معرکہ نگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بقا کی جنگ

معرکہ نگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بقا کی جنگ

38 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: فہیم اختر

کیا خوب کہا ہے کہ سیاست کے سینہ میں دل نہیں ہوتا ہے ۔اپنا تھوکا چاٹنا سب سے زیادہ دہرایا جانے والا عمل ہے ۔ گدھے کو بھی باپ کہنے کا وقت سب سے زیادہ سیاست میں نظر آتا ہے ۔کل کا قاتل آج کا اتحادی ہوتا ہے ۔اور سیاست میں سب سے زیادہ گندہ وہ ہوتا ہے جو دعوؤں اور بیانات میں سیاست (موجودہ اور عملی ) کو سب سے پاک تصور کرتے ہوئے عبادت کا درجہ دیتا ہے ۔ عجیب اتفاق بھی ہے کہ جو خود کو پاک صاف قرار دیکر سیاست کرتے ہیں وہ ٹکٹیں(اعلیٰ) دوسروں کو فراہم اور تقسیم کرتے پھرتے ہیں۔اس کا بھرپور عملی مظاہرہ آپ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی حلقہ نمبر 4نگر میں دیکھ سکتے ہیں۔ پریس کلب گلگت میں ایک دوسروں پر الزامات کی بارش کرکے 6کو 9قرار دینے والے آج یک جان ہوگئے ہیں۔

حلقہ نمبر4نگر میں انتخابات کا دنگل مورخہ 9جولائی یعنی کل بروز ہفتہ کو سج رہا ہے ۔ انتظامیہ نے باقاعدہ طور پر ہدایات بھی جاری کردئے ہیں سیاسی حوالے سے اس حلقے کی ایک نمایاں پوزیشن ہے اکثر اس حلقے کی سیٹ حکومتی نشستوں میں رہی ہے اور اس حلقے کا شمار ان چند حلقوں میں ہوتا ہے جنہوں نے جاندار ترین شخصیات کو اسمبلی میں پہنچادیا ہے جن میں شیخ حیدر جیسی زیرک شخصیت بھی ہے ۔چند روز قبل ہی اس حلقے میں اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی قائد علامہ ساجد علی نقوی اپنے امیدوار کے کمپین کے لئے پہنچ گئے ۔

حلقہ نمبر4گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں اب تک کامیاب ’چال ‘وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن چلے ہیں جنہوں نے نہ صرف اس وقت گلگت بلتستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت (بلحاظ پارلیمانی حجم) اسلامی تحریک کو خود سے قریب کرلیا بلکہ روایتی حریف پیپلزپارٹی کے لئے واپسی کا دروازہ بند کرلیا ۔۔۔۔

حلقہ نمبر4نگر میں پہلی بار انتخاب ہورہے ہیں کیونکہ اس سے قبل کے تمام انتخابات ’ضلع نگر‘ میں نہیں ہوئے ۔نگر کے منتخب رکن اسمبلی محمد علی شیخ کے چند ماہ قبل اچانک انتقال پاجانے کی وجہ سے خالی ہونے والی نشست بنیادی طور پر شروع ہی سے اسلامی تحریک اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان رہی ہے ۔کبھی پیپلزپارٹی اور کبھی اسلامی تحریک۔

2015کے انتخابات میں نگر کے حلقے میں اسلامی تحریک اور پیپلزپارٹی کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہوا اور بالآخرنشست اسلامی تحریک کے نام رہی ۔ 2015اور 2017کے انتخابات کا ایک جائزہ اس حلقے کی سیاسی صورتحال واضح کردیتا ہے ۔۔۔ نگر میں بنیادی طور پر دو قسم کے ووٹ (عموماً ) پائے جاتے ہیں پہلا سیاسی ووٹ اور دوسرا مذہبی ووٹ۔ مذہبی ووٹ شروع سے اسلامی تحریک کے نام رہا ہے جبکہ سیاسی ووٹ پیپلزپارٹی کے کھاتے میں ۔

2015کے انتخابات میں پیپلزپارٹی اپنے اہم ترین ستون کو ساتھیوں سمیت الوداع کہہ گئی ۔ محمد علی اختر اسی حلقے سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر 2009کے انتخابات میں جیت گئے تھے اور صوبائی وزیر کے عہدے پر فائز رہے تاہم 2015کے انتخابات میں محمد علی اختر کے بجائے پیپلزپارٹی نے ٹکٹ معروف کاروباری و سماجی شخصیت جاوید حسین کو دیدیا ۔ان انتخابات میں اس حلقے سے مسلم لیگ ن ، مجلس وحدت المسلمین و دیگر بھی پنجہ آزمائی میں مصروف تھے ۔ مجلس وحدت المسلمین نے جاندار شخصیت کے زریعے کئی علاقوں سے سیاسی ووٹ اپنے کھاتے میں ڈالا ایک تجزیہ کے مطابق مجلس وحدت المسلمین کے امیدوار پی ایچ ڈی ڈاکٹر علی محمد کا زیادہ تر ووٹ ان علاقوں سے تھا جن کو پیپلزپارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا ۔ عام انتخابات میں محمد علی اختر کی ناراضگی اور ڈاکٹر علی محمد کے الیکشن میں حصہ لینے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو سخت دھچکا لگا۔ ضمنی انتخابات میں مجلس وحدت المسلمین نے بغض پیپلزپارٹی میں انتہا درجہ کی بے وقوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے امیدوار کو کھڑا نہیں کیا اور سیاسی طور پر خود کو مسلم لیگ ن اور اسلامی تحریک کے حصار میں شامل کرلیا لیکن اس کا سراسر فائدہ پیپلزپارٹی کو ہورہا ہے کیونکہ مجلس وحدت المسلمین کا سیاسی ووٹ اس حلقے میں نہیں ہے سابقہ انتخابات میں بھی بڑی تعداد میں پڑنے والا ووٹ شخصی تھا ۔ مذہبی ووٹ سوائے اسلامی تحریک کے کسی کا نہیں گویا مجلس وحدت المسلمین کا الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ پیپلزپارٹی کے لئے سودمند ثابت ہورہا ہے ۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے نگر حلقہ 4میں نہ صرف پہلا سیاسی پتہ کھیلا بلکہ کامیاب ترین پتہ بھی کھیلا اور پیپلزپارٹی کو ہمدردی کے نام پر انتخابات سے پیچھے ہٹنے کا راستہ بلاک کردیا ۔ ممکن ہے کہ روایتی و علاقائی رشتہ داریوں اور تعلق داریوں کی بنیاد پر پیپلزپارٹی بھی انتخابات میں اسلامی تحریک کی حمایت کا اعلان کرتی کیونکہ پیپلزپارٹی کی اس وقت اسمبلی میں اکلوتی نشست پر اسلامی تحریک کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے شگر کے حلقے سے حمایت کے زریعے پیپلزپارٹی کو نشست دلوائی ہے ۔ وزیراعلیٰ کے تعزیتی دورے نے صورتحال تبدیل کردی۔اور پیپلزپارٹی کو مجبوراً بھی اپنا امیدوار کو میدان میں لانا پڑا۔ اسلامی تحریک اس دوران یہ بھی بھول گئی کہ ان کاایک رکن اسمبلی اپنی پوزیشن بحال کرانے کے لئے ہر جگہ اکیلے حکومت کے خلاف بولے جارہا ہے ۔ بس یہی تو سیاست ہے ۔

حلقہ 4نگر کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس حلقے میں پہلی بار تحریک انصاف بھی اپنا امیدوار لانے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔ شیخ اختر حسین اس سے قبل اسلامی تحریک کے بانی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور مذہبی حوالے سے کٹر اور سخت گیر شیخ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں ۔ ایک خدشہ یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ شیخ اختر حسین کا ووٹ مکمل مذہبی ہے اور مذہبی ووٹ اسلامی تحریک کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے ۔

ایک طرف اسلامی تحریک سے بھی زیادہ شیخ حیدر کا گھرانہ ہے جن کے بعد سیاسی جانشینی محمد علی شیخ (مرحوم ممبر) کے پاس تھی اور اب ان کے بھائی شیخ باقر کے پاس ہے ۔ اسلامی تحریک کے پاس اس وقت خاندانی ووٹ اور پارٹی کا ووٹ ہے ہمدردی کا ووٹ اس لئے خارج از امکان ہے کہ اس سے قبل ایک انتخاب سے کچھ گھنٹوں قبلشیخ حیدر کے ہمدردی کا ووٹ محمد علی شیخ حاصل نہیں کرسکا اور انہیں پیپلزپارٹی کے ہاتھوں شکست ہوئی ۔جب کہ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ کامیاب ہتھیار صوبائی حکومت کی حمایت ہے ۔ صوبائی حکومت کی حمایت اس لئے اہم ہے کہ نگر ضلع سے دونوں نشستیں عمومی طور پر اپوزیشن کے پاس ہے اور صوبائی حکومت میں ان کی نمائندگی نہیں اگر عوام اس احساس کو کم کرنے کے لئے اٹھیں تو لازماً صوبائی حکومت کی حمایت کو ووٹ دیکر اپنا اعتماد قائم کریں گے ۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے امیدوار بظاہر اکیلے میدان میں ہیں لیکن پیپلزپارٹی کا زاتی ووٹ بینک ، محمد علی اختر کی حمایت ، تحریک انصاف کا چناؤ حصہ ، ایم ڈبلیو ایم کی غیر حاضری سمیت جاوید حسین کی اپنی شخصیت ان کے انتخاب کے ساتھی نظر آرہے ہیں ۔ 9جولائی کی شام سے قبل اس حلقے کی صورتحال پر کسی بھی شخصیت کے جیتنے پر بات نہیں کی جاسکتی ہے ۔ بظاہر اسلامی تحریک اور پیپلزپارٹی کے امیدوار کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے اور جو بھی سکندر ہوگا بہت کم ووٹ سے ہوگا۔ اور اسلامی تحریک کی جیت پیپلزپارٹی ، پیپلزپارٹی کی جیت اسلامی تحریک کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگی ۔ اس وقت دوسروں کو دھکہ دیکر اپنی پوزیشن بنانے والی صورتحال نظر آرہی ہے کیونکہ امجد ایڈوکیٹ کی مذہبی سیاست پر تنقید اور جواباً اسلامی تحریک کے دعوے کسی سیاسی خطرے سے خالی نہیں ہے ۔

کالم کے اختتام سے قبل ایک واقعہ جو نہایت معتبر شخصیت نے سنائی ۔ مرحوم محمد علی شیخ ایک روز اسلام آباد میں قائم گلگت بلتستان کے ایک مقامی اخبار کے دفتر میں گئے اسلامی تحریک ان دنوں گلگت بلتستان کی دوسری بڑی پارٹی اور حکومت کے مقابلے میں مضبوط اپوزیشن کا دعویٰ کررہی تھی محمد علی شیخ کو اس دوران کسی اور شخصیت نے فون کیا جس پر محمد علی شیخ نے انہیں بتایا کہ میں اخبار کے دفتر پر ہوں ۔ فون کرنے والی اگلی شخصیت بھی اسلامی تحریک کے اہم تھے انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت کے خلاف کچھ معاملات ہیں ان پر بیان دیکر حقیقی اپوزیشن کے تصور کو واضح کریں۔ اخبار کے دفتر والوں نے بھی انہیں گھیر لیا کہ آخر آپ اپوزیشن کے رکن ہیں کوئی بیان دیں۔ مرحوم ممبر نے اس وقت دونوں سمتوں سے منت سماجت کرکے بغیر بیان دئے واپس آگیا اور پوچھنے پر وجہ بتائی کہ حکومت کے خلاف بیان دیدوں تو وزیراعلیٰ اور حکومت کے حق میں بیان دوں تو عوام ناراض ہوتی ہے آخر کیاکروں بہرحال مرحوم کے نیک درجات کے لئے دعاگو ہیں۔۔اس واقعہ کا نتیجہ عوام نگر کے زمہ ۔

حبیب الرحمن مشتاق کہتے ہیں کہ

پرندے اپنے نقصاں کی تلافی چاہتے ہیں

ہوا اور پیڑ سب ان سے معافی چاہتے ہیں

درندے اور مویشی رہنمائی کرلیں تھوڑی

بشر اب کام فطرت کے منافی چاہتے ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

فہیم اختر

فہیم اختر پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ گلگت بلتستان کے صدر ہیں اور مقامی اخبارات میں صدائے گلگت کے نام سے کالم لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ پامیر ٹائمز کے مستقل کالم نگار ہیں۔