محترمہ ثوبیہ مقدم، دیامرکے لیے اُمید کی کرن

محترمہ ثوبیہ مقدم، دیامرکے لیے اُمید کی کرن

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر۔اسلم چلاسی

ہمارے معاشرے میں عورت ایک مخصوص دائرہ کے اندر محدود ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کی پا بندی نہیں ہے۔ اگرچہ مکمل اسلامی ماحول جہاں پردے کا اہتمام یقینی ہو تو دینی اور عصری علوم حاصل کر سکتے ہیں اور کر بھی رہے ہیں لیکن مخلوط نظام تعلیم جہاں بچے بچیوں میں تمیز نہ رہے ایسے ما حول میں تعلیم کم از کم دیامر کے معا شرے میں ممکن نہیں ہے۔ اسلیے والدین خاص طور پر اپنے بچیوں کو مختلف مدارس میں دینی اور عصری علوم کے حصول کیلے چھوڑ دیتے ہیں جہاں حفظ قرآن کے ساتھ ساتھ عصری بنیادی تعلیم بھی دیتے ہیں۔ جس سے اسلام کے ساتھ ساتھ معاشرتی معاملات بھی حصہ تدریس رہتے ہیں۔ جس سے تھوڑا بہت بہتری دیکھنے کو ملتا ہے۔ اب دیامر میں نویں فیصد بچیاں تعلیم سے محروم ہیں، پا نچ فیصد سکول جاتے ہیں، جو پرائمری سے لیکر میٹرک تک تعلیم حاصل کر سکتے ہیں جبکہ پانچ فیصد بچیاں دور دراز کے مدارس میں اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں۔ یہ دس فیصد بچیاں حصول علم کیلے سرگرداں ہیں باقی نویں فیصد بچیاں محض اس وجہ سے محروم ہیں کہ دیامر کے مذہبی معاشرتی ماحول کے مطا بق کوئی درس گاہ نہیں ہے۔اگر مکمل اسلامی طرز طریقت کے عین مطا بق درسگاہیں موجود ہو تو یقیناً فی میل تعلیم کا تناسب ایک سال کے اندر اسی فیصد کو پہنچ سکتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے آج تک اس اہم عوامی نوعیت کے مسلے پرکبھی غور نہیں کیا گیا بلکہ وفاق اور دیگر رفاہی اداروں کے طرف سے آنے والی امداد کو خرد برد کردیا یا ان کا رخ گلگت بلتستان کے دوسرے اضلاع کی طرف موڑ دیا۔ نتیجہ کے طور پر ناخواندہ دیامر وجود میں آیا۔

اب انتہائی حوصلہ افزابات یہ ہے کہ ایک خاتوں آہن وزیر حقوق نسواں، کلچر و امور نوجوانان ثوبیہ مقدم جو کہ دختر دیامر بھی ہیں کھل کر دیامر کے حقوق کیلے میدان میں اتر چکی ہے۔ یہ بہادر خاتون ہر فورم پر دیامر کی پسماندگی نوجوانوں کے مسائل خواتین کے حقوق اور تعلیم کیلے کمر بستہ نظر آرہی ہے۔ اسمبلی کے فلور سے لیکر پبلک اجتماعات تک یہ خاتون نہ صرف دیامر کے پسماندگی کی بات کرتی ہے بلکہ پورے گلگت بلتستان کے مسائل پر انتہائی دلبرداشتہ دیکھا ئی دیتی ہے۔ ان کا دو ٹوک لہجہ انتہائی برد باری ایمانداری اور مخلصی کے بدولت بہت سے عوامی معا ملات پر زمہ داری سے کام ہو رہا ہے۔ دیامر کے کئی ترقیاتی منصوبے سرخ فیتے کے نظر ہو گئے تھے مگر اس خدا ترس خاتون کی کوشش کی وجہ سے دوبارہ زندہ ہو گئے ہیں۔ خواتین کے تعلیم کیلے انتہائی تگ ودو میں مصروف ہے۔ میرے اطلاع کے مطا بق محترمہ کے آئی ڈی پی کے بیشتر فنڈز فروغ تعلیم پر ہی خرچ ہو رہے ہیں۔ اپنے زمہ داری سے ہٹ کر بھی زاتی طور پر منسٹر صا حبہ خواتین کو زبوں حالی سے نکالنے کیلے کام کرتی ہے۔ان کی وزارت سے منسلک کسی بھی زمہ داری میں زرا برابر بھی کوتا ہی ممکن نہیں ہے۔ چونکہ منسٹر صاحبہ کے کتاب میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جو بھی زمہ دار اپنی زمہ داری میں کوتا ہی کا مرتکب ہو وہ فورًا اڑے ہاتھوں آتا ہے۔ اس کے عملی نمونے کا مشاہدہ گزشتہ دن دیامر کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے میٹنگ کے دوران ہوا۔ایک آفیسر تین منسٹروں کی موجودگی میں میٹنگ کو چیر کرنا چاہتا تھامگر ان کو اس وقت مایوسی ہوئی جب منسٹر صاحبہ نے اس کو خلاف معمول قرار دیکر اعتراض کیا اور فورًمیٹنگ کے صدارت عوامی نمائندے کو سوپنا پڑا۔ اگر چہ مذکورہ آفیسر انتہائی قابل دیانتدار شخص ہیں مگر منسٹر صا حبہ کو یہ خلاف قانون نظر آیا تو دبنگ انداز میں اختلاف کیا او ر اپنے گفتگو کے دوران انتہائی شائستہ اور مہذب انداز میں کہا کہ مجھے دیامر کے حالت زار پر انتہائی دکھ ہوتا ہے۔ میں جب گلگت بلتستان کے باقی اضلاع میں جاتی ہوں تو دیامر سے بالکل مختلف صورتحال محسوس ہوتا ہے۔ جب کہ دیامر میں آکر مجھے پتھر دورکا زمانہ یاد آتا ہے۔ چلاس دیامر کا چہرہ ہے اور اس چہرے کی حالت یہ ہے کہ دیکھ کر دل دکھتا ہے۔ اتنے ادارے اور ان کے اتنے ہیڈ موجود ہونے کے باوجود بھی اس شہر کا یہی حال ہے۔ میں دیامر میں کسی بھی ادارے کے کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں۔ اس دبنگ خاتوں کا لب و لہجہ جس قدرشائستہ تھا اس قدر پر شکوہ اور سرزنش سے بھی پر تھا۔ تمام ڈہپارٹمنٹ کے زمہ داران کو ان کے زمہ داری اور مستقبل میں سونپے جانے والے امکانی زمہ داریوں سے بھی آگاہ کیا۔ مسائل کو کم ازکم کرنے کے مش ورے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمت کو شعار بنانے کا صلاح بھی دیتے ہوئے اپنے گفتگو کو ختم کیا۔الغرض مجھے اس خا توں منسٹر کے اس پر مغز گفتگو کے دوران عوام کیلے ایک درد محسوس ہوا اور دیامر کے مستقبل کے حوالے سے ایک حد تک میری تشویش میں کمی واقع ہوئی اور مجھے پہلی مرتبہ سیاستدانوں میں عوامی جزبے کا احساس ہوا۔اگر یہ خاتوں اس طرح کے جزبے سے کام کرتی رہی تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ دیامر کے پچاس فیصد مسائل حل ہو جاینگے۔ جس جزبہ اور خلوص سے دیامر کے مسائل پر یہ خاتون آہن کمر بستہ ہے ایسی تسلسل سے آگے بڑتی رہی تو یقیناً دیامر کا تاریک حال بہت جلد ایک روشن مستقبل کی شکل میں سامنے آئے گا۔اور آنے والی نسلیں اس خاتون کی خدمات کو ہمیشہ کے طور پر اپنے ذہن کے دریچوں میں محفوظ کرینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔