پندرہ سال قبل تعمیر ہونے والی گلگت غذر سڑک جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار

پندرہ سال قبل تعمیر ہونے والی گلگت غذر سڑک جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(تجزیاتی رپورٹ: صفدرعلی صفدرسے) گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور محکمہ تعمیرات عامہ کی عدم توجہی کے باعث گلگت غذر روڈکھنڈرات میں تبدیل ہوگیا۔پندرہ سال قبل تعمیرہونے والے غذرکی مرکزی سڑک سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ کے باعث جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے گلگت سے غذرکے علاوہ گلگت سے چترال جانے والے مسافروں کوسخت مشکلات درپیش ہیں۔ سڑک کی خستہ حالی کے سبب ایک طرف ٹرانسپورٹرز اور پرائیوٹ گاڑی مالکان کوسخت مالی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے تو دوسری جانب مسافروں اور غذرکی حسین وادیوں کا نظارہ کرنے کی غرض سے آنے والے سیاحوں کو بھی شدیدتکالیف کا سامنا ہے۔ غذرروڈ بارگو،تھول داس،شروٹ شکیوٹ ،دالناٹی،گلاپور،ہاکس اور دیگرمقامات پر قدرتی آفات کی زدمیں آکر شدیدمتاثرہوا ہے اور کچی سڑک پر سفرمسافروں خاص طورپرمریضوں اور ضعیف العمر افراد کے لئے شدیداذیت کا باعث بن رہا ہے مگرصوبائی حکومت اور محکمہ تعمیرات عامہ کا عملہ کوئی ٹس سے مس نہیں ہے۔ حالانکہ وزیراعلیٰ اور صوبائی وزیرتعمیرات سمیت تمام اعلیٰ حکام بھی وقتاً فوقتاً غذر روڈپر سفرکرتے ہیں اور تمام ترسفری مشکلات کے باوجود سڑک کی خستہ حالی کا کسی نے کوئی نوٹس لیا نہ ہی علاقے سے منتخب عوامی نمائندوں نے اس حوالے سے قانون سازاسمبلی میں آواز اٹھانے کی زحمت اٹھائی۔

غذر کے عوام اس بات پر پریشان ہیں کہغذرروڈکی کشادگی ومرمت کے حوالے سے صوبائی حکومت کی جانب سے گزشتہ برس ڈیڑھ ارب روپے مختص کئے جانے کا اعلان کیا گیا اورخود وزیراعلیٰ کا گرنجرکے سامنے سیمپل کے طورپر تعمیرشدہ آدھا کلومیٹرروڈکا جائزہ لینے کے باوجود مذیدکام کے حوالے سے کوئی پیش رفت کیوں نہ ہوسکی۔عوا م کے ذہنوں میں یہ سوال بھی گردش کررہا ہے کہ کیا صوبائی حکومت غذر کے عوامی مسائل سے اس قدرپردہ پوشی کرکے عوام سے گزشتہ انتخابات میں غذر سے اپنی پارٹی کی بدترین شکست کا بدلہ تو نہیں لے رہی ہے؟یا غذر کے راستے گلگت چترال کے مابین سی پیک کا متبادل سڑک بنانے کے معاہدے کے بعدصوبائی حکومت غذرروڈکے لئے مختص ڈیڑھ ارب کی اس رقم کو کسی اور منصوبے پرخرچ کرنے کی نیت میں تونہیں؟

غذر کے عوام اپنے علاقے کی واحدشاہراہ کی خستہ حالی سے متعلق سخت فکرمندہیں اور وہ ان وجوہات کے بارے میں بھی جاننا چاہتے ہیں جن کے سبب کئی سالوں سے مسلسل سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ کی نذر ہونے والی سڑک پرپیچ ورک تک کیوں نہیں کیا گیا کیونکہ اس روڈکی تعمیران کے لئے اتنا ہی اہم ہے جتنا جگلوٹ سکردو روڈکی تعمیربلتستان کے عوام کے لئے ہے۔

ساتھ ہی ساتھ عوام وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور چیف سکریٹری داکٹرکاظم نیاز سے گلگت غذر اور گلگت چترال کے مابین چلنے والے مسافروں اور ٹرانسپورٹرزکودرپیش مسائلکو مدنظررکھتے ہوئے صوبائی حکومت کے اعلان کے تحت ڈیڑھ ارب کی رقم سے فوری طورغذر روڈ کی مرمت اور سیلاب سے متاثرہ حصے میں پیچ ورک شروع کرنے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں تاکہ اس سے غذر کے عوام کو درپیش سفری مشکلات کا خاتمہ کیا جاسکیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔