پاک چین اقتصادی راہداری کا دروازہ وادی گوجال 72 گھنٹوں سے بجلی سے محروم

پاک چین اقتصادی راہداری کا دروازہ وادی گوجال 72 گھنٹوں سے بجلی سے محروم

28 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گوجال( سٹاف رپورٹر) صوبائی حکومت اور محکمہ برقیات کے عدم توجہ سے گوجال کے عوام گزشتہ72گھنٹوں سے بجلی کی نعمت سے محروم ہیں۔ خیبر پاور ہاوس کا واٹر ٹینک سیلاب کے باعث تباہ ہو چکا ہے، مگر محکمہ کی طرف سے واٹر ٹینک کی مرمت کا کام نہیں ہو سکا ہے۔

علاقے کے مکین گزشتہ تین دنوں سے بجلی کے لئے ترس رہے ہیں۔ بجلی نہ ہونے سے علاقے میں مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہے۔

ضلع ہنزہ کے تحصیل گوجال کے معروف تجارتی وسیاحتی مقام سوست میں ڈرائی پورٹ اور کسٹم سے وفاقی حکومت کو ہرسال اربوں روپے ٹیکس کی مد میں ملتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومت یہاں بجلی فراہم کرنے میں دلچسپی نہیں رہے ہیں۔

اس وقت گوجال میں سیاحت اپنے عروج پر ہے، لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے نہ صر ف کاروباری حضرات متاثر ہوے ہیں بلکہ پاکستان کے دیگر علاقوں سے آنے والے سیاح بھی پریشان ہیں۔

دوسری طرف گوجال کے تجارتی مقام سوست میں ڈرائی پورٹ، کسٹم اور دیگر سرکاری محکموں میں بجلی کی عدم دسیتابی سے کام کی روانی میں خلل پڑ رہا ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ 30ہزار آبادی پر مشتمل اس علاقے کا منتخب نمائندہ، شاہ سلیم خان، خاتون رکن اسمبلی رانی عتیقہ اور گورنر میر غضنفر علیخان نے علاقے کے لوگوں کو اندھیرے میں رکھا ہوا ہے، وعدے وعید کر کے بھول چکے ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ رانی عتیقہ اور میر سیلم نے اپنے دورہ مسگر پاور پراجیکٹ کے موقع پر جون کے آخرمیں بجلی فراہمی کا اعلان کیا تھا۔ اب اگست کا مہینہ شروع ہونے جا رہا ہے، لیکن دستیاب بجلی بھی عوام کو میسر نہیں۔ بجلی کی عدم فراہمی نمائندوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔نمائندے اگر کام نہیں کرسکتے ہیں تو عوام کے سامنے جھوٹ بھی نہ بولیں۔

عوامی حلقوں نے صوبائی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر مسگر پاور پراجیکٹ جلدی مکمل نہ کیا گیا تو سوست میں تمام سرکاری دفاتر کا گھیراو کرینگے اور شاہراہ قراقرم کو بھی بند کر دینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔