آزاد صحافت کیوں ضروری ہے؟

آزاد صحافت کیوں ضروری ہے؟

73 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

دنیا بھر میں ہر سال تین مئی کو آزادی صحافت کا عالمی دن منا یا جاتا ہے۔یہ دن عالمی سطح پر منانے کی منظوری اقوام متحدہ نے ۱۹۹۲ ؁ء میں دی تھی۔ اس دن کو منانے کا مقصد جہاں آزادی اظہار رائے کی اہمیت کواجاگر کرنا ہے وہاں ان صحافیوں کی خدمات کو یاد کرنا بھی ہے جنہوں نے آزادی اظہار رائے کے حق کے لئے جہدو جہد کے دوران اپنی جانیں قربان کیںیا تشدد ، جھوٹے مقدمات ، دھمکیاں اور دیگر مصائب کا سامنا کیا۔

آزادی اظہار رائے کے حق کا شمار ان تیس بنیادی انسانی حقوق میں ہوتا ہے جن کا ذکر انسانی حقوق کے عالمی منشور میں کیا گیا ہے۔ انسانوں اور دیگر جانوروں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ انسان عقل اورضمیر رکھتا ہے ۔یہی عقل اور ضمیر انسان کی عظمت و وقار کی تشکیل کرتے ہیں۔اور انسان اشرف مخلوقات ہونے کا دعویٰ بھی اس لئے کرتا ہے کیونکہ وہ عقل رکھتا ہے ۔ عقل ہی ہے جو انسان کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت عطاء کرتی ہے جس کی بنیاد پر انسان اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ ابتدائی طور پر انسان صرف بولنے کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتا تھا اب وہ اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لئے بولنا اور لکھنا دونوں استعمال کرتا ہے ۔ جب ریڈیو ، ٹی وی ، انٹرنیٹ اور اخبار کا وجود نہیں تھا تو اس وقت انسان بیک وقت اپنی آواز ہزاروں میل دور بیٹھے بہت سارے لوگوں تک پہنچانے سے قاصر تھا۔ مگر جدید ذرائع ابلاغ کی ایجاد کے بعد یہ ممکن ہوا کہ دنیا کے ایک کونے سے اٹھنے والی آواز دوسرے کونے میں پہنچنے لگی۔ وقت کی ساتھ ان ابلاغ نے ایک صنعت کی شکل اختیا رکی جس کو ہم صحافت کہتے ہیں۔صحافت کا لفظ صحیفہ سے نکلا ہے جس کا مطلب لکھنا ہے۔چونکہ صحافت ابتدائی طور پر لکھنے کی حد تک محدود تھی اس لئے اس کو صحافت کا نام دیا گیا تھا مگر اب صحافت صرف لکھنا نہیں بلکہ بولنا بھی ہے ۔ جدید دور میں صحافت کے لئے اردو میں ذرائع ابلاغ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ذرائع ابلاغ انگلش کا لفظ ماس میڈیا کا اردو ترجمعہ ہے ۔ میڈیا، میڈیم کا جمع ہے جس کا مطلب ذرائع کے ہیں۔یعنی میڈیا اس ذرائع کا نام ہے جو ایک بات ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا تے ہیں۔ماس میڈیا یا ذرائع ابلاغ کا مطلب وہ ذرائع ہیں جو ایک بات کو ہزاروں، لاکھوں اور کروڑوں لوگوں تک پہنچاتا ہے۔

گویا عقل اور سوچ کے مطابق رائے قائم کرنا اور اس رائے کا اظہار کرنا انسان کی بنیادی خصلت ہے۔اسی طرح اپنے آس پاس کی دنیا سے متعلق جاننا بھی انسان کی بنیادی خصلت ہے۔ لہذا اپنی رائے کا اظہار اور معلومات تک رسائی انسان کے فطری حقوق ہیں جن کو انسانی حقوق کے عالمی منشور میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل ۱۹ میں لکھا گیا ہے کہ ” ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے اور اس کو ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے اس حق میں یہ امر بھی شامل ہے کہ ہر شخص آزادی کے ساتھ بغیر کسی قسم کی مداخلت کے اپنی رائے پر قائم رہے اور جس ذرائع سے بھی چاہے اور ملکی سرحدوں کے حائل ہوئے بغیرمعلومات اور خیالات کا حصول اور تر سیل کرے۔”

گویا ذرائع ابلاغ دراصل انسان کے دو بنیادی حقوق یعنی جاننے کا حق اور رائے کے اظہار کے حق کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ا گر انسان سے رائے قائم کرنے اور جاننے کاحق چھین لیا جائے تو وہ اس کی بنیادی آزادی سلف کرنے کے مترادف ہوگا ۔ چنانچہ یہی ذرائع ابلاغ ہیں جن کی مدد سے دنیا کے مختلف حصوں میں بیٹھے ہوئے انسان اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں اور دنیا بھر کی معلومات بھی حاصل کرتے ہیں۔لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کی آزادی دراصل مذکورہ دو بنیادی حقوق کی پاسداری کی ضامن ہے اور ذرائع ابلاغ پر پابندی یا قد غن در اصل مذکورہ دو نوں انسانی حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے۔ان دونوں حقوق کا تعلق جمہوریت اور دیگر انسانی حقوق سے بھی جڑا ہوا ہے ۔ گویا ان حقوق کے غصب ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کے دیگر بنیادی حقوق بھی متا ثر ہوجاتے ہیں۔ اظہار رائے اور جاننے کے حق کا استعما ل صحافت کے علاوہ بھی کئی طریقوں سے ہوتا ہے جیسا کہ جلسہ جلوس، ڈرامہ، فلم،ادب، شاعری، تقریر و تحریر اور سماجی میڈیا بھی اس کے اہم ذرائع ہیں ۔ ان تمام کی آزادی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی صحافت کی آزادی ضروری ہے ۔ ہمارے ہاں یہ روایت بہت پرانی ہے کہ اپنے نقظہ نظر کا کھل کر اظہار کرنے والے کسی شخص سے چھٹکارا حا صل کرنے کے لئے بڑی آسانی سے ان کو غدار اور کافر کے القابات سے نوازا جاتاہے ۔ مگر ہماری تاریخ میں صحافی اس کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے رہے ہیں۔کیونکہ صحافی آزادی اظہار رائے اور جاننے کے حق کے فرنٹ لائن سپاہی تصور کئے جاتے ہیں۔صحافی ان لوگوں کی آواز بنتے رہے ہیں جن کی کوئی آواز نہیں ہوتی ۔ اس لئے صحافی ان قوتوں کو کھٹکتے ہیں جو انسانوں کی آزادی اظہار رائے اور جاننے کے حق سے خائف رہتے ہیں۔

آزادی صحافت کا عالمی دن مناننے کا مقصد یہی ہے کہ انسان کے مذکورہ دو بنیادی حقوق کی پاسداری کو عالمی سطح پر یقینی بنانے کی کوششوں کی پذیرائی کی جائے۔ہر سال اس دن کے لئے ایک موضوع دیا جاتا ہے جبکہ اس سال اس دن کا موضوع ” نازک وقت کے لئے تنقیدی ذہن ۔امن ، انصاف اور سب کے لئے مناسب معاشرے کی تشکیل میں میڈیا کا کردار” تھا۔

آزادی اظہار رائے اور جاننے کا حق تسلیم کئے جانے سے ایک عام انسان کے اندر ایک طا قت آجاتی ہے اور وہ طاقت ان کردار وں کو للکارتی ہے جو انسانی سماج میں ناانصافی اور ظلم و بر بر یت کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں ۔یہ طاقتیں انسانوں کے مذکورہ دونوں حقوق کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی ہیں اور ان حقوق کی پاسداری کرنے والے افراد کا گھیرا تنگ کرتی ہیں ۔پاکستان کی ستر سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ صحافت کے شعبے سے وابسطہ افراد نے اس شعبے کی آزادی کے لئے بڑی جدوجہد کی ہے۔ اس جدو جہد کے دوران کئی صحافیوں نے اپنی جانیں گنوائیں یا قید و بند، تشدد اور دیگر صعبتیں جھیلی ہیں۔

انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کا شمار ان چار ممالک میں ہوتا ہے جہاں گذشتہ پچیس سالوں میں سب سے زیادہ صحافی قتل ہوئے۔ ان میں سب سے پہلے نمبر پر عراق آتا ہے جہاں گذشتہ پچیس سالوں میں ۲۲۹۲ صحافی قتل ہوئے، فلپائن میں ۳۰۹، میکسیکو میں ۱۴۶ اور پاکستان میں ۱۱۵ صحافی قتل ہوئے۔

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل ۱۹ اور ۱۹ /اے، آزادی اظہار رائے اور معلومات تک رسائی کے حق کی گرنٹی دیتے ہیں ۔ پاکستان کے آئین کے ارٹیکل ۱۹ میں لکھا گیا ہے کہ “ہر شہری کو تقریر کرنے اور آزادی سے اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ پریس آزاد ہوگا۔یہ آزادیاں ان معقول پابندیوں کے تابع ہوں گی جو عظمت اسلام، ملک کی سا لمیت یا ملکی دفاع یا غیر ممالک سے دوستانہ تعلقات یا امن عامہ یا اخلاقیات کے تحفظ یا توہین عدالت یا جرم کے ارتکاب کو روکنے یااس کی تر غیب کے امکانات کے پیش نظر قانون کے مطابق عائد کی جائیں”۔آئین میں آزادی اظہار رائے کو جن معقول پابندیوں سے مشروط کیا گیا ہے وہ ہمیشہ قابل بحث رہی ہیں ۔کیونکہ آزادی اظہار رائے کو روکنے کے لئے ان معقول پابندیوں کی تشریح ہر کوئی اپنے مفاد کے پیش نظر کر تا ہے ۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ پاکستان میں ذمہ دار صحافت کا فقدان ہے ۔ جس کی وجہ صرف صحافیو ں کا غیر پیشہ وارانہ رویہ نہیں بلکہ حکومتوں کی کوتاہی بھی ہے جنہوں نے اس شعبے کی اہمیت باوجود اس سے وابسطہ افراد کی تعلیم و تربیت پر آج تک توجہ ہی نہیں دیاہے۔ مگر اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ صحافت کی آزادی کو تسلیم کئے بغیر ہم ایک جمہوری معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتے۔ پاکستان میں آج بھی صحافیوں کے بنیادی حقوق اور ان کا تحفظ ایک سنگین مسلہ ہے ۔ اس ضمن میں نہ تو آج تک مناسب قانون سازی کی گئی ہے اور نہ ہی پالیسی بنائی گئی ہے۔

اگر گلگت بلتستان کی بات کی جائے تو گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے آرٹیکل ۱۱ میں آزادی اظہار رائے کے حق کو ان الفاظ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ” ہر شہری کو رائے کے اظہار کی آزادی ہوگی،بشرط کہ گلگت بلتستان کے تحفظ، امن عامہ، تہذیب اور اخلاقیات کے لئے کوئی پابندی نہ لگائی گئی ہو یا توہین عدالت یا کسی جرم کے لئے ترغیب کے حوالے سے قانونی پابندی نہ لگائی گئی ہو” ۔

اس کے باوجو د موجود دور حکومت میں گلگت بلتستان میں آزادی اظہار رائے کی صورت حال کوئی تسلی بخش نہیں رہی ہے۔ صرف ۲۰۱۶ ؁ء میں ایسے بارہ واقعات ریکارڈ میں آئے ہیں جن میں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ڈرایا دھمکایا گیا یا اور ان پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ ۲۰۱۷ ؁ء کے مئی تک ایسے دس واقعات ریکارڈ پر آئے ہیں ۔ اگر چیدہ چیدہ واقعات کا ذکر کیا جائے تو گذشتہ یہاں اخبارات کے بلات کی عدم ادائیگی کے باعث دس دن تک گلگت بلتستان کے تمام اخبارات کو اپنی اشاعت روکنے پر مجبور کیا گیا جو کہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا انوکھا واقع تھا اور اس کو ایک گلگت بلتستان کی صحافتی تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اسی طرح پانچ مقامی اخبارات کو مختلف خبریں شائع کرنے پر اظہار وجوہ کے نو ٹسسز جاری کئے گئے جس کی نظیر اس سے پہلے کھبی نہیں ملتی ہے۔اس کے علاوہ دیگر کئی واقعات ہیں جن میں ایک صحافی ثاقب عمر کو شیڈول فور میں ڈلا گیا ۔ بانگ سحر پر پابندی لگا دی گئی اور ان کے چیف ایڈیٹر دولت جان کو پابند سلاسل کیا گیا۔شبیر سہام پر مقدمہ بنایا گیا۔ محمد عیسیٰ حلیم، مجید احمر، مہدی اکمل، شفیع اللہ اور اسماعیل کرونی سمیت کئی صحافیوں کو دھمکیاں دی گئیں اورمقدمات بنائے گئے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اب آزدی اظہار رائے جیسے بنیادی حق کو تسلیم کرے اور گلگت بلتستان کی سطح پر صحافیوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے لئے صحافیوں کی مشاورت سے ایک موثر اور جامع پا لیسی بنائی جائے تاکہ آئین اور قانون میں تسلیم کئے گئے آزادی اظہار رائے اور جاننے کے حق کی حقیقی معنوں میں پاسداری کو یقینی بنایا جاسکے اور اگر کہیں پر صحافت کی طرف معقول پابندیوں کو ملحوظ خاطر نہ رکھے جانے کا شکوہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ عدالت سے رجوع کیا جائے کیونکہ آئین میں آزادی اظہار رائے سے متعلق آرٹیکل میں درج معقو ل قانونی پابندیوں کی تشریح عدالت کے علاوہ کوئی شخص یا ادارہ نہیں کر سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب آزادی اظہار رائے کے حق کو حقیقی معنوں میں مکمل طور پر تسلیم کیا جائے۔صحافیوں کے تحفظ کے لئے جرنلسٹس پروٹیکشن لاء بنا یا جائے، ان کی پیشہ وارانہ تربیت کا حکومتی سطح پر اہتمام کیا جائے، ان کے حقوق کے فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں جو آزادی اظہار رائے اور جاننے جیسے بنیادی حقوق کی راہ میں حائل ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔