یاسین میں سینکڑوں افراد کا محکمہ خوراک کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، دھرنا شروع کرنے کا اعلان

یاسین میں سینکڑوں افراد کا محکمہ خوراک کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، دھرنا شروع کرنے کا اعلان

32 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یاسین (معراج علی عباسی ) یاسین میں سول سپلائی کی جانب سے گندم کی عدم فراہمی، ماہ جون کا کوٹہ اب تک تقسیم نہ ہونے اور یاسین کی مختلف گوداموں سے کٹوتی کے نام پر عوامی کوٹے کے 3500 بوریاں غائب کرنے کا انکشاف، سینکڑوں روزداروں کا محکمہ خوراک کے خلاف تپتی دھوپ میں چار گھنٹے تک سول سپلائی کے مرکزی گودام کے باہرشدید احتجاجی مظاہرہ۔

مظاہرین نے حکومت کو ماہانہ راشن کی تقسیم کے لیے صرف 24 گھنٹے کی ڈیڈلائن دے دی۔ 24گھنٹوں کے اندارماہ جون کاراشن اور عوامی کوٹے سے غائب شدہ گندم کی بوریاں تقسیم نہ کرنے کی صورت میں 23جون صبح نو بجے سے تحصیل یاسین کی سطح پر دھرنا دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے عید تک دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ۔چاندرات تک جون کا راشن تقسیم ہونے کے صورت میں نمازعیدکے بعد تمام عیدگاہوں کے باہر دھرنا ہوگا، احتجاجی مظاہرین کی دھمکی۔

احتجاجی مظاہرین سے خطاب میں مقررین نے کہا ہے کہ محکمہ خوراک کے مبینہ حرام خور حکام ہر سال جون کے مہینے میں عومی کوٹے کے گندم کو مختلف بہانے بناکر ہضم کررہے ہیں ۔ایک طرف محکمہ خوراک کے اعلیٰ حکام خود کہہ رہے ہے کہ گلگت بلتستان کے لیے مختص گندم کے کوٹے میں کوئی کمی یا کٹوتی نہیں کی گئی ہے، لیکن دوسری طرف عوام کو گندم کبھی بھی پورا نہیں ملا ہے۔ آج جون کی 22تاریخ اور رمضان المبارک کا آخری عشرہ چل رہا ہے۔ چار دن بعد عید ہے اور ہم بھوکے ہیں۔ روزہ دار تپتی دھوپ میں روٹی کے لیے سڑک پر ہیں ۔خدا ان حکمرانوں کو ہدایت دے، بیشک یہ لوگ کرپشن کرے مگر رمضان میں تو عوام پر رحم کرے۔

مقررین نے مزید کہا ہے کہ کل سے یاسین کے مختلف گاوں تھوئی ،ہندور ،سندھی ،طاوس اور یاسین خاص میں ایک ساتھ حکومت کے خلاف دھرنا شروع کیا جائے گا ۔ہمارا دھرنا عید تک جاری رہے گا۔ عیدتک جون کا ماہانہ کوٹہ تقسیم نہ ہونے کے صورت میں عید کے نماز مشترکہ طور پر سڑک پر ادا کیاجائے اور اور بڑا دھرنا ہوگا۔مقرین نے کہا کہ محکمہ خوراک کے حکام جون کا کوٹہ ہضم کرنے کے لیے یاسین کے بالائی علاقے ہندور ،درکوت ،املست اور تھوئی وغیرہ میں مئی کا کوٹہ گزشتہ کل تقسیم کیا تاکہ جون کی گندم ہضم کیا جا سکئے ۔محکمہ خوراک نے یاسین کے مرکزی گودام سے 1800 ،تھوئی ہندور گودام سے 1200اور سندھی گودام سے 300بوری گندم غائب ہے ۔سیکرٹری خوراک کے آن ریکارڑ بیان کے مطابق ایک کسی نے ایک دانہ گندم کم نہیں کیا ہے ۔اگر گندم کے کوٹے میں کٹوتی نہیں ہوئی ہے تو یاسین کے مختلف گوداموں سے 3500بوریاں کس نے غائب کیا ہے ۔حکومت مکمل تحقیقات کرئے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔