نمبرداری سسٹم پر چند سوالات اور ان کے معقول جوابات 

نمبرداری سسٹم پر چند سوالات اور ان کے معقول جوابات 

76 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:مفتی ثناء اللہ انقلابی
نمبردار میدان چکرکوٹ

سوال نمبر1:۔ نمبرداری سسٹم کو کیسے بحال کیا جائے؟

جواب:۔ نمبرداری سسٹم اگرچہ گلگت بلتستان مین زمانہ قدیم سے بحال ہے لیکن مراعات کے ساتھ فعال نہیں ہے۔ آل جی بی کے نمبرداران اپنے فرائض منصبی بخوبی سرانجام دیتے آرہے ہیں۔نظام نمبرداری کو مراعات کے ساتھ فعال بنانے کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔نمبرداری نظام کی مکمل بحالی اور فعالیت سے گاؤں سطح پر مکمل قیام امن گراس روٹ لیول سے مستحکم اور پائیدار امن عامہ کی فضا برقرار رکھنے سمیت لوگوں کو سستا آسان اور فوری انصاف مل سکتا ہے۔عدالتوں میں وقت اور نقد کے ضیاع سے نجات مل سکتی ہے نظام نمبرداری کی فعالیت سے باہمی دشمنیاں چپقلش کا خاتمہ ممکن ہے۔معاشرے میں عدم استحکام کا خاتمہ یقینی ہے۔محبت و بھائی چارگی اخوت و مساوات کا حصول یقینی ہے کیونکہ نمبرداری نظام میں جرگہ داری کا بڑا مثبت رول ہوتا ہے جو کہ عوام اور حکومت کے مابین رابطہ پل کی حیثیت رکھتا ہے۔بعض اداروں کے امور نمبرداروں کی غیر جانبدارانہ تصدیق سے ہی بآسانی پایہ تکمیل پہنچ پاتے ہیں۔مثلاََپشتی باشندگی سرٹیفکیٹ کسی بھی شہری کی چال چلن اور محب وطن ہونے کی تصدیق افواج پاکستان کے حساس اداروں میں تعیناتی کے وقت کیرئیر سرٹیفکیٹ کی تصدیقات اب بھی نمبرداران ہی کے ذریعے کرائے جاتے ہیں۔پاکستان کے دیگر صوبوں میں نمبرداروں کو قابل ذکر مراعات حاصل ہیں لیکن گلگت بلتستان کی بیشمار محرومیوں میں نمبرداران جی بی بھی ان مراعات سے یکسر محروم ہیں جو دیگر صوبوں کے نمبرداروں کو حاصل ہیں۔ریونیو ایکٹ1967 ؁ء ذیلی دفعہ 36کے مطابق پی۔ایل۔ڈی1958 ؁ء ایکٹ پاکستان ریونیو140جدی حقوق ہیں۔ لہٰذا نمبرداران گلگت بلتستان حکومت کو تجویز دیتے ہیں کہ نمبرداران کو اختیارات و مراعات دیئے جائیں کیونکہ خطے میں جمہوری طرز پر حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر بے لوث خدمتگاران وطن ہر وقت ہر حکومت کے معاون و مددگار ہوتے ہیں۔لہٰذا اس نظام کو فعال کیا جائے تاکہ وطن عزیز کی ترقی کے عمل میں نمبرداران مزید بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں

سوال نمبر2:۔ 1973 ؁ء سے پہلے نمبردار کسطرح کام کرتے تھے؟

جواب:۔ 1973 ؁ء سے قبل عوام سے مزروعہ اراضیات کا مالیہ لیکر حکومت کے خزانے میں جمع کرنا بھی نمبردار کے فرائض منصبی میں شامل تھا مگر اب مالیہ کے علاوہ دیگر سارے امور اس وقت سے لیکر آج تک بلا معاوضہ سرانجام دے رہا ہے۔1973 ؁ء سے قبل بھی حکومت وقت اور عوام کے درمیان نمبرداری نظام ایک مضبوط و مربوط انداز میں انتظامیہ کی معاونت کررہا تھا اب بھی یہ نظام معاون و مددگار ہے۔گاؤں سطح پر حکومتی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے حکومتی قوانین پر عمل درآمد میں کلیدی کردار نمبردار ادا کرتا تھا مثلاََ مطلوب ملزمان کو بااثر اشخاص کی مشاورت سے بغیر کسی مزاحمت اور تلخی کے ماحول کو ختم کرکے حوالہ انتظامیہ کیا جاتا تھا حکومت کیطرف سے اس نظام کو سو فیصد تحفظ حاصل تھا جسکی وجہ سے بغیر کسی سیاسی مداخلت کے مطلوب افرار نمبردار کے وساطت سے حوالہ کیا جاتا حکومت کیطرف سے جو بھی حکم ملتا نمبردار بجا آوری کا ماحول پیدا کرتا1973 ؁ء سے قبل حدود مملکت میں دور دراز دیہاتوں میں ایسی آبادیاں تھیں جنکی آباد کاری غیر سرکاری اپنی مدد آپ کے تحت نکالی جانے والی کوہلوں کی مدد سے ہوتی تھیں بارش اور سیلاب کیوجہ سے ڈمیج کوہلوں کی صفائی اور بحالی نمبرداروں کی سربراہی میں عوام رضاکارانہ طور پر کرتے تھے اب بھی گلگت بتلستان مین بیشمار ایسے کوہل موجود ہیں حسب سابق نمبردار کی سربراہی میں کوہل نکالے جاتے ہیں اور اسطرح آبادکاری کا نظام جاری و ساری ہے جو کہ نمبردار کے بغیر ناممکن ہے اسی طرح1973 ؁ء سے قبل حقوق گھاس چرائی کا تحفظ نمبرداری نظام کے ساتھ لازم و ملزوم تھا۔غیر مقامی افراد سے خلاف ورزی کیصورت میں عوام کو تنازعات سے بچانے کیلئے نمبردار سالانہ ایک مضبوط عوامی نمائندوں کی کمیٹی بناتا جو کہ مقامی شینا زبان میں(زیتو) Conservation Commetyکہلاتے تھے ۔غیر مقامی افراد سے سالانہ ماری کے نام سے جرمانہ وصول کرتے تھے جس سے عوام کی چراگا ہ محفوظ رہتی اور اب بھی ایسا ہی ہوتا ہے جو کہ نمبردار کے بغیر ناممکن ہے اسطرح ذاتی ملکیتی اراضیات کے علاوہ خالصہ سرکار اراضیات کے اندرشاملات کے نام پر تجاوز کو روک کر قبضہ مافیاز کا ناطقہ بند کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے سرکاری اراضیات محفوظ تھیں۔نمبردار کی تصدیق کے بغیر کوئی بھی شخص تجاوز اور قبضہ جات سے گریز کرتا تھا جسکی وجہ سے آئے روز کے زمینوں پر ہونے والے تنازعات نہ ہونے کے برابر تھے۔نمبرداری نظام کی غیر فعالیت سے ایک ہی پلاٹ کے3یا4سے زیادہ جعلی انتقالات باعث نزاع بنے ہوئے ہیں۔نظام کی بحالی سے یہ تنازع بھی ختم ہوسکتا ہے۔

نمبر3:۔ خالصہ سرکار زمینوں میں عوام کے حقوق کا کیسے تحفظ کیا جائے۔

جواب:۔ جغرافیائی نقشہ کے مطابق گلگت بلتستان چاروں اطراف سے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان محدود اراضیات پر مشتمل بھاشا سے لیکر شندور تک خطہ ہے۔ہسپتالوں کیی ڈیلیوری رپورٹس کے مطابق آبادی میں روزانہ اضافہ ہورہا ہے جبکہ باسیان گلگت بلتستان تقسیم در تقیم کے نتیجے میں مکانات بنانے کی جگہوں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔مخصوص موسمی علاقہ ہونیکی وجہ سے اکثر علاقے یک فصلی ہیں اس کے باؤجود مال مویشی رکھنے کیلئے بھی عوام کو معقول زمین درکار ہے۔رقبہ کا دائرہ آہستہ آہستہ سکٹرتا جارہا ہے۔لہٰذا سٹل ایریا زمیں خالصہ سرکار رقبہ ریونیو ریکارڈ میں موجود ہے۔رواج آبپاشی کے تحت خالصہ سرکار کا تحفظ ممکن ہے۔البتہ 80فیصد عوام کا اور20فیصد سرکار کے حساب سے حکومت اور عوام میں تصفیہ ہوسکتا ہے۔جو کہ نمبرداران اور عمائدین علاقے کی مشاورت سے ممکن ہے۔سٹل ایریاز میں ہر علاقے کی شاملات دہہ کا ریکارڈ موجود ہے۔دریا کے کنارے سے پہاڑ کی چوٹی تک واجب الارض موجود ہے۔حقوق گھاس چرائی بھی متعین ہے البتہ بعض علاقوں میں مقامی اور غیر مقامی تنازعات کا معزز عدالتوں نے فیصلہ صادر کیا ہے جو کہ ریکارڈ میں موجود ہے جبکہ بعض علاقوں میں کوہلوں کے ذریعے آبادکاری کا عمل جاری ہے اسطرح حکومت بنجر اراضیات میں نئی سکیموں کے ذریعے کوہل نکال کر عوام کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔

سوال نمبر4:۔ ان سٹیلمنٹ ایریاز کو کسطرح سٹل کیا جائے؟

جواب:۔ گورننس آرڈر2009 ؁ء کے تحت گلگت بلتستان کو صوبائی سیٹ اپ دیا گیا ہے باضابطہ طور پر قانون ساز اسمبلی موجود ہے جسمیں سٹل اور ان سٹل ایریاز کی بھر پور نمائندگی موجود ہے۔علاقے کے بااثر لوگوں اور نمبرداران کی مشاورت سے لوگوں کو ان سٹل ایراز کے نقصانات سے آگاہ کرکے سٹل کرانے کے فوائد کا شعور دیکر عوام کو آمادہ کرکے سٹل کیا جاسکتا ہے۔ قانون بنا کر متعلقہ اضلاع کے D.C اورA.C کے ذریعے نمبرداران اور معززین علاقے کی مشاورت سے سٹیلمنٹ کا عمل بخوبی انجام دیا جاسکتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔