برہان وانی کی برسی اور کشمیریوں کا جذبہ حریت

برہان وانی کی برسی اور کشمیریوں کا جذبہ حریت

51 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عمر حبیب

8جولائی کا دن کشمیریوں کی آزادی کے عزم کا دن بن چکا ہے ۔یہ دن کشمیر کی نسل نو کیلئے آزادی کا سنگ میل بن چکا ہے۔ ٹھیک ایک برس پیشتر بھارت کی قابض افواج نے برہان وانی کو شہید کر کے یہ تصور کر لیا تھا کہ برہان وانی کو شہید کرنے سے تحریک آزادی کی چنگاری سرد پڑے گی لیکن بھارت کی سب تدبیریں الٹی ہو گئیں برہان وانی تو شہادت کے راستے پر رواں ہوئے لیکن کشمیر کی ہر ماں کی گود میں برہان وانی پیدا ہونے لگے ،کشمیر کی نوجوان نسل نے برہان وانی کو اپنا آئیڈئل تصورکرتے ہوئے آزادی کا پرچم تھامے اپنا سفر جاری رکھا ہے ۔کشمیر کے گھر گھر سے برہان وانی آزادی کا پرچم تھامے جام شہادت نوش کرنے کیلئے تیار ہے اب یہ سفر رکنے والا نہیں ،8جولائی کو کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں برہان وانی کی شہادت کا دن منا کر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بھارت چاہے جتنے بھی مظالم ڈھائے لیکن آزادی کا سفر منزل سے پہلے کسی بھی طرح رکنے والا نہیں ہے ،دنیا بھر میں برہان وانی کی عظیم شہادت کو سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کشمیریوں کی آزادی کیلئے اخلاقی مدد جاری رہے گا پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ برہان مظفر وانی اور کشمیری نوجوانوں کی قربانیاں بھارتی ریاستی جبر کے خلاف کشمیریوں کی سوچ کی عکاس ہے۔ برہان وانی سمیت دیگر شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔کشمیریوں کو خودارادیت کا حق حاصل ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے برہان مظفر وانی کی پہلی برسی پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کشمیریوں کو خودارادیت کا حق حاصل ہے، ان کا کہنا ہے کہ برہان مظفر وانی اور دیگر کشمیری نوجوانوں کی قربانیاں بھارتی ریاستی جبر کے خلاف کشمیریوں کی سوچ کی عکاس اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ برہان وانی سمیت دیگر شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔برہان وانی کا تعلق ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور متومل خاندان سے تھا۔ ان کے والد ایک سرکاری سکول میں استاد ہیں۔ وانی کے چھوٹے بھائی خالد جو 2013 میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوءِے وہ پولیٹکل سائنس کے طالب علم تھے۔برہان وانی نے کم عمری میں ہی مشکل راستے کا انتخاب کر کے کشمیر کے تمام نوجوانوں کو پیغام دے دیا کہ آزادی کیلئے جان دینی پڑے تو مہنگا سودا نہیں ہے اور غلامی میں جینے سے آزادی کیلئے لڑتے ہوئے جان دینا ہی بہادری اور سعادت ہے ،کشمیر کے نوجوانوں نے برہان وانی کے اس پیغام کو دل و جان سے قبول کیا اور آئے روز بھارت کے مظالم کے سامنے ڈت جاتے ہیں اب یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے اس سفر نے آزادی کی منزل پر ہی ختم ہونا ہے ۔برہان وانی کی پہلی برسی پر بھارت پر اتنا خوف طاری ہو چکا ہے کہ کئی شہروں میں کرفیو اور انٹر نیٹ سروس معطل کر دی ہے حریت رہنماؤں کو پابند سلاسل کیا ہے برہان وانی کی پہلی برسی کے موقع پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے پوری وادی کشمیر میں سخت ترین پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔کشمیر کی تمام علیحدگی پسند جماعتوں نے سات جولائی بروز جمعہ ہی سے ان کی برسی منانے کا اعلان کیا ہے جس میں کشمیری لوگوں سے انڈیا کے خلاف احتجاج مظاہرے اور ہڑتال کرنے کی اپیل کی ہے۔لیکن حکومت نے پہلے ہی سے اس پر قابو پانے کے لیے پوری وادی میں سخت ترین سکیورٹی کے انتظامات کیے ہیں اور طرح طرح کی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ۔انڈيا کی حکومت نے سنگین صورت حال کے پیش نظر فوج کی دو بٹالین اور سینٹرل ریزرو پولیس فورسز کئی اضافی نفریاں پہلے ہی روانہ کر دی تھیں۔ جنوبی کشمیر میں اننت ناگ سمیت بیشتر علاقوں میں حالات زیادہ کشیدہ ہیں جہاں اضافی فوج کو تعینات کیا گيا ہے۔اس سے پہلے کشمیری نوجوانوں نے کئی بار موٹر سائیکل پر سوار ہوکر احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں اس لیے اس بار جگہ جگہ پر روکاٹیں کھڑی کرکے چیکنگ ہو رہی اور موٹر سائیکلوں کو سیز کیا جا رہا ہے۔

پورے وادی کشمیر میں انٹرنیٹ سروسز کو پوری طرح سے بند کر دیا گیا ہے اور بیشتر علاقوں میں بھیڑ جمع نہ ہونے دینے کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کیا گيا ہے۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے شروع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں ایک سال سے اب بھی جاری ہے۔ ان مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے طاقت کے بھرپور استعمال سے سو سے زیادہ افراد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔بھارت کے مظالم بھی اپنی انتہا کو پہنچے ہیں لیکن دوسری طرف کشمیریوں کا عزم آزادی بھی آسمانوں کو چھو رہا ہے ایسے میں صاف نظر آرہا ہے کہ آزادی کی مزل قریب ہے ،بھارت کے اہل دانش تو پہلے ہی پیش گوئیاں کر چکے ہیں کہ بھارت زیادہ سے زیادہ دس برس تک کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکتا ہے اب بھارت کشمیر کو کھو چکا ہے یہ الگ بات ہے کہ طاقت سے کشمیریوں کو کچلا جا رہا ہے لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا ہے ۔

بھارت ایک طرف طاقت کا استعمال کر رہا ہے تو دوسری طرف کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو سرد کرنے کیلئے خزانوں کے منہ کھول رکھے ہیں ،آفریں ہے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کہ بھارت کی طاقت کو بھی ٹھکرا رہے ہیں تو خزانوں پر بھی تھوکتے ہوئے آزادی کی منزل کی طرف رواں دواں ہیں ۔کشمیریوں کے اس جذبہ آزادی کو جلا بخشنے کیلئے ہمیں کشمیریوں کی اخلاقی مدد کیلئے آگے بڑھنا ہوگا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔