کسی دن چپراسی بھی تھپڑ نہ مار دے ۔۔

کسی دن چپراسی بھی تھپڑ نہ مار دے ۔۔

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اخلاقیات کسی بھی قوم کی پہچان ہوتی ہیں اور جو قوم اخلاقیات پر سمجھوتہ کرے ذلالت اور غواری اس کا مقدر بن جاتی ہے اور دنیا میں وہ رسوائی سے پہچانا جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی کسی زمانے میں بااخلاق لوگ موجود ہوا کرتے تھے اور عام عوام سے لیکر حکمرانوں تک سب اخلاقی اصولوں پر عمل بھی کیا کرتے تھے اور دنیا بھر میں ہماری ایک پہچان بھی ہوا کرتا تھا اور کہیں جایا کرتے تو فخر سے سر اٹھا کر جایا کرتے تھے۔ اس بات کی ایک واضح مثال بھی موجود ہے کہ جب عوام سے رائے لئے بےغیر صدر مملکت ایوب خان نے چینی مہنگا کیا تو لوگوں نے اس کے خلاف کراچی کی سڑکوں پر نکل آئے اور شدید نعرہ بازی شروع کئے چونکہ ضمیر زندہ تھا اور اخلاقی اصول موجود تھے تو ایوب خان فوراً مستفی ہوئے۔ ضمیر زندہ رہا اور اس کی منصب کی لاج برقرار رہی۔

اس کے بعد تاریخ اگر دیکھا جائے تو ملک بے شمار مسائل سے دوچار رہا اور یہاں تک کہ ایک ایسا موڑ بھی آیا کہ ملک دولخت ہوا اور قوم کے ملی جذبہ جو آزادی کے وقت دلوں میں موجود تھا کمزور پڑ گیا۔ سوشلزم کا نعرہ لگا کر برسراقتدار آنے والا بٹھو بھی سرمایہ داروں کی انگلیوں پر ناچنے لگا اور ناچتے ناچتے انہی کے گود میں دفن ہوا تو سیاست سے مخلص لوگ کنارہ کشی اختیار کرتے گئے اور ضمیر فروش سرمایہ دار سسٹم میں ان ہوگئے اور اور مفاد پرست، فساد کی جڑ جنرل اقتدار پر شب خون مار دیا۔ بس پھر کیا ضمیر فروشی اور بےایمانی کا ایک نیا دور کا آغاز ہوا۔ اور آج یہ حال ہے کہ قومی اخلاقیات تباہی کے دہابے پر ہے اور ملک کا وزیر اعظم! جسے لوگ اب بھی وزیراعظم سمجھتے ہیں!!! مگر اخلاقیات نام کی کوئی چیز اس میں موجود نہیں ہے۔ آئے روز بیاججتی ہو رہی ہے سپریم کورٹ کے معزز جج صاحباں کے سامنے جب پانامہ کا کیس تھا تو اخلاقی فرض تھا کہ بندہ مستفی ہو جاتا جسے منصب کی لاج کا سب کو اندازہ ہوجاتا کہ وزیراعظم کی منصب پر فائز ہونے کے لئے مجرم ہونا درکنار بلکہ ہر طرح کی الزامات سے بھی پاک ہونا اشد ضروری ہے مگر یہاں تو بلکل رخ کی بدل ہے۔ وزیراعظم اور اس کے حواری سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جو کہ اس منصب کے لئے اخلاقی طور پر خلاف تھا، مگر وہ اسے اپنے حق میں تسلیم کرتے ہوئے مٹھائیاں تقسیم کرنے لگے اور اسطرح کھلے عام ریاست کے عظیم ترین ادارے کا مذاق اڑایا گیا۔ اور با اخلاق  لوگ بھی منہ دیکھتے رہ گئے کہ  ہم نے تو راجہ رینٹل کو منہوس ترین شخص کا درجہ دیئے تھے پر اس کے لئے تو ہمارے پاس الفاظ ہی نہیں ہے۔ بچہ بچہ یہ نعرہ بلند کرتے پھیر رہے ہیں کہ جائو نواز جائو بلکہ لوگ یہاں تک کہہ کئے کہ دفع ہو جائو مگر ان پر اثر ہی نہیں ہوتا۔ مگر اب لگ رہا ہے کہ لوگ اس منصب کا بھی مذاق اڑآنے لگے ہیں آئے روز یہ نعرہ لگ رہا ہے کہ گو نواز گو اور اخلاقیات سے محروم لوگ اسے قومی ترانے کا درجہ بھی دے چکے ہیں مگر اگے سے کوئی جواب نہیں آتا۔

 چلو یہ بات تسلیم کرلیتے ہیں کہ جمہوریت عام ہے ہر شخص کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے اور لوگوں کے احتجاج یا پھر گو نواز گو جیسے ترانے کو جمہوریت کہہ تو سہہ جاتے ہیں اور اپنے جیسے سیاسی مخالفیں کو تو براداشت کرنا بھی کوئی خطرے کی بات نہیں ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ کل اگر وہ تخت نشین ہو جاتے ہیں تو ان کے ساتھ بھی یہی ہونا ہے کیونکہ فطراتاً نہیں تو عادتاً سب ایک ہی تالاب کے مچھلی ہیں اور عزت اور عزت نفس کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہے اخر ہم بھی اسی بادشاہت کے رعایا جو ہیں۔ اور اگر فکر ہے تو اس جمہوری منصب کی ہے جسے پرائے دیس میں بہت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آج اگر سپریم کورٹ جو کہ ریاست کا ایک اہم ستون ہوتا ہے، کہا مان کر مستفی ہوجاتا تو اس منصب کی لاج باقی رہتا اور 21گریڈ کے افیسر “جن کا سارا محکمہ آپ کو جوابدہ ہوتا ہے اور کبھی کبھی آپ ان کو حکم بھی دیا کرتے ہیں، ہم نےجہان تک سنا ہے” کو آپ جناب کے نوٹیفکیشن ریجکٹ نہ کرنا پڑتا اور یوں نام نہاد جمہوریت کا مذاق کوئی نہ اڑا سکتا تھا۔ اب بھی وقت ہے کہ اپنے ضمیر کو جھنجوڑو اور اس منصب کی لاح کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش تو کرو کیونکہ 21 گریڈ کا افیسر تو باوردی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور باوردی لوگ آج تک اس ملک کی آئین و قانون کے ساتھ کیا کرتے آئے ہیں اور ان سے دنیا اچھی طرح واقف ہے اور اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ ایڈجسٹ ایبل معاملہ ہے ۔ مگر فکر کی ایک اور بات جو سامنے ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی تو گریڈ سترہ کے افسران جو نیب، اسٹیٹ بینک، ایم آئی، سیکورٹی ایکچنج کمیشن آف پاکستان وغیرہ سے ہونگے، نے بھی تلاشی لینی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ آپ یہ بھی ایڈجسٹ کرلیں گے۔  مگر محترم ہمیں ڈر اس رسوائی سے لگ رہا یے کہ کسی دن دانستہ یا نادانستہ وجہ سے آپ کے اپنے دفتر کے چپراسی کو آپ کی کوئی حرکت پسند نہ آئے اور وہ آپ کو تھپڑ مار دے اور آپ شاید اسے بھی ایڈجسٹ کر لیں مگر ہم سے یہ رسوائی شاید برداشت نہ ہو۔ اسلئے آپ سے یہ التجا ہے کہ خدارا اس منصب کی لاج پر ترس کھالیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔