تحریک آزادی کشمیر اور نوجوان نسل کا عزم

تحریک آزادی کشمیر اور نوجوان نسل کا عزم

54 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اعزازاحمد

برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر کی تحریک آزادی کی جنگاک نئی موڑ مڑ رہی ہے یہ ایسا موڑ ہے جس سے آگے آزادی کی منزل قریب ہے کیونکہ کشمیر کی نئی نسل اس جنگ سے کسی بھی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں بھارت مظالم کی داستانیں رقم کر رہا ہے مگر نوجوان نسل بھی جذبوں اور قربانی کی داستانیں رقم کر کے بھارت کی چھ لاکھ قابض فوج کو لوہے کے چنے چبانے پر مجبور کر رہی ہے ،ایک طرف کشمیریوں کا بے مثال عزم آزادی کا جذبہ ہے تو دوسری طرف بھارت کے مظالم لیکن تاریخ شاہد ہے ہمیشہ ظلم کی ہار اور جذبوں کی ہی جیت ہوتی ہے ۔برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں تحریک آزادی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے کشمیری مسلسل بھارت کے مظالم پر آواز بلند کر رہے ہیں ۔قابض انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں کی قیادت سے روکنے کے لیے سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق،محمد یاسین ملک اور دیگر حریت رہنماؤں کو گھروں اور جیلوں میں نظربند کررکھا تھا، بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے حریت رہنماؤں الطاف احمد شاہ، معراج الدین کلوال، پیر سیف اللہ، ایازمحمد اکبر، شاہد الاسلام اورنعیم احمدخان کو سرینگر سے جبکہ فاروق احمد ڈار کو نئی دلی سے گرفتار کیا تھا، سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک نے سرینگر میں ایک بیان میں حریت رہنماؤں کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔دریں اثنا انڈیا میں ایک خصوصی عدالت نے حریت کانفرنس کے رہنما سید علی شاہ گیلانی کے داماد الطاف احمد،مسٹرگیلانی کے ایک معاون ایاز اکبر سمیت 7 مبینہ کشمیری علیحدگی پسندوں کو 10دن کے لیے قومی تفتیشی ایجنسی یا این آئی اے کی تحویل میں دے دیا ہے۔ ان لوگوں پر دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے پاکستان سے غیر قانونی طور پر فنڈز حاصل کرنے کا الزام ہے۔ملزمان کے وکیل نے کہا کہ ریمانڈ کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ این آئی اے کو جو بھی معلومات چاہیے تھی وہ پہلے ہی ان لوگوں سے حاصل کی جاچکی ہے لیکن عدالت نے انکی دلیل کو مسترد کر دیا، ماس موومنٹ کی سربراہ فریدہ بہن جی نے حریت رہنماؤں کی بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی طرف سے جھوٹے الزامات کے تحت گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بلا جواز اور سیاسی انتقام پر مبنی کارروائی قراردیا ہے۔دریں اثنا مقبوضہ کشمیر میں دختران ملت نے عمر قید کی سزا کاٹنے والے ڈاکٹر محمد قاسم اور ان کی غیر قانونی طورپر نظر بند اہلیہ آسیہ اندرابی کو ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت نہ دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قراردیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ فاروق عبد اللہ نے پاک بھارت مذاکرات کی بحالی سمیت مسئلہ کشمیر پر تیسرے فریق کی ثالثی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت کے بغیر خطے سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے جبکہ بی جے پی کے ترجمان نرسیمارا نے کہا کہ فاروق عبداللہ حریت پسندوں اورپاکستان کی زبان بول رہے ہیں،کشمیر پر ثالثی پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہے۔بھارت شاید نوشتہ دیوار پڑھ نہیں رہا یہ تحریر دیوار پر لکھی جا چکی ہے کہ بھارت نہ صرف کشمیر سے رسوا ہو کر نکلنے والا ہے بلکہ بھارت میں ہندو انتہا پسندی کے باعث بھارت کئی ٹکڑوں میں بٹنے والا ہے بھارت کے اندر جو تقسیم ہے اسے نہیں کنٹرول نہیں کر سکتا ہے لیکن طاقت کی خوش فہمی میں کھبی پاکستان کو دھمکیاں دیتا ہے تو کھبی چین کو لیکن نہ پاکستان کو بھارت سے خوف ہے تو نہ چین کو ۔چینی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل ووچیان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ ملکی سالمیت اور خودمختاری کی حفاظت کے حوالے سے چین کے عزم پر شک کر کے اپنے لیے خطرہ نہ پیدا کرے۔ انہوں نے ایک بار پھر بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈوکلام سے اپنے فوجیوں کو پیچھے ہٹائے۔کرنل ووچیان نے کہا کہ ملکی سلامتی کی حفاظت میں چین کا عزم غیر متزلزل ہے لہٰذا ہماری خواہش ہے کہ بھارت اپنے لیے خطرات پیدا نہ کرے اور کسی خام خیالی میں نہ رہے، چینی فوج کے قیام کو 90 برس مکمل ہو رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی کا دفاع کرنے کے حوالے فوج کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے، ایک پہاڑ کو ہلانا آسان ہے لیکن پیپلز لبریشن آرمی کو ٹس سے مس نہیں کیا جا سکتا۔چیناسمیت بھارت کے ہمسایہ ممالک خطے میں امن کے لئے کوشاں ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں لیکن بھارت مقبوضہ کشمیر میں بھی خون کی ہولی کھیل رہا ہے اور اب چین سے الجھنے کی حماقت کر کے اپنی بربادی کا سامان کرنا چاہ رہا ہے۔کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف تحریک آزادی کے کئی مراحل میں کشمیریوں نے بیش بہا قربانیاں دے رہے ہیں، آج کی دنیا میں ان قربانیوں کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ کشمیر کا بچہ بچہ اپنے خون سے آزادی کی داستانیں رقم کر کے دنیا کے منصفوں کو جگان رہاس ہے لیکن دنیا کے منصفوں کی آنکھیں بھارت کے مظالم پر مسلسل بند ہیں برہان کی شہادت کے بعد موجودہ پر امن مزاحمتی تحریک میں بھارت نے بر بر یت و ظلم و جبر کی انتہاء کی، سینکڑوں کشمیری شہید، بینائی سے محروم، اپاہج اور ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ مگر حالت کی ستم ظریفی کہ بین الاقوامی ضمانت کے باوجود دنیا خاموش ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدستور کشمیریوں کو بر بریت کا شکار بنارہا ہے، بھارت مسلہ کشمیر اور ظلم و جبر سے توجہ ہٹانے کیلئے خونی لکیر کے اس پار گولہ بھاری میں مصروف لیکنبہادر تجربہ کار پاک فوج خونی لکیر کے اس پار بھارتی ناپاک عزائم کو خاک میں ملارہی ہے، کشمیری تو یہ جنگ جیت کر ہی رہیں گے کیونکہ کشمیر کا بچہ بچہ لے کے رہیں گے آزادی کے نعرے بلند کر رہا ہے مگر دوسری طرف بھارتی نام نہاد سیکولر پالیسی مقبوضہ کشمیر سے لے کر بھارت کی گلی گلی تک برہنہ ہوکر یہ بتا رہی ہے کہ بھارت کا سیکولر لباس دنیا کو بے قوف بنانے کا ایک حربہ ہے بھارت کا اصل چہرہ تو مودی اور اس کے حواری ہے جو کشمیرویوں کو خون میں رنگنا چاہتے ہیں اور بھارت کی زمین مسلمانوں کیلئے تنگ کرنا چاہتے ہیں ،بھارت اگر یہ تصور کرتا ہے کہ ظلم کے پہاڑ توڑنے سے آزادی کی تحریکیں ختم ہو سکتی ہیں تو یہ اس کی خام خیالی ہے اور عنقریب کشمیر کی جنت نظیر وادیوں میں آزادی کی شمع روشن ہو گی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔