پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے سماجی و معاشی اثرات

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے سماجی و معاشی اثرات

129 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سال 1920ء کے اختتامی مہینوں کاایک خوشگوار دن تھا۔ایک امریکی ماہر فلکیات ایڈون ہبل (Edwin Hubble)اپنی تجربہ گاہ میں غور وفکر میں غرق تھا۔ مسلسل دس دنوں سے جہدِ مسلسل کا شائق یہ انسان اپنے خلائی ٹیلی سکوپ کا رخ آسمان کی جانب کیے مختلف تصاویر عکس بند کر رہا تھا ۔ایک عرصے کے بعد وہ انہی تصاویر کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق کائنات کی تخلیق کے گورکھ دھندہ کو سلجھانے کی سعی کرتا ہے۔کچھ لمحے بعد اسکے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھرتی ہے اور کاغذ پر اپنے نظریات مرتب کرنے کا آغاز کرتا ہے اور Big Bangتھیوری پیش کرکے سائنس کی دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرتا ہے۔اس کی Big Bangتھیوری کے مطابق ابتدائے آفرینش میں زمین ایک مادہ کی صورت میں تھی اس کے بعد Big Bang کا عمل شروع ہواجس کی وجہ سے کہکشاؤں کی تخلیق عمل میں آئی پھر یہ منقسم ہوکر ستاروں،سیاروں اور چاند کی تخلیق کا موجب بنا۔اس شدید درجہ حرارت پر ہونے والے کیمیائی عوامل سے ایک خود کار مالیکیول تقریباََ4ارب سال قبل وجود میں آیا اور پھر اس کے بعد 50کروڑ سال بعد زمین پر موجود تمام حیات کا منبع وجود میں آیا پھر ضیائی تالیف کا ارتقاء شروع ہوا اور زمین پر موجود زندگی نے سورج کی روشنی کو براہ راست محسوس کرنا شروع کیااس عمل سے پیدا ہونے والی آکسیجن فضا میں جمع ہونا شروع ہوگئی اور کرۂ ارض کے بالائی حصے میں یہ آکسیجن اوزون میں تبدیل ہوگئی۔اس عمل میں اوزون کی تہہ سورج کی مضر شعاعوں کو خلا میں واپس بھیج دیتی ہے جبکہ کچھ گیسوں کا مجموعہ زمین کی آب و ہوا ترتیب دیتے ہیں۔اس عمل میں کاربن ڈائی آکسائڈایک ضروری گیس ہے لیکن فضا میں اس کی بہتات زمین کو گرم مرطوب کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے۔

آب و ہوا کی اصطلاح عمومی طور پر کسی علاقے کی”متوازن موسم”کے معنوں میں استعمال کی جاتی ہے جو فضا کا درجہ حرارت ،بارش و برفباری کا تناسب اور موسموں کی تبدیلی پر مشتمل ہوتا ہے ۔جبکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں زمین پر انسانی زندگی پر نہایت اہم سماجی و معاشی اثرات مرتب کرتی ہیں۔انسان،جانور اور پودے ہر لحاظ سے ان تبدیلیوں کے سلسلے سے منسلک ہیں اور یہی تبدیلیاں ان کی خوراک کی پیداوار،پینے کے صاف پانی کی دستیابی اور صحت عامہ کو متاثر کرتی ہیں۔یعنی بارشوں کا ظہوراور موسموں کی تبدیلیاں فصلوں کے تیار ہونے،پھلوں کے پکنے،پرندوں کی مہاجرت،مچھلیوں کی پیداور،پینے کے صاف پانی کا ذخیرہ اور فصلوں کی کاشت اور آبپاشی میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔قدرت نے کائنات کے نظام میں ایک اعتدال اور تناسب پیدا کیا ہے جو ایک منظم قانون کے تحت رواں دواں ہے۔موسموں کی جز وقتی تبدیلیاں انسان کی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہیں لیکن بڑی موسمیاتی تبدیلیاں زمین پر انسان کے وجود کے لئے بھی خطرے کا باعث بنتی ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑی موسمیاتی تبدیلیاں خود انسان کی سر گرمیوں کے باعث ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ان سرگرمیوں میں قدرتی وسائل(تیل،گیس ،کوئلہ)کا بے دریغ استعمال کے ساتھ ساتھ جنگلات کی کٹائی شامل ہے جس کے باعث فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ،میتھین ،نائٹرس آکسائڈ اور دیگر گیسوں کی بہتات ہوجاتی ہے اور آج دنیا میں صنعتی انقلاب کے بعد ماضی کی نسبت فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار42%فیصد تک پہنچ چکی ہے جو اوزون کی تہہ کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ زمین کو بھی گرم مرطوب کرنے کا باعث بنتی ہے جس کے سبب برف ،گلیشیئر،اور برفانی تودے پگھل جاتے ہیں جس کے باعث سطح سمندر بلند ہوجاتی ہے اور سونامی آنے کے بعدساحلی علاقے اور شہر زیرِ آب آجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب سیلاب،قحط سالی،خشک سالی اور سمندری طوفانوں کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں جو انسان کی سماجی اور معاشی زندگی پر نہایت برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سائنسدان گزشتہ کئی ماہ سے انٹارکٹکا میں ایک بڑے شگاف کا مشاہدہ کر رہے تھے اب یہ ایک ارب ٹن سے زیادہ وزنی برف کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہے اور گزشتہ تیس برسوں میں ٹوٹنے والا برف کا یہ سب سے بڑا تودہ ہے۔محققین کے مطابق ضرر رساں گیسوں کا اخراج قطب شمالی کے اردگردکی ہوا اور ماحول کو متاثر کر رہا ہے اور یہ عمل اس براعظم کے اطراف میں پانی کی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔سائنسدانوں کا مزید کہنا ہے کہ زمین کا بالائی ماحول یونہی گرم ہوتا رہاتو قطب شمالی کے پگھلنے سے آنے والی دہائیوں کے دوران سمندر کی سطح میں اضافہ یقینی ہے اس کے علاوہ ورلڈ گلیشیئرمانیٹرنگ سروس کے مطابق اکیسوی صدی کے آغاز سے دنیا بھر میں گلیشیئر اس تیزی سے پگھلنے لگے ہیں کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور اس عمل کو اب روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

اردو ادب کے نامور شاعر جون ایلیا نے کیا خوب کہا ہے

کیجیے ، خوب کیجیے برباد

اپنے شہروں کو آپ جَم جَم جی

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر انسان موسمیاتی تبدیلیوں کا موجب بن کر اپنی ہی تباہی کے درپے کیوں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟اور وہ کونسی طاقتیں ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب بن رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ زمین پر موسمیاتی تبدیلیوں کا موجب دنیا کی بڑی طاقتیں امریکہ،چائنا،برطانیہ اور دیگر ممالک بن رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ ایک عرصے سے ان طاقتوں کا نیوکلیئر اور معاشی لحاظ سے طاقتور بننے کا جنون ہے ۔اب یہ طاقتیں نیو کلیئر پاور اور معاشی لحاظ سے مضبوط تو بن گئی لیکن یہ زمین پر نہ صرف انسانوں کے لئے بلکہ دیگر مخلوقات کے لئے بھی تباہی کا نقارہ ثابت ہوئی ۔اس کے علاوہ انہی طاقتوں نے بڑی بڑی صنعتیں لگائی ہوئی ہیں جس سے خطرناک کیمیکل اور گیسوں کا اخراج ہوتا ہے ۔خطرناک کیمیکل سمندروں کا حصہ بن کرآبی حیات کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں اورجب یہ کیمیکل سمندروں کا حصہ بن کردوبارہ بخارات کی شکل اختیار کرکے بارش کی صورت میں برستی ہیں تو زمین کی بانجھ پن کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔ جبکہ خطرناک گیسیں فضا کا حصہ بن کر اوزون کی تہہ کو کمزور کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔پاکستان بھی نیو کلےئر پاور کا حامل ایک مسلمان ملک ہے۔ایک طرف عام عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔مائیں غربت کے سبب اپنے جگر گوشوں کو فروخت کر رہی ہیں۔مرد اپنے جسم کے اعضاء بیچ کر پیٹ کی آگ بجھا رہے ہیں جبکہ عورتیں جسم فروشی پر مجبور ہیں اور ملک کی 85%فیصد آبادی پینے کے صاف کی سہولت سے محروم ہے۔لیکن نیو کلیئر پاور بننے کے جنون میں ہم نے اپنی ہی تباہی کا سامان خود تیار کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان ایک صنعتی ملک بھی ہے ہماری صنعتوں کے کیمیکل بھی سمندر،دریاؤں،جھیلوں اور نالہ جات کا حصہ بنتی ہیں جو آبی حیات کی نسل کشی کا باعث بن کر حیاتی دائرہ کو متاثر کرتی ہیں۔14اگست2003ء کوکراچی کے ساحل سے 14کلیو میٹر دور سمندر میں 15000ٹن خام تیل کایونان سے آنے والا ٹینکر الٹنے کے سبب نہ صرف آبی حیات متا ثر ہوئے بلکہ 13لاکھ کراچی کے شہری بھی جلدی امراض میں مبتلا ہوئے۔

پاکستان جنوبی ایشیا میں خاص علاقائی اہمیت کا حامل ایک اہم ملک ہے اس کے جنوب میں1046 کلو میٹر سرحد بحیرہ عرب اور خلیج عمان سے ملتی ہے تو شمالی حصے میں دنیا کے بڑے اور چھوٹے گلیشیئروں کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے حکومتی سطح پر توجہ نہ ہونے کے سبب عوام کی حالاتِ زندگی پر سماجی اور معاشی لحاظ سے نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ملک میں پانی کے ذخائر کا دارومدارگلیشیئروں کے پگھلنے کے بعد حاصل ہونیوالے پانی اور مون سون کی بارشوں سے متصل ہے اور ماہرین کے مطابق پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے حساس زمینی خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان کی آب وہوابھی گرم مرطوب ہے جبکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے صحیح معنوں میں انتظامات نہ ہونے کے سبب لوگوں کی حالاتِ زندگی سخت متاثر ہوتی ہیں۔ملک میں پانی کے ذخیرہ یعنی ڈیموں کی تعداد کم ہونے کے باعث مون سون کے دوران پانی کا ذخیرہ ممکن نہیں ہوتا جس کے باعث گرمیوں کے موسم میں صحرائی علاقے خشک سالی کا شکارہوجاتے ہیں جس کے سبب انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کی بھی اموات واقع ہو جاتی ہیں جبکہ ڈیموں کی کمی کے باعث بجلی کے مسائل بھی عام ہیں۔بڑے شہروں میں سیوریج کا نظام بہتر موثر نہ ہونے کے سبب بارشوں کی صورت میں بارش کا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے اور سیلاب کی صورت میں لوگ بے گھر ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی سے تقریباََ ہر سال سیلاب آتے ہیں اور سال2010اور2011 میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے عوام کو سماجی اور معاشی لحاظ سے سخت مفلوج کیا۔2010 میں 20 لاکھ افرادمتاثر ہوئے جس میں 1781افراد ہلاک،2966 زخمی اورڈیڑھ لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے اسی طرح 2011 کے سیلاب میں5 لاکھ سے زائد افرادمتاثر ہوئے جس میں صوبہ سندھ کے ایک لاکھ گھرانے شامل تھے اور ڈیڑھ لاکھ افراد زخمی بھی ہوئے۔ ان تباہ کن سیلابوں کے نتیجے میں ملک میں زرعی شعبہ سخت متاثر ہوا ۔فصلیں تباہ و برباد ہوئیں،آبپاشی کا نظام درہم برہم ہونے کے سا تھ ساتھ سڑکیں بھی متاثر ہوئیں اور حتیٰ کہ کسان فصلوں کے بیج اور زراعت سے متعلق مشینری سے بھی محروم ہوئے ۔ پاکستان میں چونکہ زراعت کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور معیشت کا 80% دارومدار اسی شعبے پر منحصر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی معیشت کو اس سیلاب کے نتیجے میں2 ارب سے زائد امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ۔جرمن واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق 1990 سے2010 کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے ۔اسی طرحُ پاکستان میں سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقے بارشوں کے نہ ہونے کے سبب خشک سالی کا شکار ہوجاتے ہیں جس کے اثرات انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں پر بھی مرتب ہوتے ہیں اور لوگ پینے کے پانی کے ساتھ ساتھ خوراک سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان میں گزشتہ 50سال سے بحیرہ عرب میں سونامی کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں جس میں سال 2001 , ,2007,2004 2011اور2010 میں سمندری طوفان کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔اسی سبب مستقبل میں ساحلی شہر کراچی کے متاثر ہونے کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں گلگت بلتستان کا علاقہ قدرتی وسائل کے لحاظ سے مالامال علاقہ ہے اس جنت نظیر خطے میں کوہستانی برف زاروں(گلیشیئروں)کا ایک دلفریب جال بچھا ہوا ہے جس کا شما ر قطبین سے باہر سب سے بڑے برفانی ذخائر میں ہوتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق گلگت بلتستان میں 60سے زیادہ چھوٹے بڑے گلیشیئرموجود ہیں۔ایک قدیم روایت کے مطابق گلگت بلتستان میں گلیشیئر کی پیوندکاری کی تاریخ ملتی ہے اور یہاں کی مقامی شینا زبان میں اس کو “گموک بیاروک “کہا جاتا ہے ۔گلیشیئرکی پیوند کاری دراصل ایک مقامی تکنیک ہے جس میں کسی خطے میں پانی کی قلت کی صورت میں علاقے کے مکین دور درازسے نربرف لاکر زمین میں دفن کرتے ہیں ۔سردیوں کے موسم میں اس پر مزید برف جمتی ہے۔اسی طرح علاقے کے مکین خاکی رنگ کا بکرا ذبح کرکے خیرات کرتے۔ایک عرصے کے بعد وہ گلیشیئرکی صورت اختیار کر لیتا اور گرمیوں میں پانی کی روانی شروع ہو جاتی جو پینے کے ساتھ ساتھ کھیتوں کو سیراب کرتا۔ایک انگریز مصنف کے مطابق آج گلگت شہر سے ملحقہ جٹیال نالہ جو اپنی سمت رواں ہے اسی پیوند کاری کی مرہون منت ہے اسی طرح گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں جن میں بگروٹ،پونیال،نگر اور دیگر علاقے شامل ہیں میں ماضی میں مصنوعی گلیئشرز کی پیوند کاری کی روایتیں ملتی ہیں۔اس کے علاوہ دنیاکے چند معروف دریاؤں میں شامل پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ بھی اسی علاقے سے گزر کر دیگر صوبوں کو سیراب کرتا ہے۔ یہ دریاہر سال مٹی اور ریت کی ایک بڑی مقداراپنے ساتھ بہالے جاتا ہے اور کبھی کبھار دریا میں طغیانی آجاتی ہے جس سے دریاؤں کے اطراف میں آباد گھرانے اور زمینیں زیر آب آجاتی ہیں جس سے لوگ بے گھر ہوجاتے ہیں جبکہ ماضی کے کچھ واقعات میں دریا کی تیز رو لہریں گھروں کو بھی بہا لے گئی جس سے انسانی اموات بھی واقع ہوئی ہیں۔گلگت بلتستان چونکہ پہاڑی علاقہ ہے جس کے سبب پہاڑی تودوں کے گرنے کے واقعات بھی عام ہیں جس کے سبب اکثر قراقرم ہائی وے اور دیگر ضلعوں کی رابطہ سڑکیں زمینی لحاظ سے دنیا سے منقطع ہو جاتی ہیں۔4جنوری 2010ء کو ایک ہلاکت خیز لینڈ سلائیڈنگ کے باعث دریا ئے ہنزہ کا بہاؤ رک گیا تھا جس کے سبب عطا آباد جھیل کی صورت اختیار کر گئی ہے ۔

شاعر مشتاق رحیم آبادی نے کیا خوب کہا ہے

ہنگامہ ء آفات اِدھر بھی ہے اُدھر بھی

بربادی ء حالات اِدھر بھی ہے اُدھر بھی

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ گزشتہ1000سالوں میں اکیسوی صدی سے عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور آنے والے وقتوں میں یہ تبدیلیاں زمین پر انسانی زندگی کے لئے خطرات کا شاخسانہ ہو سکتے ہیں۔دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ممالک کو بھی اس عالمی مسئلے پر قابو پانے کے لئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔دنیا کی بڑی طاقتیں موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کا بخوبی اندازہ لگاتے ہوئے ہنگامی بنیاد پر اقدامات اٹھانے کے حوالے سے ببانگ دہل اعلانات تو کرتی ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ان کا دفاعی اور معاشی لحاظ سے طاقتور سے طاقتور بننے کا جنون کم نہیں ہوتا۔سب سے پہلے ان طاقتوں کو قدرتی وسائل(تیل،گیس،کوئلہ)کے بے دریغ استعمال میں اعتدال سے کام لینے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ صنعتوں میں ماحول دوست اقدامات اٹھا کرخطرناک کیمیکل اور گیسوں کے استعمال کو کم سے کم کرکے ماحول پر پڑنے والے برے اثرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔آج پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ ،توانائی کی کمی اور سیاسی انتشار جیسے مسائل کا شکار ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے اقدامات کبھی ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں رہی ہیں لیکن پاکستان کے چاروں صوبو ں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے کے لئے جنگلات کے بے دریغ کٹاؤکو روکنے کی ضرورت ہے۔جبکہ ملک میں خشک سالی سے بچاؤ کے لئے بڑے ڈیموں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیم تعمیر کرنے چاہیں تاکہ آبپاشی کے مسائل حل ہونے کے ساتھ ساتھ بجلی بھی پیدا کی جا سکے۔اس کے علاوہ کھیتوں میں فرٹیلائزر کھادوں اور جراثیم کش ادویات کے استعمال کو بھی کم کرنے کی ضرورت ہے اور ملک میں صنعتوں سے خارج ہونے والے کیمیکل کا رخ سمندر،دریاؤں،جھیلوںیا نالوں کی جانب کرنے کے بجائے متبادل اقدامات اٹھانے چاہیں تاکہ آبی حیات کی نسل کشی کو روکا جاسکے اور حیاتی دائرہ متاثر نہ ہو۔اسی طرح ملک کے دیگر صوبوں کی ساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے اقدامات اٹھا نا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔تاریخ کے اوراق کو اٹھا کر دیکھا جائے تو ایک قدیم حکمران شری بدت نے ماضی میں گلگت نپورہ کے مقام پر تالاب بنوائے تھے جو کھیتوں کو سیراب کرنے کے ساتھ ساتھ پینے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا۔ گلگت بلتستان میں گلیشیئروں کی پیوند کاری کی قدیم روایت کو دوبارہ سے شروع کرکے غیرآباد زمینیںآباد کرنے کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان چونکہ ایک سیاحتی مقام ہے اور گرمیوں میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کا ایک سیلاب امڈ آتا ہے لیکن ملکی سیا حوں میں سوک سینس(Civic sense)کے فقدان کے باعث بے پناہ آلودگی پھیلائی جاتی ہے جو گلیشیئروں کے تیز تر پگھلاؤ کا باعث بنتا ہے ہمیں آنے والے وقتوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کا بخوبی اندازہ لگاتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کہیں ایسانہ ہو کہ ہمارے جنت نظیر علاقے کے پہاڑ برف کی سفید چادر سے محروم ہوجائیں۔دریا اور خوبصورت جھیلیں خشک ہوجائیں اور علاقہ ویرانہ میں تبدیل ہو اور ہم خود اپنی تباہی و بربادی کا باعث بنیں۔

بقول بشیر الدین رازؔ

اپنی بربادی اپنے ہاتھوں کی

کیسے خانہ خراب ہیں ہم لوگ

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments