دو ہزار فٹ لمبی سڑک کی عدم تعمیر کی وجہ سے سوسوٹ آر سی سی پل تکمیل کے بعد بھی ناقابلِ استعمال

دو ہزار فٹ لمبی سڑک کی عدم تعمیر کی وجہ سے سوسوٹ آر سی سی پل تکمیل کے بعد بھی ناقابلِ استعمال

26 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غذر (بیورو رپورٹ) شندور میلہ قریب آرہا ہے۔ سوسوٹ آر سی سی پل کاتعمیر مکمل ہوگیا ہے، مگر دو ہزار فٹ سڑک کی عدم تعمیر کی وجہ سے یہ اہم پل گزشتہ ایک سال سے ٹریفک کے لئے بند ہے۔ سوسوٹ نالے میں بنایا گیا لکڑی کا عارضی پل کسی بھی وقت نالہ کے پانی کے تیز بہاو کی نذر ہوسکتا ہے، جس نے نہ صرف غذر آنے والے سیاحوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ دنیا کے بلندترین پولو گراونڈ شندور میں سہ روزہ میلے میں شرکت کے آنے والے شائقین پولو کو بھی مشکلات پیش آسکتی ہے۔ اس بھی زیادہ تکلیف پھنڈر کے بالائی علاقوں کے عوام کو ہوگا۔

حالانکہ سوسوٹ آر سی سی کی تعمیر کا کام اب مکمل ہوگیا ہے مگر دو ہزار فٹ روڈ گزشتہ ایک سال سے نہ بن سکا ہے، جس باعث یہ پل ٹریفک کے لئے بند ہے۔ یہ معاملہ محکمہ تعمیرات کے حکام کی نااہلی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

اس کے علاوہ غذر کے بالائی علاقوں کی سڑکوں پر سفر کرنا عوام کے مشکل ہوگیا ہے پچھلے سال اپریل میں ہونے والی بارشوں نے غذر کے بالائی علاقوں کی سڑکوں کو بری طرح نقصان پہنچایا تھا پہاڑوں سے چٹانین اور مٹی کے تودے روڈ پر گرنے کی وجہ سڑک خستہ حالی کا منظر پیش کررہی ہے روڈ پر گرجانے والے پتھروں اور ملبے کو نہ ہٹانے کی وجہ سے کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے صرف جیپ ایبل روڈ بناکر رکھا گیا ہے محکمہ تعمیرات عامہ کے روڈ پر تعنیات کم تعداد میں موجود روڈ قلی اس روڈ کی دیکھ بال کرنے سے قاصر ہیں دوسری طرف سوسوٹ نالے میں پانی کا بہاو ابھی سے ہی بڑہ گیا ہے ایک لکڑی کا عارضی پل بنایا گیا ہے جو کسی بھی وقت نالہ کے پانی کا تیز بہاو کا نذر ہونے کا امکان ہے دوسری طرف تحصیل پھنڈر اور گوپس کے روڈ اثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہا ہے حالانکہ گلگت سے چترال تک ایکسپریس وے بنانے کی باتیں ہو رہی مگر اس روڈ کی اب جو حالت بنی ہے وہ دیکھنے کے قابل ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔