قائدعوام تجھے سلام

قائدعوام تجھے سلام

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: سعدیہ دانش
سابقہ صوبائی وزیر اطلاعات وسیکریٹری انفارمیشن
پیپلزپارٹی گلگت بلتستان

ذوالفقار علی بھٹو نے 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں سر شہنواز بھٹو کے اعلیٰ سیاسی خانوادے میں آنکھ کھولی۔بچپن سے ہی مدبرانہ سوچ اورقائدانہ صلاحیتوں کے حامل تھے اعلیٰ تعلیم کی بدولت ان میں مزید پختگی اور نکھار آیا۔زمانہ طالب علمی میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کے نام ذوالفقار علی بھٹو کا خط اْن کی اعلیٰ سیاسی بصیرت اور قومی جذبے کا عکاس ہے۔اسی جذبے کے تحت 30 نومبر 1967 کو لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی درحقیقت یہ بنیاد قائد اعظم کی رحلت کے بعد قیادت کے لئے ترسی ہوئی قوم کے لئے ایک مظبوط جمہوری اور ترقی یافتہ پاکستان کا نقطہِ آغاز تھا۔

بھٹو صاحب روزِ اول سے ہی قومی غیرت و حمیت کے لازوال جذبے سے سرشار تھے۔مشہور امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے بھٹو صاحب کے امریکی دورے کے دوران وائٹ ہاوس میں ان کی بے نیازی دیکھ کر کہا کہ مسٹر بھٹو آپ دنیا کی طاقت کے مرکز وہائٹ ہاوس میں کھڑے ہیں تب بھٹو صاحب نے کہا کہ آپ کے وہائٹ ہاوس کا فرش میرے قدموں تلے ہے۔ کینیڈی نے کہا آپ بہت ذہین ہیں اگر آپ امریکہ میں ہوتے تو میری کابینہ کا حصہ ہوتے۔تب بھٹو صاحب نے کہا کہ اگر میں امریکہ میں ہوتا تو امریکی صدر ہوتا۔یہ وہ تاریخی جواب تھا کہ امریکی صدر انکا منہ تکتے رہ گئے۔

بھٹو صاحب اسی جراعت و بہادری اور بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت عالمی طاقتوں کی نظر میں کھٹکنے لگے تھے.بلا آخر 4 اپریل پاکستان کی تاریخ کا وہ بھیانک اور تاریک،دن جب قائدِ عوام،رہنمائے عالم اسلام ذوالفقار علی بھٹو کو ایک انتہائی من گھڑت اور بے بنیاد مقدمے میں بِلا توجیہ و سبب بِلا منطق و دلیل، اور بِلا شاہد و مشہود تختہِ دار کا سزاوار ٹھرایا گیا۔

یہ قتل دراصل اسلامی دنیا کے اتفاق و اتحاد کا قتل تھا،پاکستان کے درخشندہ مستقبل کا قتل تھا،عظیم اور عالیشان اور ناقابل شکست ایٹمی پاکستان کے خوابوں کا قتل تھا۔

جمہوریت،رواداری،اصول پسندی اور جرآعتِ اظہار کا قتل تھا،ترقی و خوشحالی کی امیدوں کا قتل تھا،غریب عوام کی امنگوں اور ترجمانی کا قتل تھا۔قائدِ عوام کا قصور فقط یہ تھا کہ انہوں نے تیسری دنیا سے ابھر کر عالمی طاقتوں کی بالادستی کو للکارا,امتِ مسلمہ کے رحیلِ کارواں بن کر ابھرے۔تیسری دنیا کے مظلوم و محکوم عوام کے دلوں کی دھڑکن بن کے دھڑکنے لگے,مصورِ پاکستان ڈاکٹر محمد اقبال کے خوابوں کی عملی تعبیر بن کر مثلِ بانگِ درا گونجے،سلامتی کونسل میں انکا تاریخی،دوٹوک،مدبرانہ،مدلل،اور موثر خطاب عالمی سامراج کے مزاج پر مانندِ ضربِ کلیم لگا۔

بس پھر کیا تھا کہ ان طاقتوں کی جبینِ انا پر گہری شکن پڑ گئی۔انہیں اپنا زعم مثلِ خاشاک اڑتا ہوا نظر آنے لگا تب انہوں نے اپنے پہلے سے مسلط شدہ کٹھ پْتلی آمرِ مطلق ضیاالحق اور چند ضمیر فروش،عدل و انصاف کے قاتل ججوں کے ذریعے مملکتِ خداداد کے اس نجات دہندہ اور امیدِ فردا کو راستے ہٹانے کا فیصلہ کیا اور وہ اپنے مذموم و مکروہ عزائم میں کامیاب ہو گئے۔

کسی شاعر نے کیا خوب منظر کشی کی ہے۔

’’وہ وقت بھی دیکھا ہے تاریخ کی گھڑیوں نے‘‘

’’لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی‘‘

اور آج ساری امتِ مسلمہ اور جمہورِ پاکستان اس ایک سیاہ لمحے کی خطا کی سزا بھگت رہی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔