تعلیمی اداروں میں انتہاپسندی

تعلیمی اداروں میں انتہاپسندی

30 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جب پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیاتو ایک امید بنی تھی، کہ شائد اب ملک انتہاپسندی اور دہشت گردی کی اس عفریت سے نکل کر اعتدال پسندی کی جانب گامزن ہو گا۔ لیکن حالیہ چند برسوں سے تسلسل کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات نے  خوابوں کی اس شیش محل کو چکنا چور کر دیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینوں پر پابندی عائد کرکے ان کی جگہ جس سیاسی غنڈہ گردی اور کلوشنکوف کلچر کی بنیاد ضیالحق دورمیں رکھا گیا تھا، وہ آج طلاطم خیز سمندری لہروں میں بدل چکے ہیں۔ حالیہ چند مہینوں سے  دہشت گردی کا یہ بھوت مکمل بے قابو ہوچکا ہے ۔ جو پہلے پنجاب یونیورسٹی میں بدترین تشدد کی صورت میں برآمد ہوا، عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایک طالب علم کی دل دہلا دینے والے قتل نے یہ ثابت کردیا کہ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت اور نفرت کا زہر کس حد تک سرایت کرچکا ہے۔ اس کے بعد اس دل دہلا دینے والی قتل کی جو ویڈیو سوشل میڈیا میں آئی ہے اس کو دیکھ کوحیرت ہوجاتی ہے کہ کس طرح انسان سیکنڈوں میں اتنا خونخواہ درندہ بن سکتا ہے۔ ویڈیو میں واضح طورپر دیکھ سکتے ہیں کہ مشتعل ہجوم نوجوان کو گولی مارنے کے بعد نعرہ تکبیر کی صداؤں میں اس لاش کو مار پیٹ رہے ہیں۔

 آپ “مشعل خان وائس آف وائس لس” کے نام سے ایک پیج بھی چلاتے تھے جس میں اکثر سوشلسٹ خیالات کی تشہیر کرتے تھے۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت اور غریبوں کے لئے بھی آواز اٹھاتے تھے۔

آخر شعبہ ابلاعات کے چھٹے سمسٹر کے اس طالب علم کا قصور کیا تھا؟ کیا سرخ ٹوپی پہننا یا سوشلسٹ خیالات پر بات کرنا ان کا اتنا بڑا جرم تھا کہ ہجوم نےمل کر اللہ اکبر کے نعروں میں بیہیمانہ طورپر ان کا قتل کیا؟

تعلیمی اداروں میں اس قسم کی پرتشدد واقعات کا نہ تو یہ پہلا واقعہ ہے اورشائد نہ ہی آخری واقعہ ہوگا۔ اس سے قبل مارچ دوہزار دس کو یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے طالب علم عدنان کو اس سے بھی زیادہ بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ بنوں سے تعلق رکھنے والے  عدنان بوڑھے والدین کا اکلوتہ بیٹا تھا اور قتل سے صرف ایک ماہ قبل ان کی منگنی ہوئی تھی۔ انجینئر عدنان کا قصور یہ تھا کہ وہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر موسیقی سنتا تھا، اس سے جمعیت طلباء اسلام کے فدائیں کا جذبہ جہاد لبریز ہوا اور ان کے کمرے میں گھس کر لاٹھیوں سے مار مار کر قتل کردیا۔ان کے قاتل ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔

 مکمل تفصیل اس لنک میں موجود ہے۔

 https://www.dawn.com/news/888195

اس سے قبل پشاور یونیورسٹی کے خوشحال خان خٹک ہاسٹل نمبر ایک کے سامنے چترال سے تعلق رکھنے والے طالب علم احسان  کا سرعام قتل ہوا۔ ابھی تک قتل کی محرکات اور قاتلوں کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

چند ماہ قبل پنجاب یونیورسٹی میں ایک مرتبہ پھر اسی قسم کے پرتشدد واقعات رونما ہوئے جس میں طلبا گروپوں کے درمیان شدید ہنگامی کے بعد درجنوں جوان شدید زخمی ہوئے۔ کسی مجرم کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔

مشغال خان کی دل دہلا دینے والے ہلاکت کے بعد یہ سوال اٹھایا جارہاہے کہ یہ سارا کچھ مذہبی ٹھیکیداروں کی کارستانی ہے اور اس کے لئے قانون میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔ اگر معروضی حالات کا مطالعہ کیا جائے تو اس سارے عمل کے پیچھے صرف مذہبی سوچ کارفرما ہے اور نہ ہی قانون کی رکھوالی۔ یہ تو معاشرے میں موجود انتہا پسند نظریات کا نقطہ عروج ہے ۔ جب معاشرہ بے سمت ہجوم میں تبدیل ہوجائے تو اس طرح کی پاگل پنی کوئی انہونی فعل نہیں ہوتا۔ اس انتہا پسندی کے پیچھے مذہبی طبقات کی بجائے موقع پرست سیکولر طبقے کا زیادہ ہاتھ ہے۔ چند ماہ قبل جب سلمان حیدر سمیت چند بلاگر کو خفیہ اداروں نے گرفتار کیا تو سوشل میڈیا میں افواہ پھیلائی گئی کہ یہ بلاگر سوشل میڈیا میں گستاخانہ مفاد کی تشہیر کر رہے تھے اسی پروپیگنڈے کے ذریعے ان لبرل بلاگر کو پھنسانے کی کوشش کی گئی۔ انہی گستاخانہ خاکوں کی آڑ میں موجودہ حکومت سوشل میڈیا پر بھی پابندی لگانے کا ارادہ کیا تھا پھر سول سوسائیٹی کے دباؤ میں اپنے فیصلے کو واپس لیا۔ ذرا اندازہ لگائے کہ وزیرداخلہ ہر روز گھنٹوں پریس کانفرنسز میں سوشل میڈیا پر موجود گستاخانہ مواد کا ذکر کرتے تھے اور سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرکے ثواب حاصل کرنے کے لئے مسلسل بیانات دیتے تھے۔ انہی واقعات کے بعد سوشل میڈیا میں نظریاتی یا سیاسی مخالفین کے لئے بھینسہ، موچی یا روشنی کا ایڈمن ہونے کے الزامات شرو ع ہوگئے ۔انتہا پسندی کے فروع میں موقع پرست مسلم لیگی حکمرانوں کا اہم کردار ہے ان میں سے خصوصیت سے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا کردار سب سے زیادہ مشکوک نظر آتا ہے۔

عبدالوالی خان یونیورسٹی میں ہونے والے اس اندوہناک واقعے کے بعد خبر آئی کہ اس قسم کے حادثے کی پہلے ہی رپورٹ تھی ۔جس کی وجہ سے یونیورسٹی کیمپس میں پولیس کی نفری بھی بلائی گئی تھی۔  سوال یہ ہے کہ پولیس کے اہلکاروں  نے اس واقعے کو کیوں روک نہ سکے؟ حالات خراب ہونے کی صورت میں ہوائی فائرنگ، لاٹھی چارچ اور آنسو گیس پھینک کر ہجوم کو منتشر کرنے کی کوئی کوشش کیوں نہیں ہوئیں؟

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سےبیاں آیا کہ چار پانچ ہزار کے اس ہجوم کو روکنا ممکن نہیں تھا۔ حالانکہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں اتنی تعداد میں اسٹوڈنٹس موجود ہی نہیں۔ اور پھر ویڈیو میں جو تعداد نظر آتی ہے ،وہ تو سینکڑوں میں بھی نہیں۔ ممکن ہے یہ قتل میں پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کی ملی بھگت سے ہوا۔ بعض رپورٹوں کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ اور مشعال خان کے درمیان اختلافات چل رہے تھے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے شائع کردہ نوٹس بھی کئی قسم کے سوالات کو جنم دیا ہے۔ حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ خیبرپختونخواہ حکومت نے اس قتل کی غیر اس  جانب دارانہ تحقیقات کے لئے عدالتی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے اور امید ہے کہ اس عدالتی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لا کر قتل میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دیا جائے گا۔ ضیالحق دور میں طلبا یونین پر پابندی عائد کرکے تعلیمی اداروں میں جس کلوشنکوف کلچر کو فروع دیا گیا تھا اس کا شاخسانہ انتہا پسندی کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔  تعلیمی اداروں میں سیاسی جماعتوں کے مسلح جھتے موجود ہیں جو نہ صرف غیر قانونی طورپر یونیورسٹیوں میں داخلہ لیتے ہیں بلکہ یونیورسٹیوں میں موجود ہاسٹلوں پر غیر قانونی طریقے سے قبضہ جمائے ہوئے ہیں، کیا مذہبی کیا سیکولر جماعتیں اس حمام میں تقریبا سب ننگے ہیں۔ اگر اس ناسور کو ختم کرنا ہے تو تعلیمی اداروں میں موجود سیاسی جماعتوں کے ذیلی تنظیموں پر پابندی عائد کرنی ہوگی۔ بصورت دیگر آئندہ بھی کئی مشعال خان یا انجینئر عدنا ن ناکردہ گناہوں کے جرم میں قتل ہوتے رہیں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔