شاہراہ قراقرم پر رینٹ اے کار کے بڑھتے ہوئے حادثات

شاہراہ قراقرم پر رینٹ اے کار کے بڑھتے ہوئے حادثات

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: دردانہ شیر

گلگت بلتستان کے عوام کو بہتر سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لئے خطے میں جہاں نیٹکو کا اہم کردار ہے وہاں پر پرائیوٹ سیکٹر میں بھی متعدد ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے بھی عوام کو بہتر آمد وفت کے لئے جدید بس سروس شروع کر دی ہیں مگر آج کل کے اس جدید دور میں ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس سے بھی بہتر سفری سہولت خواہش رکھتاہے گزشتہ کچھ سالوں میں گلگت اور اسلام آباد کے درمیان رینٹ اے کا ر کے نام پر کار سروس بھی شروع کر دی گئی ہے یہ سروس بھی بہت ہی کامیاب جارہی ہے اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گلگت بلتستان کے بعض سرکاری آفسران نے بھی اس کاروبار کو منافع بخش تصور کرتے ہوئے سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ اس کاروبار میں بھی شامل بتائے جاتے ہیں ذرائع کے مطابق ان آفسران کے دو درجن سے زائد کاریں رینٹ اے کار نام پر گلگت اور اسلام آباد کے درمیان چلتی ہیں راقم نے بھی گزشتہ دنوں اسلام آباد اور گلگت کے لئے اس طرح کی ایک کار میں سفر کرنا مناسب سمجھا اور کار کے ڈرائیور سے بات کی تو انھوں شروع میں اٹھارہ ہزار کرایہ بتایا اخر کا ر بارہ ہزار میں بات پکی ہوگی اور ہم رات دس بجے کے قریب روالپنڈی سے اﷲکا نام لیکر گلگت کی طرف روانہ ہوگئے کار میں پہلی بار میں اپنے بچوں کے ساتھ سفر کر رہا تھا ڈرائیور کار میں سوار ہوتے ہی کار کی سپیڈ ایک سو سے اوپر تک لے گیا چونکہ مجھے بھی ڈرائیونگ کرنے آتی ہے اس وجہ سے میں کچھ پریشان ہوگیا اور ایک پٹرول پمپ کے سامنے جب گاڑی میں فیول ڈالنے کے لئے انھوں نے کار روکی تو میں بھی اتر گیا اور اپنے کار کے پائلٹ کو بتایا کہ بھائی صاحب کار کی سپیڈ کچھ کم نہیں ہوسکتی ہے تو موصوف کہنا لگا کہ سر ہم نے ٹھیک گیارہ گھنٹے میں گلگت پہنچنا ہے اگر اس رفتار سے کم کر دونگا تو پندر ہ گھنٹے لگ جائینگے میں نے ان کو بتا دیا کہ بھائی ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے اپ آرام سے چلے دیر ہی سعی بہر حال انھوں نے کسی حد تک سپیڈ تو کم کر دی لیکن راستے میں ایک دو باتیں ایسی کر دی جس سے میں چونک گیا ڈرائیور نے یہ کہہ کر مجھے پریشان کیا کہ اگر میں گلگت پہنچ گیا اور اس دوران اگر مجھے سواری مل گئی تووہاں اپ کو اتار کے ہی واپس آجاونگا اور ہمارے اس پائلٹ نے بڑے فخر کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ کئی بار میں نے گلگت سے اسلام آباد سواریوں کو اتار کر جب وہاں سے دوبارہ بکنگ ملی توبغیر کوئی آرام کے گلگت کی طرف نکل گیا ہوں اور ساتھ یہ بھی کہنا نہ بھولے کہ بشام سے اگے گلگت جانے والی بسوں کو دو سے چار گھنٹے سیکورٹی والے روک دیتے ہیں مگر ہم کار والوں کو کوئی نہیں پوچھتاواقعی میں ایسا ہی ہوا ہم صبح کوئی چار بجے کے قریب بشام سے اگے اس بیرل پر پہنچے جس کا ڈرائیور نے ہمیں ذکر کیا تھا وہاں پر گلگت بلتستان جانے والی درجنوں بسیں کھڑی تھی جن کے مسافر چھ بجے کا انتظار کر رہے تھے ہمیں نہ تو کسی پولیس والے نے روکا اور نہ ہی پوچھنا گوارہ کیا کہ اپ کہاں جارہے ہیں ڈرائیور نے فخریہ انداز میں کہا دیکھا سر اگر اپ بھی بس میں آتے تو یہاں کئی گھنٹے اپ انتظار کر رہے ہوتے ابھی ہمارا سفر جاری تھا کہ پٹن کے قریب دو کاریں ہم سے آگے نکلی تو ڈرائیور نے کہا کہ یہ کاریں بھی ہماری کمپنی کے ہیں اس کے بعد وہاں سے یہ تینوں کارڈرائیور ایک دوسری سے اگے نکلنے کے لئے ریس لگا دی میں نے ایک بار پھر ڈرائیور کو بتا دیا کہ بھائی سپیڈ کم کر دو اپ کی مہربانی ہوگی مگر اس نے کہا عمل کرنا تھا کمیلا کے قریب ہماری گاڑی اور دوسری کار کے درمیاں ٹکر ہوتے ہوتے رہ گیا اور اس دوران میں نے ڈرائیور کو اخری وارننگ دی کہ اگر اپ نے سپیڈ کم نہیں کی تو اگے آنے والے پولیس چیک پوسٹ پر اپ کی شکایت ہوگی یہ کہنا تھا کہ ڈرائیور نے گاڑی کی جو ریس دوسری گاڑی سے اگے نکلنے کے لئے لگائی تھی وہ کم کر دی اور وہاں سے گلگت تک ہمارے اس پائلٹ کی سپیڈ کم رہی اور کوئی 13گھنٹے میں ہم گلگت پہنچ گئے

قارئین کرام :۔یہ سب کچھ لکھنے کا میرا مقصد یہ تھا کہ گزشتہ دو سے تین سالوں کے درمیان شاہراہ قراقرم پر ٹریفک کے اگر حادثات کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر حادثات رینٹ اے کار کے سب سے زیادہ ہوگئے ہیں کئی آفراد ان ٹریفک حادثات میں اپنے جانوں سے چلے گئے مگر کسی نے ان حادثات کے محرکات جاننے کی کوشش نہیں کی جس کی اصل وجہ میری نظر میں تیز رفتاری اور نیند ہوسکتی ہے چونکہ جو ڈرائیور بارہ سے پندرہ گھنٹے سفر طے کر کے اپنے سٹیشن پہنچ جاتا ہے تو وہاں اس کو آرام کی بجائے دوسری سواریوں کو لے جانے کا حکم مل جائے تو اس طرح کے حادثات ہونا کو ئی تعجب کی بات نہیں ہے اس کے علاوہ پرائیوٹ چلنے والی ان کاروں کا گلگت بلتستان کی انتظامیہ نے کوئی کرایہ مقرر نہیں کیا ہے جس باعث ان کار مالکان کی اپنی مرضی ہے اور یہ لوگ یہاں آنے والے سیاحوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں کیا صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ پر کرایہ مقرر کرنے والے سرکاری اداروں نے اس طرف بھی کوئی توجہ دی ہے کہ روزانہ گلگت بلتستان سے اسلام آباد چلنے والی کاروں کا کرایہ مقرر کیا جاسکے یا اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ جن کاروں میں مسافروں کو بیٹھا کر لے جایا جاتا ہے ان کے پاس کوئی روٹ پرمٹ ہے یا نہیں اور اب تک شاہراہ قراقرم پر رینٹ اے کار کے جو حادثات پیش آئے ہیں ان کا جائزہ لینے کی کوئی کوشش کی گئی ہے یا اس کو ایک حادثہ قرار دیکر خاموشی اختیار کی ہے اس حوالے سے گلگت بلتستان کی انتظامیہ سے یہ گزارش ہے کہ کم ازکم یہ دیکھا جائے کہ اس روڈ پر چلنے والی کاروں کا باقاعدہ طور پر کرایہ مقرر کیا جائے اور ان کاروں میں سفر کرنے والے مسافروں سے ڈرائیور کے اخلاق کے بارے میں پوچھا جائے اور یہ بھی جائزہ لیا جائے کہ ان کاروں کے مالکان حکومت کو کوئی ٹیکس دیتے بھی ہیں یا تمام رقم اپنی جیب میں ڈالتے ہیں بغیر آرام کے ڈرائیور کو انسانی جانوں سے کھیلنے والے آفراد کے خلاف سخت سے سخت سے سخت کارروائی کی جائے گلگت سے اسلام آباد چلنے والی ان کاروں کا باقاعدہ طور پولیس اور انتظامیہ کو نظر رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ اگر ان کار مالکان کو اس حالت میں چھوڑا گیا تو اس شاہراہ پر ٹریفک حادثات بڑھنے کے قوی امکان ہیں۔اس حوالے سے معتلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author