسومات کو منانے کے لیے اقدامات کرکے عوام میں موجود خوف و ہراس کو ختم کرے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔