جدید شنا شاعری( موسیقی) اور شنا کی مفلسی

جدید شنا شاعری( موسیقی) اور شنا کی مفلسی

89 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

احمد سلیم سلیمی

موسیقی کی بات ہو تو ایک غضب کی بات بھی ساتھ شامل ہوتی ہے۔آواز خوبصورت ہو،دُھن میں تاثیر ہو اور سازوں کا متوازن استعمال ہو تو ،بے شک اس گیت ،غزل (گانے )کی شاعری جتنی بھی اچھی ہو،بے چارہ شاعر باکمال ہونے کے باوجود ساز اور آواز کے پردوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔

ہندوستان،پاکستان کی فلمی موسیقی کی تاریخ یہی بتاتی ہے۔رفیع،لتا،مہدی حسن،کشور کمار،نورجہاں کا نام بہت مقبول ہے مگر ان کے فن کو زندگی کی حرارت دینے والے ساحر لدھیانوی،شکیل بدایونی،قتیل شفائی ،گلزار اور مجروح سلطان پوری جیسے شاعروں کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

یہی صورت حال باقی موسیقی کے ساتھ بھی ہے۔اب شنا گانوں کو ہی لیجئے۔پہلے ایک ریڈیو گلگت ہی ذریعہ تھا،اب ایف ایم چینلز بھی ہیں۔موبائل اور کمپیوٹر کی سہولت بھی موجود ہے۔ایسے میں پہلے کی نسبت ان گانوں کی رسائی کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے۔یہ الگ بات ہے اب ذوق کامعیار بدل گیا ہے۔فاسٹ اور ہلکی شاعری کا چلن ہے۔مگر ایک بات مشترک ہے۔ہر دور میں شاعر۔۔۔گلوکار کے اثر میں رہا ہے۔بہت کم شاعر، موسیقی اور آواز کا جادو توڑنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کم ان شاعروں کا خیال، ان کے الفاظ اپنی پہچان آپ بن جاتے ہیں۔۔
میڈیا کی وجہ سے اب دنیا سمٹ گئی ہے۔زبان ہو، ثقافت ہو،ذہنی رویے ہوں، اب اپنی اصل میں نہیں رہے ہیں۔ایسا ہونے میں اتنی قباحت بھی نہیں۔کیونکہ وقت کے ساتھ بدلنا ترقی کی علامت ہے ۔اسی سے زبان و بیان اور سوچوں میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔مگر پریشانی کی بات تب ہے، جب اس تبدیلی سے اپنی شناخت خطرے میں پڑے۔جگنو پکڑنے کے زعم میں سورج کے وجود سے ہی انکار کیا جائے۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب اپنی ثقافت ،اپنی زبان اور تہذیبی ورثے کا درست ادراک نہ ہو۔اس کی قدر نہ ہو۔

ایسے میں اپنی روایات کو جدت سے ہم آہنگ کر کے ایک متوازن اور مانوس راستہ اختیار کرنا کمال ہے۔اور ایسے باکمال لوگ ہم میں موجود بھی ہیں۔

ظفر تاج صاحب ایک ایسے ہی باکمال شنا شاعر ہیں۔ساز اور آواز کی جادو نگری میں بھی ان کی شاعری کا جادو سر چڑھ کر بولتاہے۔یہ آج کے مقبول شاعر ہیں۔ان کی شاعری،موسیقی کے سُروں پہ سوار کانوں میں رس گھولتی ہے۔انہوں نے شنا شاعری کو ایک نیا آہنگ دیا ہے۔روایت اور جدت کے تال میل سے ایسی فن کاری دکھاتے ہیں کہ ان کے لفظ زندگی کی حرارت سے آتش بہ داماں ہوتے ہیں۔
اچھی موسیقی اور آواز لفظوں میں جان ڈال دیتی ہے مگر ان کے الفاظ گویا خود ہی گفتگو کرتے ہیں۔ساز اور آواز کی تاثیر بڑھاتے ہیں۔انہوں نے شنا موسیقی کا ذوق رکھنے والوں کو ایک منفرد،مگر اپنا اپنا سا ذائقہ دیا ہے اور لگتا ہے کہ ایک طویل عرصہ اس ذائقے کی سحر کاری جاری رہے گی۔

ان کے ہاں یادِماضی اور یادِ وطن (گلگت) کا احساس غالب ہے۔یہ محض nostalgiaہے یا اس کے پردے میں، کسی سے جُڑی شبنمی یادیں! جو بھی ہو ،مگر ہے قیامت۔۔۔!!!

ایک اور شاعر ہے۔۔۔جس نے شنا شاعری (موسیقی ) کو ایک فطری آہنگ دیا ہے۔ایک ریشمی احساس دیا ہے۔لفظ ویسے تو ایک مجرّد شے ہے۔اس میں جب زندگی کے رنگ شامل ہوجائیں تو احساس بن کر دھڑکنے لگتے ہیں۔کانوں میں نرم نرم سرگوشیاں کرتے ہیں۔اس شاعر نے بھی لفظ کو بولنا سکھا یا ہے۔سادگی ،بے ساختگی اور فطری اظہار ا ن کے تن میں بھی ہے،ان کے فن میں بھی۔

پہلی دفعہ دیکھ کر کوئی انہیں شاعر تسلیم نہیں کرتا۔جاننے کے بعد ان کے کمال کو سلام پیش کرتا ہے۔یہ ایک لفظ نہیں پڑھ سکتا ۔مگر اپنی شاعری سے بہت سے پڑھے لکھوں کی بولتی بند کرا دیتا ہے۔شہر میں موجود بہت سے عام انسانوں کی طرح وہ بھی پھرتا ہے۔ نہ کوئی ظاہری کشش،نہ کوئی دکھاوے کی بود و باش۔۔۔عام سا لباس پہنتا ہے۔سر پہ بھورے رنگ کی گلگت کی ٹوپی بے ترتیبی سے دھری ہوتی ہے۔اسے نہ جاننے والا پہلی نظر کے بعد دوسری نظر ڈالنا شاید گوارا بھی نا کرے۔۔۔مگر اسے جاننے والا دیکھنے کے بعد، یقیناََنظر ہٹانا گوارا نہیں کرتا۔اس کی گفتگو بے تاثیر،کلام پُر تاثیر۔یہ مطالعے کے بغیر بھی عالمانہ خیالات بیان کرتا ہے۔فطرت کی نرم گرم کروٹوں کو ایسے بیان کرتا ہے ،آس پاس بکھرے بہت سے پڑھے لکھے دانشور اس کے آگے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ایک طرح سے اس کی سوچ ،کسی خارجی فکر ،نظریہ اور فلسفہ سے آلودہ نہیں۔یہ جو سوچتا ہے،جو کہتا ہے اصل میں یہ اس کی طبع زادتخلیقی اُپُج ہے۔اس کی اپنی فکر اور اپنے جذبے کا شاعرانہ اظہار ہے۔

ان کے کلام میں زلف و رخسار کی گھاتیں بھی ہیں۔حسن و عشق کی باتیں بھی۔فکر و دانش کے سلسلے بھی ہیں،کیف و مستی کے معاملے بھی۔یہ اپنی ظاہری بے رنگ زندگی سے ہٹ کے ،جب رنگوں کی بات کرتا ہے،جذبوں کی بات کرتا ہے،فطرت کے جمال و کمال اور اَسرار کی بات کرتا ہے، تب اس کے باطن کا لالہ زار ،ظاہر ہو جاتا ہے۔ یہ اپنا کلا م خود پڑھتا ہے تو جیسے کوئی خاموش آب جُو۔کسی خوبصورت آواز میں ڈھلتا ہے تو جیسے کسی آبشار کی گُنگناہٹ۔۔۔
اب تک آپ اس شاعر کو یقیناََ جان گئے ہوں گے۔
فضل الرحمان عالمگیر ، جان علی ،عبدالخالق تاج ،صلاح الدین حسرت کے بعد شنا شاعری (موسیقی )اپنی مٹی کی خوشبو اور مٹھاس سے محروم ہوتی جارہی تھی۔اس میں لفظ بھی ،خیال بھی آلودہ ہونے لگے تھے۔بہت سے اچھے اچھے شاعر اور گلو کار اس دوران مقبول بھی ہوئے۔بدلتے عوامی ذوق کے مطابق کسی کو کم ،کسی کو زیادہ پزیرائی ملتی رہی۔مگر سنجیدہ ذوق کے لوگ بہت کم متاثر ہوسکے۔انہیں کچھ ادھورا ادھورا سا لگتا تھا۔شنا شاعری کے اپنے پن کامزاج بدلا بدلا سا لگتا تھا۔

مادری زبان اپنی مٹی،اپنے ماحول اور روایات کی امین ہوتی ہے۔اس کی گود میں سماج کے تہذیبی رویے پرورش پاتے ہیں۔فطری سوچ کا درست اظہار اسی زبان میں ہی ہوتا ہے۔مادری زبان کی شاعری ، اس کا ادب،وقت کے تیز دھارے میں دم توڑتی ثقافت کی احیا کرتا ہے۔مگر زبان خود ہی آلودہ ہوجائے۔اپنی اصل سے دور ہٹ جائے۔فطری اظہار کے احسا س سے عاری ہوجائے۔۔۔ ایسے میں زبان و ثقافت کے ساتھ سماج کے رویے بھی شدید متاثر ہوجاتے ہیں۔لوگ ،کہنے کی حد تک اس مٹی سے جُڑے ہوتے ہیں۔مگران کی سوچ ،ان کا عمل اور کردار ،اپنی اصل سے بہت دور۔۔۔کسی اور دیس کے رنگ ڈھنگ اپنا لیتے ہیں۔

شنا شاعری (موسیقی)کا لب و لہجہ اور ساز وآواز ،کچھ ایسی ہی بدچلنی کا شکار ہوتے جارہے تھے۔ایسے میں ظفر تاج اور عزیز الرحمان ملنگی نے شنا زبان کو ایک شیرینی ،مانوس ترنّم ، روایت اور جدّت سے ہم آہنگ ایک شِنا شَناس احساس دیا۔شنا شاعری(موسیقی) سے فاصلے بڑھانے والے لوگ ،پھر سے لَو لگانے لگے۔ستار او ر بانسری کی مَدُھرتاپھر سے رس گھولنے لگی۔

ظفر تاج او رعزیز الرحمان ملنگی کا کلام گلگت کے مقبول گلوکاروں نے گایا ہے۔سب سے پہلے صلاح الدین حسرت کی پُر سوز آواز نے ان کے نام اور کلام کو پہچان دی۔اس کے بعد اب جابر خان جابر اور سلمان پارس کی خوبصورت آوازیں، ان شاعروں کو شہرت کی بلندیوں تک لے گئی ہیں۔مجھے موسیقی کی باریکیوں کا علم نہیں،مگر ذوق کی بات ہے۔اس کی بنیاد پر کہتا ہوں ۔جابر کی آواز میں نرمی بھی ہے،سوز بھی ہے مگر ورائٹی نہیں۔اس کی دُھن اور ردھم ایک خاص لے کے اندر رہتی ہے۔اس لیے ان شاعروں کا کلام ،خاص کر ظفر صاحب کی جتنی بھی غزلیں اس نے گائی ہیں ،ان میں ایک ہی آہنگ کا تاثّر غالب رہا ہے۔

سلمان پارس کی آواز میں لوچ ہے۔سُروں میں لچک ہے اور ورائٹی ہے۔اس لیے پسندیدگی میں آگے ہے۔
آج کی بے ہنگم اردو ،شنا موسیقی کے اس پُر شور دور میں ان شاعروں کا کلام ایک خوشگوار اضافہ ہے۔امیدہے اچھی آواز اور خوب صورت موسیقی سے یہ اضافہ اپنا جادو جگاتا رہے گا۔

ان شاعروں کا فن اور شنا کی ترقی میں ان کا کردار یاد رکھا جائے گا۔مگر ساتھ ہی کچھ سوال ذہن کے دریچوں پہ دھپا دھپ دستک دیتے ہیں۔
شنا شاعری اور خاص کر ظفر تاج اور ملنگی کی شاعری سے حظ اٹھانے کے لیے کیا محض گلوکاروں کے مرہونِ منت رہا جائے گا؟
سنجیدہ مزاج کے لوگ محض اس وجہ سے شنا شاعری سے محروم رہیں گے کہ وہ گانے نہیں سنتے؟

شنا زبان کیا واقعی اتنی مفلس ہے کہ اس میں لکھا نہیں جاتا ،محض گایا جاتا ہے؟
شنا کی بہت ہی خوب صورت لوک کہانیاں ،یہاں وہاں بکھری ہوئی ہیں۔بے شمار کہانیاں اردو میں ترجمہ کی گئی ہیں۔مگر شنا میں تحریری شکل میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

سوال یہ ہے ۔کیا ہماری زندہ لوک کہانیاں اسی طرح اردو ،انگلش زبانوں کی محتاج بن کر مردہ ہوتی جائیں گی؟

شنا گلگت بلتستان کی سب سے زیادہ بولی جانے و الی مادری زبان ہے۔اس خطّے کے مرکزی اور سب سے بڑے شہر، گلگت کی زبان ہے۔تمام اضلاع میں بہ حیثیت مادری زبان اس کا وجود ہے۔کہیں زیادہ ،کہیں کم۔جی بی سے باہرچترا ل،کوہستان ،آزاد و مقبوضہ کشمیر میں بھی بہ طور مادری زبان اسے بولنے والے موجود ہیں۔ظفر صاحب کے بہ قول ہی ،مقبوضہ جموں و کشمیر میں دو لاکھ سے زیادہ لوگ اسے بولتے ہیں۔شنا وہاں کے نصابِ تعلیم میں شامل بھی ہے۔اس وقت میرے سامنے ایک کتاب کا سرِ ورق ہے۔کشمیر کے ایک صاحبِ علم فیس بک کے دوست نے اسے پوسٹ کیا ہے۔اس کتاب کا نام ’’پُمُکِہ شنا کتآب‘‘ ہے۔یہ چوتھی جماعت کی درسی کتاب ہے۔اور اس کے پبلشر ہیں۔’’دی جموں اینڈ کشمیر سٹیٹ بورڈ آف سکول ایجوکیشن‘‘۔
حیران ہوں ،دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

المیہ ملاحظہ کیجئے۔گلگت اس زبان کا مرکز ہے۔مگر یہاں صرف بولنے اور گانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ایک صفحہ بھی کوئی درست لکھ کر دکھا دے۔خود لکھتے ہوئے بھی ،کسی اور کے لکھے ہوئے کو پڑھتے ہوئے بھی،ہزار دِقّتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بچہ پیدا ہوتا ہے ،سب سے پہلے مادری زبان کے لفظ اس کی سماعتوں کو چوم لیتے ہیں۔اس کے سوچنے اور بولنے کی تحریک بن جاتے ہیں۔اس کے محسوسات کا اظہار بن جاتے ہیں۔جب سکول میں جاتا ہے تو یہی مانوس الفاظ اجنبی بن جاتے ہیں۔اس کی جگہ اردو اور انگلش کے غیر مانوس الفاظ اس کے کانوں سے ٹکراتے ہیں۔اس کے لیے حصولِ علم کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔اس کے کچے دماغ میں ان مختلف زبانوں کی جنگ چھڑ جاتی ہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ مادری زبان بے کار اور بے فائدہ ہوتی جاتی ہے۔ اِس سے ایک طرف اُس کے فطری محسوسات کا اظہار روانی سے نہیں ہوتا،دوسری طرف وہ شعوری طور پر شنا کو ایک غیر اہم زبان سمجھ بیٹھتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اردو اور انگلش اس حد تک اثر انداز ہوتی ہیں کہ عام بول چال کی زبان بھی خالص مادری زبان نہیں رہ جاتی۔بڑی زبانوں کے اثرات اس کی گفتگو سے اپنی زبان کی مٹھاس چھین لیتے ہیں۔

شنا کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے۔اول تو اسے بولنے والوں کی تعداد گٹھ رہی ہے۔اس پہ مستزاد جو بولتے ہیں ،وہ انگلش اور اردو ملا کے بولتے ہیں ،ٹھیٹھ شنا نہیں ۔

اس طرح شنا کا سمعی میڈیم (بولنا اور سننا)توکسی نہ کسی شکل میں فعال رہتا ہے۔مگر اس کا بصری میڈیم(تحریری شکل)اہلِ قلم اور ماہرینِ لسانیات کی عدم توجہی پہ نوحہ کناں ہے۔اور مستقبل کا مورخ ،سرکاری اداروں کی بے حسی ،بے دانشی اور بے ذوقی کو بھی لازماََ بیان کرے گا۔
اس وقت شنا کے فروغ میں سب سے پہلی رکاوٹ اس کے حروفِ تہجی ہیں۔یہ کیسا بنجر خطہ ہے ،صدیوں سے بولی جانے والی اس زبان میں ایسے ماہرینِ لسانیات پیدا نہیں ہوئے ہیں جو اسے زندہ زبان کی شکل دے سکیں۔نہ ہی کسی سرکاری ادارے کو توفیق ہوئی کہ اسے زندہ زبانوں میں شامل کرنے کے لیے موٗثّر اقدامات کرے ۔شنا حروفِ تہجّی ترتیب دے کر ،اسے محض صوتی اور سمعی اظہار سے اٹھا کر بصری میڈیم کا بھی مقام دلادے۔یوں اس زبان میں بھی تخلیق ہونے والا ادب (نثر ،نظم) کتابی شکل میں زندہ جاوید بن جائے۔

امین ضیا صاحب ،عبدالخالق تاج صاحب اور شکیل احمد شکیل صاحب نے اگرچہ اپنی بساط کے مطابق حروفِ تہجی سے متعلق کام کیا ہے۔مگر ان کا دائرہ محدود ہے۔صوتی لسانیات کے کئی پہلوؤں پر ان کا آپس میں اختلاف ہے۔ صوتی اظہار کے لیے مخصوص حروف تو انہوں نے تشکیل دیے ہیں لیکن ایک دوسرے سے جدا جدا۔۔۔اس کی وجہ سے متفقہ اور معقول حروفِ تہجی موجود نہیں۔

شنا صوتیات میں بہت سی آوازیں ایسی ہیں جن کا اظہار اردو،عربی اور فارسی حروفِ تہجی سے ممکن نہیں۔لفظ شنا پر ہی غور کر لیں ۔پہلے حرف ’’ش‘‘ سے جو آواز نکلتی ہے۔اصل تلفظ سے مختلف ہے۔اسی طرح گدھا ،بھائی ،بارش ،آبشار ،انڈا جیسے الفاظ کے لیے شنا میں جولفظ استعمال ہوتے ہیں،انہیں بول تو سکتے ہیں ،مگر لکھتے ہوئے اردو سے حروف مستعار لیتے ہیں۔مسئلہ یہ ہے ایسی صوتی علامات کو ایک قابلِ قبول شکل نہیں دی گئی ہے۔جس کی وجہ سے شنا میں تحریری مواد موجود نہیں۔

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا،کہنے کی حد تک کئی اہلِ قلم اور لسانی باریکیوں کو سمجھنے والوں نے اسے مشقِ ستم بنایا ہے،مگر سب کا کام ادھورا ہے۔سب کا کام محدود ہے۔سب انا پرستی اور’ ہم چو ما دیگرے نیست‘ کی بند گلی میں بھٹک رہے ہیں۔اس خرابی میں سرکاری حلقے بھی برابر کے شریک ہیں۔ دکھ اس بات کا ہے ادب کی ،ثقافت کی اور تہذیبی قدروں کی بات سبھی کرتے ہیں ۔جب عمل کی بات آئے تو ترجیحات بدل جاتی ہیں۔بیانات ،نشستن برخاستن اور کمیٹیوں سے بات آگے نہیں بڑھتی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شنا لسانیات پر کام کرنے والوں کی خدمات اور کوششوں کو حکومت ownکر لیتی۔انہیں اپنی سرپرستی میں آسانیاں فراہم کرتی۔ ایک منظم ، موثر، اوربروقت کام کی تکمیل کو یقینی بنا لیتی۔مگر حکومتوں کی اپنی دلچسپیاں اور ترجیحات رہی ہیں۔اس طرف ان کی نظرِخاص کبھی نہ رہی۔

یہ علم کا،تحقیق اور سائنٹیفک اپروچ کا دور ہے۔دانشمند قومیں اپنی تہذیب ،ثقافت اور زبانوں کو میڈیااور گلوبلائزیشن کی دست بُرد سے بچا کر ،انہیں زندہ رکھتی ہیں۔ایک ہم ہیں ،اپنی مادری زبان اور ثقافت کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔محض ناچ اور گانے کو ثقافت اور زبان کے فروغ کا ذریعہ سمجھ کر خود فریبی کا شکار ہیں۔محض اس وجہ سے شنا ادب (نثر،نظم ) کو پڑھنے ،لکھنے سے محروم ہیں کہ کہے ہوئے الفاظ ،لکھنے سے قاصر ہیں۔شنا میں اول تو کتابی شکل میں نثر یا نظم لکھی نہیں جاتی۔کبھی کوئی شوقِ جنوں کا مارا ایسی جسارت کرتا ہے تو مدّتوں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔

اسلام آباد میں گلگت کے ایک دوست ہیں ۔محمد لطیف نلتریجو۔۔۔جنوری میں اسلام آباد میں چار روزہ قومی ادبی کانفرنس میں ان سے چار دن مسلسل گفتگو کا موقع ملا۔انہوں نے اپنی شنا شاعری کی کتاب ’’پوموکی ھیون‘‘ دکھا کے حیران کر دیا۔دو سو سے زیادہ صفحات کی شنا نظموں اور غزلوں پہ مشتمل ایسی شاندار اور جاندار کتاب تھی کہ میری ادبی زندگی میں کم از کم گیارہ سو واٹ کا جھٹکا تھی۔محمد لطیف نلتریجو صاحب سے پہلی دفعہ ملاقات ہوئی تھی۔ان کی فنی صلاحیتوں سے بھی واقف نہیں تھا۔چلو مان لیا یہ میری کم علمی سہی،مگر شنا شاعری کی ایسی ضخیم اور خوبصورت کتاب ،بلاشبہ حیرت افزا تھی۔میں یقین سے کہتا ہوں آپ میں سے اکثر ،میری طرح ان کے نام اور کام سے یکسر نابلد ہوں گے۔ظفر تاج اور ملنگی کو توصلاح الدین حسرت ، جابر خان اور سلمان پارس کی آوازوں نے مقبول بنا دیا۔ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو سب تک پہنچادیا۔محمد لطیف نلتریجو جیسے شاعر محض اس وجہ سے گمنامی اور ناقدری کا شکار ہیں کہ ان کا فن موسیقی میں نہیں ،کتابوں میں ہے۔
ستم ظریفی سے کتاب پڑھنے والے کم یاب ہوگئے ہیں۔ستم بالائے ستم ،شنا تحریر شناسی الگ قیامت بنی ہوئی ہے۔آپ اس قیامت کا اندازہ ایسے بھی کر لیں کہ اسلام آباد میںُ ان دنوں تاج صاحب اور دکھی صاحب بھی تھے۔یہ دونوں شنا کے معتبر شاعر ہیں۔ایک رات رائٹرز ہاؤس کے ایک کمرے میں ان دونوں کی شبنمی
صحبت میں بیٹھا ہو ا تھا۔لطیف نلتریجو صاحب کی ’’پوموکی ھیون‘‘ان کے لیے بھی نظر افروز تھی۔ اس کتاب میں شامل شنا نظموں اور غزلوں کو بہ نظرِ استحسان دیکھ رہے تھے۔ساتھ ہی یہ دونوں اکابر شعراء بعض الفاظ کی معنویت ،اور درست تلفظ اور صحت سے پڑھنے میں دشواری محسوس کر رہے تھے۔ایسے میں سوچئیے ! لاکھوں عام پڑھے لکھے لوگ کیوں کر سمجھ سکیں گے؟کیسے انہیں علم ہوگا کہ شنا ایک تہذیبی ورثے کی امین زبان ہے۔اس کا دامن گل رنگ ثقافتوں اور قدروں سے گُل زار بنا ہواہے۔؟

چند دن قبل جی بی کے سارے ہی ادبی حلقوں کے اہلِ قلم کی حفیظ الرحمان صاحب سے ایک نشست ہوئی تھی۔وہاں بہت ساری باتیں ہوئی تھیں۔مادری زبانوں کی سے متعلق بھی گفتگو ہوئی تھی۔اہل قلم نے تجاویز بھی دی تھیں۔وزیر اعلیٰ صاحب نے دو ٹوک انداز میں یقین بھی دلایا تھا۔ایک کمیٹی فوری طور پر تشکیل دینے کی بات کی تھی۔اب روایت کیا رہی ہے کہ اس کے لیے کمیٹی بن جاتی ہے۔تجاویز مرتّب ہوتی ہیں۔پھر یہ فائل کی شکل میں سیکریٹریز کے حضور پیش کی جاتی ہے۔وہاں مخصوص پہلوؤں سے انہیں چھانٹ پھٹک کر آگے سِرکا دیا جاتا ہے۔۔پھر ہفتوں ،مہینوں اور خدا جھوٹ نہ بلوائے ،سالوں تک اس فائل کا سفر ختم نہیں ہوتا۔

امید ہے وزیر اعلیٰ صاحب ،کمیٹیوں کی روایتی عدم فعالیت کے بجائے ،ان کی بروقت اور موثر کارکردگی کو یقینی بنانے میں خصوصی دل چسپی لیں گے۔یہ کمیٹیاں ماضی میں بھی متعدد بنائی گئی ہیں ۔اہلِ قلم میں سے چند کو بلا کے چائے پلانے ،ایک آدھ گھنٹا ان سے میٹنگ کر نے اورپھر بڑی بڑی باتیں کرنے کے بعد بھول جاتے ہیں۔امید ہے وزیر اعلا صاحب نہیں بھولیں گے ،انہوں نے گلگت بلتستان کے عالی دماغ شاعروں اور ادیبوں کے سامنے اس خطے میں قومی اور مقامی زبانوں کے ادب کی ترقی و تریج کا یقین دلایا ہے۔

امید ہے اہلِ قلم بھی ایک شعوری جذبے کے ساتھ سرکاری اداروں کی معاونت کریں گے۔مقامی اور قومی(اردو) ادب کے فروغ کے لیے حفیظ الرحمان صاحب نے جن اقدامات کی بات کی ہے،انہیں عملی شکل دلائیں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments