بائی پاس روڈ پر ٹریفک حادثات

بائی پاس روڈ پر ٹریفک حادثات

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بشیر حسین آزاد

عبدالولی خان بائی پاس روڈ بننے سے پہلے ٹریفک جام کا مسئلہ تھا۔نئی سڑک بننے کے بعد ٹریفک حادثات کا گھمبیر مسئلہ پیدا ہوا ہے۔بائی پاس روڈ پر گاڑیاں 100کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلائی جاتی ہیں ۔کاروباری ،عوامی اور سماجی حلقوں نے ڈسٹرکٹ پولیس افیسر کی توجہ بائی پاس روڈ پر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے حادثات کی طرف مبذول کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔ہفتہ 11مارچ کے دن بائی پاس روڈپر ایک معمر خاتون کو موٹرسائیکل اور فلائنگ کوچ نے کچل دیا۔اس کے نتیجے میں جو بدمزگی ہوئی اُس بدمزگی نے ٹاون کے عوام کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیاہے اور لوگ بائی پاس روڈ کو خونی سڑک قرار دے رہے ہیں۔اور اس کی وجوہات بھی ہیں۔سب سے بڑی وجہ سے انتظامیہ کی غفلت ہے،انتظامیہ نے نہ تو پیدل چلنے والوں کے لئے زیبرا کراسنگ کا انتظام کیا ہے نہ سڑک کے ساتھ سگنل لگائے گئے ہیں۔نہ حد رفتار کے اشارے دیے گئے ہیں۔اور نہ ہی سپیڈ بریکرلگائے گئے ہیں۔کسی بھی نئی سڑک پر ان چار چیزوں کا ہونا بے حد ضروری ہے۔انتظامیہ کی غفلت کا یہ حال ہے کہ بازار پُل پر ہروقت چار یا چھ گاڑیاں پارک کی جاتی ہیں حالانکہ پُل کے اوپر پارکنگ بہت بڑا جرم ہے۔ٹھیکہ دار کی مشینری بھی گذشتہ8مہینوں سے پُل کے اوپر کھڑی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ایسا نہیں لگتا کہ یہ چترال ٹاون کی سڑک ہے۔200گزکے فاصلے پر پولیس سٹیشن،پولیس لائن اور ڈی پی او کا دفتر ہے۔اس مہینے کے آغاز پر بائی پاس روڈ پر تین حادثات ہوئے جن میں دو جان بحق اور ایک زخمی ہوا اسی طرح گذشتہ 10مہینوں کے اندر بائی پاس روڈ پر12مہلک حادثات ہوئے ہیں۔35دیگرحادثات میں56لوگ زخمی ہوئے ان میں سے کئی مستقل طورپر معذور ہوگئے۔ٹاون کے لوگوں پر اس وجہ سے خوف اور دہشت کا سایہ ہے ۔کاروباری اور عوامی حلقوں نے ضلعی حکومت اور ٹی ایم اے کو بھی زمہ دار ٹھہرایا ہے۔سی اینڈ ڈبلیو کی غفلت پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ٹاون کے لوگوں نے دھمکی دی ہے کہ آئیندہ ایسا حادثہ ہوا تو ٹریفک پولیس،ٹی ایم اے اور سی اینڈ ڈبلیو کے خلاف 302کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔عوامی حلقوں نے بائی پاس روڈ پر مختلف مقامات پر حادثات سے محفوظ رہنے کے لئے سپیڈبریکر بنانے کے ساتھ دیگر ضروری اقدامات اٹھانے پر زور دیاہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔