عبدالکریم بلغاری ایک عہد ساز شخصیت

عبدالکریم بلغاری ایک عہد ساز شخصیت

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

مرحوم مولوی عبدالکریم بلغاری سابق ناظم زراعت محکمہ زراعت گلگت بلتستان60 سال کی شاندار سروس مکمل کرنے کے بعد ۱۹۹۸ سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے تھے پچھلے دنوں قضائے الہٰی سے سکردو میں وفات پاگئے۔عبدالکریم بلغاری کا شمار گلگت بلتستان کی ان نابغہ روزگار شخصیات میں شامل ہوتا ہے جن کی خدمات خطے کے لیے بے مثل رہی ہیں۔ آپ ایک محب وطن، بے لوث رہنما، بلند پایہ خداداد شخصیتوں کا مالک تھا، آپ نے اپنی مخلصانہ جدوجہد کے ذریعے گلگت بلتستان میں محکمہ زراعت میں انقلابی تبدیلیاں لائیں ۔ 1965-70کے عشرے میں پورے بلتستان میں گریڈ 17کے سب سے پہلے سول سروس کے آفیسر ہونے کا اعزاز بھی آپ کو ہی حاصل ہوا۔ آپ انتہائی زیرک اور ذہین افسر واقع ہوئے ہیں۔ پروفیشنل زندگی میں اصول پسندی کی وجہ سے عبدالکریم بلغاری مرحوم سخت گیر آفیسربھی مشہور تھے لیکن دیانت دار اور ہنرمند کارکنوں کی قدر دانی ااور عزت افزائی بھی انہی کا خاصہ تھا۔ گلگت بلتستان اور خطہ شمال کی معاشی ترقی اور روزگار میں بہتری کے لیے آپ کے اقدامات دو رس اثرات کے حامل رہے۔

گلگت، غذر، چلاس اور استور میں اعلیٰ قسم کے پھلدار باغ لگوائے اسی سلسلے میں بلتستان میں بھی زرعی معیشت کی بہتری کے لیے تھور روندو ، شگر حشوپی، سرمیک، مہدی آباد، غواڑی، سلینگ سوغا، چھوربٹ تھونگمس میں اعلیٰ قسم کی نرسریاں قائم کیے۔ مختلف اقسام کے یہ پھلدار پودے از قسم سیب، انگور، آڑو، اخروٹ، توت، خوبانی، چیری ، بادام، اور انارکے پھل دار پودے علاقے کے کاشت کاروں کو مناسب دام میں مہیا کر کے اعلیٰ اقسم کے پھلوں اور پودوں کی افزائش کو رواج دیا جو کہ لوگوں کی معاشی خوش حالی میں ایک قابل ذکر اضافہ تھا۔ موضع سوغا علاقہ خپلو میں ایک انتہائی پسماندہ اور غریب گاؤں تھا ۔ آپ نے اسی گاؤں میں ایک اعلیٰ قسم کی نرسری قائم کی اورگاؤں کے تمام گھرانوں سے ایک ایک فرد کے لیے روزگار کا بندوبست کیا ۔جن گھروں میں مرد موجود نہیں تھے ان گھروں سے ایک ایک خواتین کو نوکری دلوائی تاکہ وہ پودوں کی رکھوالی اور باغ میں گوڈی کا کام کر کے اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

گلگت بلتستان کی زرعی معیشت کی بہتری، اس میں نئے رجحانات کو ترویج دینے اورماہرین زراعت کی صلاحیتوں سے استفادہ کے لیے آپ نے اپنے خصوصی تعلقات کے ذریعے ملک کے نامور ماہرین زراعت کو مدعو کر کے اپنے گھر پر مہمان رکھ کر اُن سے تحقیقات کرانے کی روایت ڈالی ۔ علاقے کی تاریخ میں شاید ہی کسی اور آفیسر نے ایسا کیا ہو۔ اس ضمن میں ڈاکٹر عبدالغفور بھٹی مرحوم جو گلگت بلتستان میں آلو کی کاشت کاری کے رجحان ساز شخصیت تھے اُنہی کی دعوت پر تشریف لائے تھے۔ڈاکٹر بھٹی مرحوم کو بلتستان میں اپو آلو کے نام سے مشہور ہوے ۔اب آلو گلگت بلتستان کی واحد نقد آور فصل ہے جو پورے پاکستان میں اپنے منفرد ذائقے اور لذت کی وجہ سے مشہور ہے۔ وہ زمینیں جو اپنے کاشتکار کو سال کے ضروری اجناس بھی بہ مشکل مہیا کرتی تھی اب آلو کی وجہ سے نہ صرف اُن کے گھروں میں خوشحالی آئی ہے بلکہ پورے خطے کی زرعی معیشت پر دورس اثرات مرتب کیے ہیں۔ آلو کی کاشت سے قبل گلگت بلتستان میں سامان لے جانے والے ٹرک خالی واپس آیا کرتے تھے لیکن اب آلو کے سیزن میں وہاں سے ملک کے دیگر حصوں میں آنے والے ٹرک یہاں سے جانے والے کرائے سے بھی زیادہ کمائی کرتے ہیں یہ سب ان کی خلوص سے بھری محنت اور جدوجہد کا نتیجہ ہے ان کے علاوہ ڈاکٹر فضل الرحمن NCRD کے توسط سے سکردو میں PCSIR کی ریسرچ سنٹرکا قیام بھی اُنہی کے مساعی جمیلہ کے مرہون منت ہے۔ یہ سنٹر اپنے آلات، لیبارٹری اور مقامی آبادی کو اب بھی سہولتیں فراہم کررہے ۔

مرحوم ایک عہد ساز، عوام دوست ، غریب پرور شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ذاتی زندگی میں تہجد گزار، صوم و صلوٰۃ کے پابند اور انتہائی مہمان نواز اور شریف انسان تھے۔ رمضان شریف میں ہمیشہ اعتکاف کا اہتمام کرتے تھے۔علم و ادب سے انہیں بہت زیادہ شغف تھا ، اپنی تحاریر، اسلو ب بیان سے چار سو علم و تحقیق کی کرنیں اور خوشبو بکھیر دیں۔ آپ نے’’ کوہ صفا سے سیاچن تک‘‘ کے عنوان سے ایک ضخیم اور پرمغز کتاب بھی لکھی ہے جو کہ ان کی علمی استعداد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ کا پورا خاندان علمی لحاظ سے انتہائی قابل واقع ہوئے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے انہی اوصاف کی وجہ سے عوامی و سماجی حلقوں میں انہیں انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ سادگی اور خلوص ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ان کے انتقال سے نہ صرف گلگت بلتستان ایک عظیم شخصیت سے محروم ہو گیا بلکہ خطے سے ترقی و کامرانی کیلئے جدوجہد کرنیکا ایک عظیم باب ختم ہو گیا جس کے نتیجے میں جو خلا پیدا ہو گیا ہے اسے پر کرنے میں صدیاں لگ جائیں گے۔جو شخصیات ارض وطن کی خدمت کرنا چاہتے ہوں اورکچھ کرنے کا عزم رکھتے ہوں ان کے لیے مرحوم عبدالکریم بلغاری ایک مینارہ نور ہیں ۔

عبدلکریم بلغاری کے لواحقین میں عزیزم عبیداللہ بلغاری اور ڈاکٹرخالد ولی اللہ بلغاری قابل ذکر ہیں ساتھ ہی ان کی سات صاحبزادیاں اور ایک بیوہ موجود ہیں اللہ تعالیٰ سے میری دعا ہے کہ لواحقین کو صبر اور حوصلے کی توفیق دے اور مرحوم کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔