مدحِ علی علیہ السلام – حصہ اول

از : فدا محمد ناشادؔ

علی ؑ مشکل کشا ، شیرِ خدا ہے
علی ؑ ہی ساقی کوثر بجا ہے

نبیؐ نے جانشیں اپنا بنایا
خدا کا اُن کو تحفہ اِنما ہے

ولادت ہو گئی کعبے میں اُن کی
کسے دنیا میں یہ رتبہ ملا ہے ؟

محمدؐ اور علی ؑ از نورِ واحد
کہ جو مکسوبہ از نورِ خدا ہے

محمدؐ عالِمِ علمِ لدُنّی
سلونی تو علی ؑ ہی کی ندا ہے

غدیرِ خم میں اعلانِ خلافت
زِ حکمِ رَبّ محمدؐ نے کیا ہے

علی ؑ بَر دستِ احمدؐ ، چشمِ بد دُور
غدیرِ خم میں ہر لب پر صدا ہے

محمد ؐ علم کا ہے شہر بے شک
علی ؑ باب العلومِِ انبیا ؑ ہے

شبِ ہجرت کو اپنا پاک منصب
محمد ؐنے علی ؑ کو سونپا ہے

نبیؐ معراج تک پہنچا ہے شک کیا ؟
علی ؑ بھی زینتِ عرشِ علیٰ ہے

علی ؑ و مصطفی ؐ مِن نورِ واحد
حدیث پاک سے واضح ہوا ہے

عُمرِ بن عبدود کو زیر کر کے
علی ؑ خندق پہ قابض ہو گیا ہے

اُدھر مَرحب کو گھوڑے سے گرا کر
درِ خیبر علی ؑ کے زیرِ پا ہے

علی ؑ سورج کو پلٹانے پہ قادر
نبیؐ نے چاند کو ٹکڑے کیا ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments