دو اپریل تک ریشن ہائیڈل پاور سٹیشن کی بحالی کا کام شروع نہیں کیا گیا تو بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے: صارفین

دو اپریل تک ریشن ہائیڈل پاور سٹیشن کی بحالی کا کام شروع نہیں کیا گیا تو بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے: صارفین

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( محکم الدین ) ریشن ہائیڈل پاور کے صارفین نے احتجاج کرتے ہوئے صوبائی حکومت ، چترال کے نمایندگان ، ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کو ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا ہے ۔ کہ دو اپریل تک اگر ریشن ہائیڈل پاور سٹیشن کی بحالی کیلئے کام شرو ع نہ کیا گیا ۔ تو بہت ریشن ہائیڈل پاور سٹیشن کے 20ہزار صارفین بہت بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے ۔ جس میں موجودہ مردم شماری کا بائیکاٹ کیا جائے گا ۔ اور اس میں کسی بھی قسم کے ناخوشگوار حالات کی ذمہ داری صوبائی حکومت ،نمایندگان اور ضلعی حکومت پر ہوگی ۔

ان خیالات کا اظہار صارفین کی نمایندگی کرتے ہوئے مقررین نے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ صدر جلسہ بُلبل امان کی زیر صدارت احتجاجی مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ریشن ہائیڈل پاور سٹیشن کو 2015کے سیلاب میں 30فیصد نقصان پہنچا ہے ۔ جس کی مرمت کرکے بجلی کی سپلائی بحال کرنا صوبائی حکومت کیلئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ۔ لیکن دو سالوں سے صارفین اندھیروں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ اور صوبائی حکومت کی طرف سے بار بار فنڈ کے اعلانات کے باوجود پاور سٹیشن پر کام کے آثار نظر نہیں آرہے ۔

مقررین نے اس بات پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا  کہ دو اپریل تک کام شروع نہ کرنے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ ریشن سے بڑھ کر بالائی چترال کے تمام علاقوں تک پھیل جائے گا ۔ جہاں ریشن بجلی سے لوگ استفادہ کرتے رہے ہیں ۔ اور ریشن میں بہت بڑا مظاہرہ ہو گا ۔ جس میں مردو خواتین سب شامل ہوں گے ۔ مقررین نے چترال کے تمام نمایندگان ، ایم این اے ، ایم پی ایز ، ضلع ناظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اور کہا کہ نمایندگان آپس میں اختلافات اور سیاسی مفادات کی جنگ وجہ سے تعمیری کاموں کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں ۔ اس لئے اگر چترال کے ممبران ریشن ہائیڈل کیلئے کچھ کر نہیں سکتے ۔ تو عوام کی جدوجہد میں رخنہ ڈالنے کی کو شش نہ کریں ۔ انہوں نے چترال کے تمام ممبران کے خلاف نعرے لگائے ۔ اور کہا کہ ریشن بجلی گھر تحفے کے طور پر نہیں بلکہ بالائی چترال میں چرس اور افیون کی کاشت کے عوض تعمیر کی گئی تھی ۔ لیکن موجودہ حکومت کی بے حسی کا یہ عالم ہے ۔ کہ اس کی مرمت کرکے لوگوں کو مشکلات سے نکالنے کی بھی اہلیت سے عاری ہے ۔

انہوں نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لوگوں کو مزید تنگ نہ کیا جائے ۔ اور دو اپریل سے پہلے پاور سٹیشن پر کام شروع کرکے لوگوں کو اضطرابی کیفیت سے نکالا جائے ۔ احتجاجی جلسے سے ناظم ویلج کونسل ریشن شہزادہ منیر ، چیرمین نور عالم بابک ،شاہان گنج ، ( ر) صوبیدار میجر خیر بیگ ، ( ر) صوبیدار عبدالغفار ، استاد شیر مراد ، حاجی گل ، (ر) صوبیدار افسر علی شاہ ، صوبیدار شاہ عالم ، ابو للیث رمداسی ، وی سی ناظم شوگرام ،محمد اسلم ، یوتھ کونسلر انیس الرحمن ، سید سردار حسین شاہ ، عارف اللہ وی سی کونسلر ، حاجی بُلبُل امان اور نادر جنگ نے خطاب کیا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔