سوال کرنے کی سماجی اہمیت

سوال کرنے کی سماجی اہمیت

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سیدہ نسیم اختر

سماجی ہنر اور رویے(مثلاً میل جول کے آداب چیزوں اور احساسات کو بانٹنے کے رویے وغیرہ) بچے میں فطری طور پر موجود نہیں ہوتے۔ انہیں سیکھنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس سوال کرنے کی صلاحیت بچے میں فطری طور پر موجود ہوتی ہے۔بچہ اس وقت سوال کرتا ہے جب اسے کسی شخص، چیز یا واقعہ میں دلچسپی ہوتی ہے۔ یعنی یہ کہ وہ ان کے بارے میں متجسس ہوجاتا ہے ۔ تجسس ہوگا تو سوال پیدا ہوں گے۔۔۔ سوال کا جواب ملے گا تو بچے کو نئی معلومات میسر ہوں گی۔۔۔ نئی معلومات ملنے پر بچے کو انکشاف کا تجربہ ہوگا۔۔۔ انکشاف کی وجہ سے تجسس کو تسکین ملے گی۔ تجسس سے انکشاف تک کا سفر بڑا ہی پر لطف اور مزیدار ہوتا ہے۔ اگر بچہ، ایک دفعہ اس سارے عمل میں سے گزر جائے تو اسے سوال کرنے کا چسکا‘ پڑجاتا ہے۔ اسی طرح جیسے کوئی مزیدار چیز کھا کر اس سے لطف اٹھانے کے بعد بچہ بار بار اس کا تقاضا کرنے لگتا ہے۔

کہانیاں ہوں یا معلوماتی مواد، بچہ صرف اسی صورت ان میں دلچسپی لے گاجب یہ اس کے تخیل کو جنبش دیں گی۔ تخیل میں جنبش ہوگی تو دلچسپی پیدا ہوگی اور بچہ سوال اٹھائے گا۔ مثال کے طور بچہ ٹام اور جیری والے کارٹون دیکھ رہا ہے۔ ٹام اور جیری، دونوں ایک دوسرے پر پٹاخے پھینک رہے ہیں۔ جیری، ٹام پر پر ایک پٹاخہ پھینکتا ہے۔ٹام ڈر جاتا ہے اور اپنے آپکو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اتنے میں پٹاخے کی ایک پرت اتر جاتی ہے، روسی گڑیا کی طرح۔ ٹام ڈرتا تو ہے مگر پہلے سے ذرا کم۔ پٹاخہ نہیں پھٹتا۔ پٹاخے کی دوسری پرت اتر جاتی ہے او رپٹاخہ نہیں پھٹتا۔ اب ٹام مطمئن ہوجاتا ہے کہ پٹاخہ نہیں پھٹے گا اور وہ جیری کو تاثر دیتا ہے کہ تم ناکام ہوگئے ہو‘ تم میرا کچھ نہیں بگاڑ پاؤ گے۔ یہ سسپنس کی صورتحال ہے اور بچہ مکمل طور پر متجسس ہے کہ اب کیا ہوگا۔ اس کے ذہن میں سوال ابھر رہے ہیں کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ تیسرا پرت اتر نے کے بعد پٹاخہ پھٹ جاتا ہے۔ یہ غیر متوقع صورتحال ہے اور بچہ اس کے بارے میں پیش گوئی نہیں کررہا تھا۔

اچھی یعنی مزیدار کہانی صرف وہی ہوتی ہے جو بچے کو متجسس کرے اور اس کے ذہن میں سوالات پیدا کرے۔ اردگرد ہونے والے قدرتی اور انسانی واقعات کی صورت کہانیوں سے مختلف نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر کالے کالے بادلوں کا آسمان پر چھاجانا، ان کی گھن گرج اور آناً فاناً ہر طرف پانی ہی پانی، بچے کیلئے سخت حیرت کا باعث بنتا ہے۔ بچہ اپنے تخیل میں اس صورتحال سے پیدا ہونے والے سوالات کا اپنے سابقہ تجربات کی روشنی میں حل تلاش کرتا ہے۔ عام طور پر سات یا آٹھ سال کے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ بادل دراصل ایک بہت بڑا شاپربیگ ہوتے ہیں جو سمندر سے پانی لے کر آتے ہیں۔ چونکہ شاپربیگ اکثر اوقات پھٹ جاتا ہے، اسی لئے بادلوں کا شاپربیگ جب پھٹ جائے تو بارش شروع ہوجاتی ہے۔ انھی معلومات کی بنیاد پر جن میں کچھ سائنسی طور پر درست ہیں(مثلاً بادلوں میں سمندر سے پانی آنا) سوالات کا ایک سلسلہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ سوالات پیدا ہوں گے تو بچے کا تجسس برقرار رہے گا۔ اسی طرح جس طرح کہانی میں اس کی دلچسپی بر قرار رہتی ہے۔ تجسس۔۔۔ سوال۔۔۔ جواب معلومات۔۔۔ انکشاف کا پر لطف عمل جاری رہے گا۔

سوال کرنا، چیزوں، لوگوں اور واقعات کو جاننے کا ذریعہ ہی نہیں، اس سے ان سب کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ فطرت کی ایک مخفی دنیا ہے۔ فطرت کا بھید جاننے کیلئے پہلی دستک سوال کرنا ہی ہے۔ سوال کرنے سے ہی سائنسی علوم پیدا ہوئے اور انسان فطرت کو اپنے آرام اور سہولت کے لیے استعمال کررہا ہے۔ اس طرح انسان اور فطرت کے درمیان ایک تعلق پیدا ہوا۔ انسانی رشتوں میں بھی بھید ہوتا ہے۔ اسے جاننے کیلئے سوال کئے جاتے ہیں۔ خاص طور پر جب نئی رشتے داری کا معاملہ ہوتو بہت سے سوالات پیدا جوجاتے ہیں۔ لڑکا کیسا ہے؟ کیا کام کرتا ہے؟ ماں باپ کا خیال رکھتا ہے یا نہیں؟ لڑکی کی صورت اور سیرت کیسی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ جب لاتعلقی ہوتو سوال نہیں اٹھائے جاتے۔

بچہ، اپنے اردگرد مادی اور انسانی ماحول کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کیلئے متجسس ہوتا ہے اور سوال کرتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ والدین اور اساتذہ بچوں کے سوالوں کی بوچھاڑ سے بہت جلد تنگ آجاتے ہیں۔ وہ ان سوالوں کے جوابات نہیں دے پاتے تو بوکھلاہٹ میں بچوں کو جھاڑ پلا کر خاموش رہنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اس طرح، آہستہ آہستہ بچہ سوال کرنا بند کردیتا ہے۔ اس کے ذہن میں سوالات تو پیدا ہوتے رہتے ہیں مگر انکشاف کی منزل تک نہیں پہنچ پاتے۔ اس طرح کچھ عرصے کے بعد سوال بھی پیدا نہیں ہوتے۔ چونکہ سوالات تجسس کی زمین میں اگتے ہیں، بچے میں تجسس بھی ختم ہوجاتا ہے۔ وہ اردگرد کے انسانی اور مادی ماحول سے لاتعلق ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس طرح انسان ہونے کا سب سے بڑا وصف، یعنی سوال کرنا ہمیشہ کیلئے غیر متحرک ہوجاتا ہے۔

اساتذہ اور والدین کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ کسی کو بھی ساری باتیں معلوم نہیں ہوتیں۔ عقل کل ہونے کا دعویٰ کوئی نہیں کرسکتا۔ اگر آپ کو بچے کے پوچھے سوال کا جواب معلوم نہیں تو ایمانداری سے اس کا اقرار کریں۔ آپ بچے کو مشورہ دے سکتے ہیں کہ اس کے سوال کا جواب فلاں کتاب سے مل سکتا ہے۔ آؤ، ہم مل کر اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔ اس طرح بچے اور والدین /اساتذہ کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہوگا۔ بچے کو یقین ہوجائیگا کہ اس کے اٹھائے گئے سوالات کی وقعت ہے۔ اس طرح وہ مزید سوالات کرتا چلاجائیگا۔

تعلیم وتربیت کا بنیادی اور حتمی ہدف بچے کو خود مختار اور آزاد انسان بنانا ہوتا ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اساتذہ اور والدین بچے کو آزادانہ طور پر سیکھنے کے ہنر اور رویے سکھا دیں۔ سب سے پہلا ہنر سوال کرنا ہے۔ شروع شروع میں بچے بامقصد سوال نہیں کرپاتے۔ آپ بچوں کے ساتھ ساتھ گفتگو کرکے ان کے سوال کے پیچھے کارفرما تجسس کو سمجھیں۔ آہستہ آہستہ بچے بامعنی سوالات کرنا شروع کردیں گے۔ آزادانہ طور پر سیکھنے کیلئے سب سے اہم ہنر‘ پڑھ کرسیکھنا‘ ہے۔ بچے کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ خود پڑھ کر اپنے سوالات کا جواب ڈھونڈ لے۔ اس طرح بچہ سیکھنے کے معاملے میں خود مختار ہوجائیگا۔اس میں خود اعتمادی پیدا ہوگی۔ ایسے بچے کو دباؤ یا رعب کے تحت اپنی رائے بدلنے پر مجبور کرنا مشکل ہوگا۔

سوال کرنا محض سیکھنے کا بنیادی ہنر نہیں۔ یہ ایک سماجی رویہ بھی ہے۔ اگر ایک جگہ پر دوبچے بیٹھے ہیں،دونوں سوال کرنے کا ہنر جانتے ہیں تو ان کے درمیان سماجی میل جول کی بنیاد سوال کرنے پر ہی ہوگی۔ جب دو افراد مل بیٹھ کر سوال اٹھائیں گے تو ان کے درمیان مکالمہ شروع ہوجائیگا۔ مکالمے کی بنیاد سوالات اور ان سے ملنے والے جوابات کے معیار پر ہوگی۔ اس میں ذاتی پسند ناپسند یا ترجیحات کی کوئی جگہ نہ ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ مکالمہ، جمہوری مزاج کے قیام کیلئے بنیادی ہنر کا درجہ رکھتا ہے۔ اس سے جو عمل شروع ہوتا ہے اس سے آخر کار انسانوں میں رواداری اور منصفانہ مزاج پیدا ہوتا ہے۔ دوسری جانب اگر بچے میں سوال کرنے کی خواہش کو ختم کرکے اسے ماحول سے لاتعلق بنادیا جائے تو وہ کسی بھی اثر کو بغیر کسی مزاحمت کے قبول کرلیتا ہے۔ ایسے افراد کسی بھی جابرانہ سیاسی اور معاشرتی نظام کیلئے بہت کار آمد ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے نظام سوالات اور سوال کی ثقافت سے بہت گھبراتے ہیں۔ جابرانہ سیاسی ومعاشرتی نظام ہزاروں سالوں سے انسانوں کیلئے آزار بنے ہوئے ہیں۔ ان کو صرف سوال کرنے کی ثقافت سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔