سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے

38 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : فہیم اختر

کئی مہینوں تک جاری رہنے کے بعد ملک میں تیسری بار حکومت کرنے والے میاں محمد نوازشریف کی نااہلی کے ساتھ پانامہ کا کیس ختم ہوگیا ۔ میاں محمد نوازشریف اگر چہ نااہل عدالتی حکم نامے کی روشنی میں قرار پائے ہیں لیکن ان سمیت وفاقی کابینہ کی اہلیت کا معاملہ شروع مسلم لیگ ن کی تیسری حکومت کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا ۔اور اس اہلیت کا اصلی اختتام سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کردیا ۔ ۔۔۔۔۔

میاں محمد نوازشریف کو ایسے جانثاروں کی ضرورت تھی جو عوام میں ان کا دفاع کرپاتے ان کی کہی باتوں پر ٹاک شوز ہوتے اور معمول کے اعتراضات و دفاعی بیانات سے ہٹ کر گفتگو کے نئے رخ پیدا کرتے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت میں کبھی بھی مثالی حکومت کا لیبل نہیں لگ سکا ہے گو کہ تیسرا دور حکومت پانامہ کے اختتام تک کئی حکومتوں سے بہتر تھا ۔ نواز لیگ پر اب سابقہ لیبل لگانے کی گنجائش نہیں تھی جس کی بڑی مثال پانامہ کا عدالت سے فیصلہ عوام کے سامنے ہے جس میں سابقہ ادوار سے لیکر موجودہ ادوار کی کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوسکی۔ نواز لیگ ایک زمانے میں دائیں بازوں کی جماعت مانی جاتی تھی لیکن نوازشریف کی قیادت میں اس حکومت نے اقلیتوں کے تحفظ کے لئے بڑے بڑے اقدامات اٹھائے۔ اب وہ نوازشریف نہیں تھے جو زور دیکر کہاں کرتے تھے کہ ضیاءالحق مسلم لیگ کا بانی ہے ۔دائیں اور بائیں سمیت کسی قسم کی بحث میں نہیں پڑسکتے، اس میں نسبتاً مقبول سیاسی چہرے بھی ہیں اس میں سرمایہ دار بھی ہیں اور اس میں نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی بھی موجود تھے ۔۔۔

قومی اسمبلی میں نوازشریف کی اہلیت کابینہ سمیت اس وقت اٹھائی گئی جس وقت پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن نے پچھلی نشستوں کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا کہ میاں نوازشریف کے پاس پیچھے سیٹوں پر بھی ٹیلنٹ موجود ہے۔ کان بھرنے والوں سے ہٹ کر بھی کان لگایا جائے۔ ڈبونے والے ایسے ہی ڈبوتے ہیں ۔ اعتزاز احسن حقیقی اپوزیشن ہونے کی وجہ سے ان کی بات پر غور نہیں کیا گیا۔ میاں محمد نوازشریف نے ایسے چہرے سامنے لائے جن کی عوام میں کی جانے والی ہر بات الٹی لی جاتی تھی۔ ان کی کسی گفتگو کا مثبت تاثر سامنے نہیں آتا رہا۔ میرے زاتی مشاہدے میں صرف دو وزراءایسے رہے جن کی گفتگو اثر انگیز رہی۔ ان میں ایک احسن اقبال وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ تھے اور ان کی اس بات پر اعتبار کرنے کے پیچھے کار فرماں عوامل میں اہم بات یہ تھی کہ چائینہ پاکستان اقتصادی راہداری کے روح رواں تھے اور سینیٹ و قومی اسمبلی سمیت تقریباً تمام فورمز پر اس راہداری منصوبے کی معلومات مہیا نہیں کی گئی اور جواز یہ بنایا گیا کہ یہ انتہائی خفیہ ہے کیونکہ دشمن ممالک اس منصوبے کو ناکام کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کرسکتے ہیں اسی لئے اس کی معلومات مہیا نہیں کی جاسکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اعتزاز احسن سمیت دوسرے اپوزیشن رہنماﺅں کی جانب سے بار بار اس بات کا اشارہ نوازشریف کے لئے ناقابل قبول رہا اور بالآخر چوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس میں وہ سب کچھ سامنے رکھ دیا جو اونچی بلڈنگوں میں ہوتا رہا۔ نوازشریف کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلے سے بھی زیادہ چوہدری نثار کا پارٹی امور سے لاتعلقی کا اعلان اور ان کے انکشافات تھے۔ دو ۔بار حکومت کرنے اور گرنے کے بعد بھی نوازشریف اس مرحلے کو پاس نہیں کرپائے کہ اپنے قریب کن لوگوں کو رکھنا ہے وفاق،دو صوبائی اسمبلیوں ، آزاد کشمیر ، اور گلگت بلتستان میں سنگل پارٹی حکومت کے سربراہ کو ملک اور پارٹی سنبھالنے کے لئے زاتی طور پر کس حد تک مشاہدہ سے بھرپوراور مشکلات سے نکلنے کے لئے طریقہ کار کی ضرورت ہے اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ چوہدری نثار جس پر مخالفین بھی کم از کم الزام لگانے سے قبل کئی بار سوچتے ہیں انہوں نے کابینہ اجلاس میں وزیراعظم پاکستان کو باآواز بلند یہ کہہ دیا کہ اعلان کیا جائے کل سے ملک میں خوشامدی پر پابندی لگائی جائے اور پریس کانفرنس میں جن امور کی طرف نشاندہی کی ان میں بجاطور پر یہ بات موجود تھی کہ سیاسی یتیموں نے مسلم لیگ ن پر قبضہ جمایا ہے ۔۔۔۔۔اور چوہدری نثار پوری کابینہ میں اکلوتے وزیرتھے جنہوں نے وزیراعظم کو یہ کہہ دیا کہ اس وقت آپ کو خوشامدیوں اور جی حضوریوں سے زیادہ ان خطرات سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے جو ارد گرد منڈلارہے ہیں لیکن نہ صرف چوہدری نثار کی مانی گئی اور اعتزاز احسن سمیت دیگر کی مانی گئی اور بالآخر وزارت عظمیٰ سے اشیاءضروریہ سمیت گھر روانہ ہونا پڑا۔۔۔۔۔۔

چوہدری نثار علی خان نے نہ صرف وفاقی حکومت کے اندر پکنے والی کھچڑی سے آگاہ کردیا بلکہ مسلم لیگ ن کے اندر ہونے والے لابیوں کا بھی زکر کیا اور یہ لابیاں لازماً ملک کے دیگر حصوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی ہونگے ۔۔۔۔ گلگت بلتستان کی صورتحال بھی ملک کے دیگر علاقوں سے مختلف نہیں ہے گو کہ عدد ی لحاظ سے مسلم لیگ ن کو برتری اور اکثریت حاصل ہے لیکن سیاسی صورتحا ل وفاقی حکومت کی طرح مکمل طور پر یہاں بھی کچھڑی جیسی ہے لیگی وزراءکا عوام سے قربت اور عوام کے ساتھ رابطے میں کتنے ہیں اس بات کے ثبوت کے لئے صرف یہ کافی ہے کہ کئی صحافتی حلقے اب بھی کئی وزراءسے ناواقف ہیں ۔۔۔۔جب کہ نادان لابیوں کو سمجھنے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ وزیراعلیٰ کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس جس کی وہ مکمل طور پر تردید اور مذمت کرتے ہوئے لاتعلقی کااظہا ر کررہے ہیں بعض وزراءاور ممبران اب گفتگو کا دفاع کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں وزیراعلیٰ نظر ضرور دوڑائیں ۔۔۔۔۔۔۔

جس کی گردن میں ہے پھندہ ، وہی انسان ہے بڑا

سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے

٭پانامہ ہنگامے کا فیصلہ آنے کے بعد ملک بھر میں سیاسی پارٹیوں سے چھلانگیں لگانا شروع ہیں اس کی ابتداءخیبر پختون خواہ سے تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی عائشہ گلالئی نے کی اور تحریک انصاف کے بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیتے ہوئے عمران خان پر کئی الزامات لگائے جن میں کہا گیا کہ عمران خان کی پارٹی میں خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں اور عمران خان کا کردرا پاک صاف نہیں ہے ۔ یہ الزامات بالکل اسی طرح قابل مسترد ہیں جس طرح نوازشریف پر پانامہ کیس پر ناقابل فہم الزامات پر نااہل قرار دیا گیا ۔ پی ٹی آئی سے جتنا بھی اختلاف ہو لیکن خواتین کو سیاسی سرگرمیوں میں آگے لانے میں نہایت اہم کردار ہے لوگ عمران خان کی زات جو کہ ’کھلی کتاب‘ کی طرح ہے کے باوجود بھی اس کی پارٹی میں ہے تو وہ استعفیٰ نامہ سے قبل پارٹی میں شمولیت کی وجہ بتادیں۔

٭گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ جس روز پانامہ کا فیصلہ آگیا اسی رات گئے نوازشریف نے مجھے فون پر بتایا کہ صبح کا کوئی اعتبار نہیں ہے اس لئے آپ کی ایک امانت ہے وہ آپ کو پہنچانا چاہتا ہوں اور پھر نوازشریف نے انہیں بتایا کہ عطاءآباد جھیل کے مقام پر 32میگاواٹ سے زائد بجلی کے پیداواری منصوبے کے لئے تمام ضروریات پورے کرکے اجازت دی گئی ہے اور اس کے لئے درکار ابتدائی 1ارب سے زائد رقم فراہم کرکے منتقل کی گئی ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

فہیم اختر

فہیم اختر پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ گلگت بلتستان کے صدر ہیں اور مقامی اخبارات میں صدائے گلگت کے نام سے کالم لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ پامیر ٹائمز کے مستقل کالم نگار ہیں۔