سیلابی صورتحال کا سامنا نہ ہوا تو بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی، ہنزہ میں بجلی کا بڑا مسلہ ہے، قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

سیلابی صورتحال کا سامنا نہ ہوا تو بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی، ہنزہ میں بجلی کا بڑا مسلہ ہے، قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(پ۔ر) محکمہ واٹر اینڈ پاور نے اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے اند ر گلگت شہر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کی جائیگی۔گزشتہ روز سے نالوں میں پانی بڑھنا شروع ہوا ہے اگر سیلابی صورتحال کا سامنا نہ ہوا توگرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔ہنزہ میں بجلی کا بڑا مسئلہ ہے،مسگر 3میگاواٹ،حسن آباد 2 میگاواٹ اور میون 1.5 میگاواٹ پر کام مکمل ہوگا توہنزہ کی عوام کو بجلی کے حوالے سے کافی ریلیف ملے گاتب تک ڈیزل انجن کے ذریعے ذیادہ سے ذیادہ بجلی فراہم کرنے کی کوشش کرینگے۔

محکمہ برقیات نے سفارش کی ہے کہ عطاء آباد پاور پروجیکٹ کو فیڈرل پی ایس ڈی پی میں اس سال شامل کرانے کے لیے سیاسی قیادت وفاق میں اپنا اثررسوخ استعمال کرے۔

قائمہ کمیٹی برائے محکمہ واٹر اینڈ پاور،ورکس اور پلاننگ کا اجلاس گزشتہ روز ممبر اسمبلی رانی عتیقہ غضنفر کی صدارت میں گزشتہ روز اسمبلی کے کانفرنس ھال میں منعقد ہوا۔اجلاس میں کمیٹی کے ممبران ،ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان ،ممبر اسمبلی راجہ جہانزیب ، محکمہ واٹر اینڈ پاور،ورکس اور پلاننگ کے ذمہ داروں نے بھی شرکت کیا۔

اس موقع پر قائمہ کمیٹی نے کہا کہ محکمے اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنائیں اور شکایت کا موقع نہ دیں تمام محکمے آپس میں بہتر ورکنگ ریلیشن شب قائم کرتے ہوئے عوام کو درپیش مسائل کے خاتمے کے لیے کام کریں اور علاقے کوترقی کی راہ پر گامزن کرے۔کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ محکمے جون سے قبل اسمبلی ممبران کی ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈر کو یقینی بنائیں اور ترقیاتی بجٹ کو استعمال میں لائے تاکہ علاقے کو درپیش مسائل میں کمی لائی جا سکے۔اس موقع پر محکمہ ورکس اورپلاننگ کی جانب سے بھی کمیٹی کو بریفگ دی گئی۔

کمیٹی نے محکمہ پلاننگ کی کارکردگی کو سراہا اور محکمہ ورکس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ترقیاتی سکیموں پر عمل درآمد کی رفتار کو مزید تیز کرے تاکہ ترقیاتی بجٹ کو جون سے قبل استعما ل میں لاکر اگلے مالی سال کے لیے وفاق سے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کرواسکے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ مئی کے پہلے ہفتے میں کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کرکے تمام محکموں سے ان کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ مانگی جائیگی تاکہ علاقے میں ترقیاتی عمل کوجاری وساری رکھ سکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔