مسلم لیگ اور حاجی وحید

مسلم لیگ اور حاجی وحید

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یہ ان دنوں کی بات ہے جب پرویز مشرف ملک میں سیاہ وسفید کے مالک تھے۔ نواز لیگ کا نام لینا محال ہو چکا تھا۔ اندرون خانہ ق لیگ کیلے ماحول بن چکا تھا۔ کھچڑی پک رہی تھی۔ ملک بھر سے دودھ پیتے مجنونوں کا ٹو لہ اقتدار کی ہوس میں جنونیت دیکھا رہا تھا۔ میاں برادران ملک چھوڑ چکے تھے۔ ایسے میں ن لیگ کے چند کارکن عملی طور پر اس جماعت کو پھر سے منظم کرنے کیلے میدان کار زار میں بے یارو مدد گار نبرد آزما تھے۔ ان کارکنان میں سے ایک حا جی وحید بھی تھے جو اپنے چند کار کنوں کے ساتھ صف اول کے سپاہی رہے اور ہر طرح کے مشکلات کا سامنا کیا۔

جس وقت کوئی ایک فرد بھی ن لیگ کا نام لینا پسند نہیں کرتا تھا اس وقت حاجی وحید چوک چوراہوں میں ببانگ دہل نواز شریف کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ یہ وہ دور تھا جس میں دیامر سے مکمل طور پر ن لیگ کا صفایا ہو چکا تھا۔ ضلع بھر میں بمشکل درجن بھر لوگ ایسے رہ چکے تھے جن کو نظریاتی متوالے کہہ سکتے ہیں۔ ان ہی لو گوں کی محنت کی بدولت آج وہ دن بھی آیا کہ مسلم لیگ ن ضلع کی سب سے بڑی جماعت بن گئی اور اس وقت چار میں سے تین نشستوں پر مسلم لیگ کے نما ئندوں پر عوام نے اعتماد کا اظہار کیا اور اب یہ تینوں ممبران منسٹرز ہیں۔

یہ سب ایسے ہی نہیں ہوا۔ اس میں ان نظریاتی کار کنوں کی محنت لگن اور خلوص شامل ہے ایسی لیے تو مسلم لیگ نے صفر سے ہزاروں کا سفر طے کیا ہے اور آج اقتدار کے مسند پر برائے جمان ہے لیکن حاجی وحیدجس نے اس جماعت کیلے اپنا سب کچھ قر بان کردیا۔ مصائب و آلام کا شکار رہے۔ برے دنوں میں پارٹی کا پرچم تھامے رکھا۔ جب اچھے دن آئے تو ان سے منہ پھیر لیا گیا اور آج وہ شخص دیوار سے لگا ہوا ہے۔

پچھلے دنوں سی ایم ہاوس کے باہر ان کے ساتھ محافظ عملہ نے جو بدتمیزی کی وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ایک ایسا شخص جس نے مشکل حالات میں اس پارٹی کو بچا کہ ر کھا اور آج بھی کارکنوں کے دکھ درد میں برابر کا شریک رہتا ہے پارٹی ورکروں کے مسائل لیکر صبح سے شام تک ضلع بھر چھان مارتا ہے اور اپنی ذاتی کمرشل پراپرٹی کو پارٹی کا سکریٹریٹ بنا کر ہمیشہ ورکروں کو دستیاب رہتا ہے، ایک ایسا نظریاتی جنونی کارکن جو اس پارٹی کا اثا ثہ ہے، آج مایوس دکھائی دے رہا ہے۔

حاجی وحید خود الیکشن نہیں لڑتا ہے بلکہ پارٹی جس کو بھی ٹکٹ دے اس کو سپورٹ کرتا ہے۔ الیکشن کے دنوں میں ہم نے موصوف کو دیکھا ضلع کے چاروں حلقوں میں برابر دورے کرتے رہے اور اپنی بساط کے مطا بق کوشش کی۔ جس کے نتیجے میں مسلم لیگ کو دیامر سے تاریخی کامیابی ملی۔ مگر اقتدار کی سیڑھی چڑھتے ہی صوبائی پارٹی قائدین نے حاجی وحید سے آنکھیں پھیر لیں۔ اس عمل سے دیامر بھر کے لیگی متوالے سخت دلبرداشتہ ہیں۔

ایک طرف صوبائی حکومت نے دیامر کے کئی دیرینہ مسائل کو پس پشت ڈال کر دیامر کے عوام کو غیر اہم قرار دیا ہے، اور دوسری طرف کئی لیگی رہنماؤں کے وعدے وعید ابھی ایفاء نہیں ہوئے ہیں، جس سے نہ صرف دیامر بلکہ پورے گلگت بلتستان میں اس پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے جو فی الحال واضع نہیں کیو نکہ اس وقت یہ جماعت اقتدار میں ہے۔ اس کرنے کا بھرنا اس وقت ہوگا جب جنرل الیکشن کا وقت آئے گا۔ دیامر میں اندرون خانہ گلی کوچوں کی سر گوشیاں ن لیگ کے حق میں نہیں ہیں۔ چو نکہ موجودہ حکومت کا دو سالہ دور دیامر کی حد تک انتہائی ما یوس کن رہا ہے۔اب صوبائی حکومت کے پاس اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لئے ایک سال باقی ہے، کیونکہ اگلے سال ملک بھر میں عام انتخابات ہونگے۔ انتخابات کے بعد جو ماحول بنے گا اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ میرے خیال میں ن لیگ کیلے امسال سیاسی کفارے کی ادائیگی کا آخری سال ہے۔ اس کے بعد معافی کے دروازے بند ہو جائینگے۔ اعمال نامے عوامی عدالتوں میں پیش ہونگے اور اس وقت ن لیگ کو دیامر کے عوام کو دیکھانے کیلے کچھ نہیں ہو گا اور اس وقت اس جماعت کے صفحوں میں حاجی وحید جیسے سدا بہار کارکن بھی نہیں رہینگے ۔

جہاں اتنا غیر ضروری لاؤ لشکر بنا یا گیا ہے وہاں حا جی وحید جیسے کارکنوں کیلے بھی کو ئی جگہ بنا یا جا سکتا ہے چو نکہ اس آدمی کو صرف عزت کا ایک نام چا ہیے باقی مال و زر کا یہ بالکل بھی خواہاں نہیں ہے۔ جب تمام اضلاع کے پارٹی صدور کو مقام و مرتبہ ملتا ہے تو حا جی وحید جو تین اضلاع کے مساوی ضلع کا پارٹی صدر ہے، ان کو بھی مناسب عزت ملنی چاہیے ۔

اگر سابقہ اور مو جودہ حکومت کے ادوار کا دیامر کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو یقناً بہت فرق محسوس ہوتا ہے۔ سابق دور میں پی پی کو دیامر سے ایک سیٹ بھی نہیں ملی تھی، لیکن اس کے باوجود بھی دیامر کو دو وزارتیں ایک پارلیمانی سکریٹری، ایک ٹیکنو کریٹ، ایک کو نسل کا ممبر، بشمول وزیر اعظم کا مشیر بنایا گیا تھا، جبکہ پارٹی کے ضلعی صدر کو وزیر اعلی کا مشیر بنا یا گیاتھا۔ اس کے بر عکس موجودہ حکومت کو تین نشستیں ملنے کے باوجود بھی عوام کو ما یوس کردیا۔ ترقیاتی کام اور انتظامی تقسیم کے دیرینہ مطا لبے کے حوالے سے  حکومت جوبے شمار توقعات رکھی جارہی تھیں، سب کے سب دیوانے کے خواب ثابت ہو گئے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں مسلم لیگ کے صوبائی قائدین دیامر کے عوام اور حاجی وحید جیسے دیرینہ مسلم لیگی کارکنوں کے تحفظات دور کرنے کیلے کیا اقدامات کرتے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔