داد بیداد – دوبئی پلان

داد بیداد – دوبئی پلان

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

پہلی خبر یہ تھی کہ دوبئی میں پاکستان کی 26سیاسی جماعتوں پر مشتمل نئے اتحاد کی تیاری عروج پرہے پھر ایک خبر آگئی کہ جنرل (ر) پرویز مشرف اپنی سیاسی جماعت کو پاکستان تحریک انصاف میں ضم کررہے ہیں قتیل شفائی نے کہا تھا

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

اب ہمیں ان خبروں کی تصدیق یا تردید کے پیچھے پڑنے کی چندان ضرورت نہیں اخبار بین حلقوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ایسی خبروں کی تردید ہی آتی ہے تصدیق نہیں ہوتی اخباری حلقوں ، سینئر صحافیوں اور سیاستدانوں کو یا د ہے کہ 2007میں بھی دوبئی پلان آیا تھا بعض دوست ممالک کے سفارت کار، پاکستان کے مقتدر حلقوں کے نمائندے اور سیاسی جماعتوں کے اکابرین چھ مہینوں سے دوبئی میں بات چیت کرتے رہے خبر آئی تو اس کی تردید ہوئی ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی طرف سے بھی تردید آئی حکومتی حلقوں نے بھی بار بار تردید کی مسلم لیگ (ن) والے قسمیں کھاتے رہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا پھر یکایک نیشنل ری کانسی لی ایشن آرڈنینس(NRO)آگیا جس کے تحت 8500کرپٹ سیاستدانوں اور سرکاری افیسروں پر چلائے گئے مقدمات ختم کردیئے گئے جنرل مشرف کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنرل صاحب اپنی دو غلطیوں پر ندامت اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں نواز شریف کا معافی نامہ قبول کرکے ان کو اٹک جیل سے رہا کرنا پہلی غلطی تھیNROان کی دوسری غلطی تھی موجودہ حالات میں دوبئی پلان کے تحت جو کھچڑی پک رہی ہے وہ زبردست کھچڑی ہے اس کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان کا سماجی اور سیاسی نقشہ تبدیل ہو جائے گا پاکستانی سیاستدانوں کو اس کھچڑی کا علم ہے مولانا فضل الرحمن نے گذشتہ تین دنوں کے اندر اپنی تقریروں میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے مولانا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا راستہ روکنے کے لئے دوبئی پلان بن چکا ہے پاک فوج کے انتہائی ذمہ دار ذرائع کہتے ہیں کہ سی پیک پر ہر حال میں عمل در آمد ہوگا پاک فوج اس میں رکاوٹ آنے نہیں دیگی اس حوالے سے چین مخالف طاقتیں مسلم لیگ(ن) پاکستان تحریک انصاف ،جماعت اسلامی اور جمعیتہ العلمائے اسلام پر اعتبار نہیں کرتیں جنرل مشرف ان کا فیورٹ ہے تحریک انصاف کی قیادت اور کورکمیٹی کو دوبئی پلان آنے کے بعد پتہ لگے گا تو بہت افسوس ہوگا کہ بقول شاعر’’منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے‘‘ عالمی طاقتوں کے لئے پاکستان کی سیاسی جماعتیں موم کے مجسموں سے زیادہ قعت نہیں رکھتیں مسلم لیگ کو بار بار توڑا اور جوڑا گیا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی توڑنے اور جوڑنے کے تکلیف دِہ عمل سے بار بار گزارا گیا ایم کیو ایم کو بار بار جوڑ توڑ کا نشانہ بنایا گیا اب توڑنے والوں کو ایک بار پھر اس بات کی فکر ہے کہ کس زاویے سے جوڑا یا جائے کون سا فارمولا کام آئے گا؟ اس وقت پاکستان تحریک انصاف پر طبع ازمائی ہورہی ہے اس کشتی میں ایسے لوگوں کو سوار کرایا جارہا ہے جوکشتی کو ڈبونے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔مسلم لیگ سے چوہدری نثار کا انتخاب کیا گیا ہے انہیں جس کشتی میں بٹھایا جائے گا وہ کشتی ضرور ڈوبے گی

چند روز پہلے یہ خبر آئی تھی کہ ن لیگ کے ساتھ پانچ بڑے ایشوز پر ڈیل ہوگئی ہے سی پیک کو رول بیک کیا جائے گا،ایران اور فلسطین کے خلاف لڑنے کے لئے مخالف طاقتوں کو فوجی کمک دی جائے گی، پاکستان کا میزائیل پروگرام منجمد ہوگا کشمیر کے معاملے پر خاموشی اختیار کی جائیگی اور حافظ سعید ، صلاح الدین سمیت 20مطلوب افراد کو مخالف فریق کے حوالے کیا جائے گا مطلوب افراد میں مشہور شخصیت ڈاکٹر شکیل آفریدی اور کلبھوشن یادیو بھی شامل ہیں پھر خبر آگئی کہ بعض نکات پر پاک فوج کے شدید ترین تحفظات سامنے آئے اور معاملہ کھٹائی کی نذر ہوگیا ڈیل نہ ہو سکی دوبئی مذاکرات سے دوست ممالک کو تین بڑے توقعات ہیں پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان میں چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے راستے بند ہوجائینگے جس طرح ایران سے گیس لانے کا منصوبہ ختم ہوا، اس طرح سی پیک کے معاملے کو بھلا دیا جائے گا جیسے اس نام کا کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں دوسری بات یہ ہے کہ ایران اور فلسطین مخالف اتحاد کو فوجی کمک دی جائیگی تیسری بڑی بات یہ ہے کہ ہمارے دشمنوں کو جو لوگ مطلوب ہیں وہ اُن کے حوالے کئے جائینگے یہ کم سے کم مطالبات ہیں ان پر کوئی سودا بازی کے لئے تیار نہیں کسی زمانے میں بھٹو کو ناقابل اعتبار سمجھا جاتا تھا اس وقت نواز شریف کو بھٹو سے زیادہ ناقابل بھروسہ قرار دیا جاتا ہے دوبئی مذاکرات میں چار ملکوں کے سفارت کار شریک ہیں اور چاروں کی یہ کوشش ہے کہ 2018کے انتخابات میں بھٹو یا نواز شریف جیسا شخض حکومت میں نہ آئے راز کی بات یہ ہے کہ ہمارے دشمنوں کو عمران خان کے اندر بھی بھٹو اور نواز شریف بولتا ہوا نظر آرہا ہے۔

اب خبر آئے یا خبر کی تردید آئے دونوں اپنی جگہ دوبئی پلان کے تحت پاکستان میں اگلی حکومت ہماری نہیں اُن کی لائی ہوئی حکومت ہوگی اور ان کے ایجنڈے پر کام کرے گی۔

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments