ہنزہ: کاروباری تنظمیوں کے اپیل پر ہنزہ میں کامیاب پہیہ جام اور شٹر ڈاون ہڑتال

ہنزہ: کاروباری تنظمیوں کے اپیل پر ہنزہ میں کامیاب پہیہ جام اور شٹر ڈاون ہڑتال

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ (اکرام نجمی، ذوالفقار بیگ) ہنزہ کے کاروباری تنظمیوں کے اپیل پر ہنزہ میں کامیاب پہیہ جام اور شٹر ڈاون ہڑتال سے کاروبار زندگی مفلوج رہا ہنزہ کے کاروباری مراکز ہوٹلز اور ٹرانسپورٹ جمعہ دن دو بجے تک بند رہیں علاقے کے تمام سیاسی جماعتوں نے اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا ۔

ہڑتال میں شامل تنظیموں کی جانب سے ایک اعلانیہ بھی جاری کیا گیا جس میں ان تنظموں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہنزہ بزنس ایسوایشن ،ہو ٹل ایسو ایشن،ٹرانسپورٹ یونین ہنزہ اور دیگر تمام کاروباری اور سیاسی جماعتوں کی اپیل پر مکمل شٹر ڈاون و پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔کیونکہ سنٹرل ہنزہ میں بجلی کی حالت زار پر پر حکام بالا کی مسلسل مجرمانہ خاموشی عوام ہنزہ بلخصوص کاروباری حضرات کو فاقہ کشی پر مجبور کر رہی ہے۔ایک طرف بجلی کی عدم موجودگی دوسری طرف پانی کے ایک ایک بوند کو ترسانے کی بیروکریسی کی پالیسی سے تمام مکاتب فکر انتہائی اہم قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے ۔حکام بالا سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ۔

۱۔سنٹرل ہنزہ میں محکمہ برقیات کے نااہل و کرپٹ انتظامیہ کو لگام دی جائے۔جو کہ عوام الناس کیساتھ مسلسل جھوٹ و فریب سے اپنے جیبوں کو بھر رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں نئی جنر تر کی تنصیب کے نام پر عوام کیساتھ فراڈ اسکی جیتی جاگتی مثال ہے اور حکام بالا سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ آئندہ چند روز کے اندر نئے جرنیٹر کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے ہنزہ کے غریب عوام اور کاروباری برادری بار بار جرنیٹر کی تبدیلی کے نام پر بجلی کی بندش کا متحمل نہیں ہوسکتا۔


۲۔لوکل انتظامیہ نے صفائی کی مد میں فیس کا اطلاق تو کیا لیکن ایک ٹریکٹر سے پورے سنٹرل ہنزہ میں صفائی کا نعرہ کاروباری افراد کے زخموں پر نمک پاشی کا باعث بن رہا ہے۔اور ہنزہ اس وقت عین سیا حت کے سیزن میں کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے۔
۳۔غیر اعلانیہ ہیڈ کواٹر میں کاروباری افراد اور عوام پانی کے برتن لیکردربدر ہو رہے ہیں۔لیکن عوام کی حالت زار پر کوئی توجہ نہیں دیں رہا ہے۔آدھے سے زیادہ علی آباد کو ایک سال سے پرانے پانی کے پائپ لائین سے محروم رکھا گیا ہے۔لیکن B&Rکے ارباب اختیار چشم کشائی کی پایسی پر عمل پیرا ہے۔

۴۔کریم آبادسیاحتی مقام سے بلتت فورٹ چوک سے گرلز کالج تک روڈ کی میٹلنگ جو کہ اٹھارہ فٹ ہو نا چاہیے تھا جسکو محکمہ تعمیرات نے کم کر کے چودہ فٹ کیا ہے۔جو کہ قابل مذمت ہے اور اسکو اٹھارہ فٹ پر میٹلنگ ہونا چاہئے۔اسکے علاوہ پرانے تارکول کو توڈ کر دوبارہ نئے سرے سے میٹلنگ کیا جائے۔لہذا متفقہ طور پر مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مندرجہ ذیل مطالبات پر فوری طور پر عمل درآمد کے مطالبہ سے بزنس ایسوایشن ٹرانسپورٹ یونین ہنزہ اور دیگر تمام کاروباری اور سیاسی جماعتیں ایک قدم پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں۔ضلعی انتظامیہ کو ایک ہفتہ کی ڈیڈ لائین دی جاتی ہے کہ ان مطالبات پر فوری پر عمل کیا جائے بصورت دیگر عوام ہنزہ کو سڑکوں پر احتجاج دھرنے جیسے آئینی و جمہوری حق استعمال کرنے سے کو ئی نہیں روک سکتا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔