کیایہ خودکشی نہیں۔۔۔؟

کیایہ خودکشی نہیں۔۔۔؟

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : محمدعلی وزیرآباد

گلگت بلتستان خصوصًا ضلع غذرآج کل خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے ہر ہفتے بعد کسی نہ کسی جگہ سے خودکشی کی خبر سننے کو ملتی ہے کہ فلاں علاقے یا گاؤں میں کسی شخص نے خودکشی کر لی ہے یا کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے کہ اس کا سدّبا ب کیسے کیا جا ئےأ اور یہ کونسی بیماری ہے جو لوگوں کواپنی زندگی کا خاتمہ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں بحیثیت مسلمان ہمارا دین ہمیں ایسے اعمال سے بچنے کی سخت تاکید کرتے ہیں اور ہمارا عقیدہ بھی ہے کہ دنیاوی زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے اوپر ہمارا اختیار نہیں جیسے زندگی اور موت ان پر صرف اللہ تعالی کی ذات ہی مالک ہے قرآن کریم میں ارشاد ہے ترجمہ : تم لوگ اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں مت ڈالو ۔اسی طرح امام جعفرالصادقؑ فرماتے ہیں :جو اپنے نفس کو جان بوجھ کرقتل کرے وہ جہنمی ہے اور ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہے گا ۔

خودکشی کرنے والے ا پنی زندگی سے تنگ آچکے ہوتے ہیں اور انہیں ا ن کا حل کہیں نظر نہیں آتا اور مکمل ناامیداور مایوس ہونے کی وجہ سے آخر ایسا اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

بحیثیت طالب علم میرے خیال میں خودکشی کرنے والوں کی دو قسمیں ہیں ایک وہ گروہ جو جذبات میں آکر اپنے آپ کو بندوق کی گولی سے مار دیتے ہیں، دریا میں چھلانگ لگا لیتے ہیںیا رسی سے اپنی جان لے لیتے ہیں دوسرا وہ گروہ ہیں جو جان بوجھ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر رہے ہو تے ہیں لیکن انہیں کوئی پرواہ نہیں اور خوشی سے استعمال کرتے ہیں جیسے منشیات کا حد سے زیادہ استعمال کرتے ہیں ا ن میں چرس، افیون ،شراب اور گوٹکا وغیرہ قابل ذکر ہیں ان منشیات کا کثرت استعمال سے انسان مختلف خطرناک موذی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں کینسر ،دل، پھپھڑے اور سانس کی بیماریاں سر فہرست ہیں اور یہ بیماریاں آخر ان کی موت کا سبب بنتی ہے۔
ان کابخوبی علم ہونے کے باوجود خودکشی کرنے والوں میں اکثر پڑھے لکھے لوگ خاص کر طالب علموں کی ہے ان کی عمر پندرہ سے لے کر پینتیس سال تک کے ہیں ان کی سب سے بڑی وجہ بے روزگاری ،احساس کمتری ،نا امیدی ،منشیات کا استعمال اور گھریلو جھگڑے ہیں جس کی وجہ سے اپنی تعلیم صحیح طرح حاصل نہیں کر پاتے اور ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں جس کی وجہ سے اس موذی ا ور دائمی مرض کا شکار بن جاتے ہیں جو آخر کار خودکشی کا سبب بن سکتے ہیں ان کی روک تھام اور علاج و معالجے کی سہولیات بھی موجود نہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ علاقے میں صحت کی سہولیات عام کی جائیں اور لوگوں میں شعوری و آگاہی مہم چلایا جائے۔

آخر میں ہم وفاقی حکومت بلخصوص گلگت بلتستان کے صوبائی حکومت،مذہبی سکالرزاور انسانی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والے این جی اوز ملک و علاقے میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں اور منشیات کے روک تھام کے حوالے سے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔