ٓڈویژنل ہیڈکوارٹر بونجی میں نہیں بنایا گیا تو عدالت عظمی سے رجوع کریں گے، استور سپریم کونسل کا فیصلہ

ٓڈویژنل ہیڈکوارٹر بونجی میں نہیں بنایا گیا تو عدالت عظمی سے رجوع کریں گے، استور سپریم کونسل کا فیصلہ

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(سبخان سہیل) استور سپریم کونسل کا ایک اہم اجلاس گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سپریم کونسل کے ممبران ڈاکٹر غلام عباس ،طاہر ایوب ، پروفیسر جمشید ، سابق ڈی آئی جی میر افضل، سابق ڈی آئی جی محمد حنیف، محمد عیسئی ،محمد حسین ،نصراللہ خان ،بشیر آحمد ، ایڈوکیٹ اورنگزیب، مظہر ایڈوکیٹ، اور دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں استور سپریم کونسل نے دیامر استور ڈویژن کے ڈویژنل ہیڈ کوراٹربارے حتمی فیصلے سے قبل دیامر میں ڈویژنل ہیڈ کوراٹر کی تعمیرات پر انتہائی تشوش کا اظہار کرتے ہوئے عدالت عظمی جانے کا فیصلہ کرلیا۔

اجلاس میں متفقہ طور پر اس بات کا بھی مطالبہ دہرایا گیا کہ دیامر استور کا ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بونجی میں ہی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دیامر میں ڈویژنل ہیڈکوارٹر کا قیام کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اگر حکومتِ گلگت بلتستان ڈویژنل ہیڈ کوارٹر استور بونجی میں نہیں بناتی ہے تو ہمیں اس ہیڈ کوارٹر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کو گلگت کے ساتھ ملایا جائے۔ اگر حکومت گلگت بلتستان دیامر میں ہونے والی تعمیرات کو فوری نہیں روکتی ہے تو استور سپریم کونسل عدالت عالیہ جائیں گے۔

دیگر مسائل پر گفتگو کرتے ہوے شرکا نے کہا کہ استور ویلی روڈ کی تعمیر میں کسی قسم کی کوتائی ہرگز بردشت نہیں کی جائے گی۔ استور ویلی روڈ اور شونٹر ٹنل پر صوبائی حکومت خصوصی توجہ دیتے ہوئے اس کی بہتر تعمیر کے لیے سنجیدہ اقدامات کرئے استور ویلی روڈ کو مکمل ری ایلمینٹ کے بعد بنایا جائے بصورت دیگر صرف روڈ پر ٹکیاں لگانا پوری استوری قوم کے ساتھ ذیادتی ہوگی استور روڈ دفاعی اعتبار سے بھی انتائی اہمیت کا حامل روڈ ہے اس روڈ کی تعمیر میں کسی قسم کی کوئی کوتائی ہرگز بردشت نہیں کی جائے گی استور سپریم کونسل استوری قوم کی بھر پور ترجمانی کرئیگی انھوں نے مزیدکہا کہ ضلع استور میں شونٹر کو ضلع بنایا جائے اور استور کے آئی یو کمپیس کے لیے بھی وزیر اعلی گلگت بلتستان فوری احکامات جاری کریں استور ایک پسماندہ ضلع ہے اس ضلعے کی عوام کو ہمیشہ سے اندھرے کی طرف دھکیلا گیا جس کی وجہ سے آج استور مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ ضلع کے بالائی علاقوں میں گندم کا شدید بحران ہے ، لوگو ں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آئی ہے انتظامیہ خواب خرگوش کی نیند سورہی ہے حکومت گلگت بلتستان اور ضلع استور کی انتظامیہ فوری طورپر ان تمام مسائل کے حل کے لیے اقدمات کریں بصورت دیگر عوامی سطح پر شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔