ضرورت رشتہ

ضرورت رشتہ

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یہ وہ اشتہار نہیں جو اخبارات میں اس عنوان کے نیچے آتا ہے یہ نو شتہ دیوار ہے جو آج کل اسلام اباد کے درو دیوار پر لکھا ہو اہے مگر نظر نہیں آتا ایوان اقتدار کی راہداریوں میں چار باتیں سنائی دیتی ہیں نواز شریف کو تین بار طلاق ہوگئی اس کو شریعت میں طلاق با ین کہتے ہیں یا کچھ اور ؟عمرا ن خان کی پارٹی نے شیر پاؤ کی پارٹی کو دو بار طلاق دیدی اسکو طلاق رجعی کہا جائے گا یا نہیں ؟نئے وزیر اعظم سے عہد لیا گیا ہے کہ 45دنوں کے بعد اپنا عہدہ شہباز شریف کیلئے خالی کرینگے شرعی اصطلاح میں یہ حلالہ کہلائے گا یا نہیں ؟اور چوتھی بات یہ ہے کہ نئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے رشتہ دار ،دوست ،عزیز اقارب کون ہیں؟

جن کی سفارش سے 45دنوں میں یار لوگ اپنے اپنے پھنسے ہوئے کام نکلواسکیں اقتدار کی راہداریوں میں یہ بہت اہم سوال ہے اسلئے ضرور ت ر شتہ آج کل اسلام اباد کا سب سے گرم مو ضوع بن گیا ہے۔

وطن عزیز پاکستان کا سسٹم ایسا ہے کہ اس میں کوئی بھی کام دفتری طریقہ کار کے مطابق نہیں ہوتا۔ خیبر پختونخوا کے عوام کو چار سالوں کے تجربے کے بعدپتہ چل گیا ہے کہ دفاتر میں کام کروانا ہوتو جہانگرین ترین کی سفارش لے آؤ یااسد عمر سے رجوع کرو۔ یہ دو بندے ہیں جو عمران خان اور پرویز خٹک کے قریب ہیں۔ کام نکلواسکتے ہیں۔

وفاق میں یار لوگوں نے جاتی عمرہ کے رائے ونڈ فارم سے مضبوط تعلقات استوارکر لیے تھے کام نکلوائے جا رہے تھے۔ مقطع میں سخن گسترانہ بات آگئی۔ رائے ونڈ فارم کی جگہ نیا سیٹ اپ آگیا نئے سیٹ اپ میں سب سے اہم نام عبوری وزیر اعظم کا ہے۔ اب یا ر لوگوں کی دوڑیں لگ گئی ہیں۔ یہاں فائلیں دفتری طریقہ کار کے تحت حرکت نہیں کرتیں۔ اُوپر سے ان کو حرکت دینے کی ضر ورت ہوتی ہے۔

ایک زمانہ تھا جب جائز کام دفتری طریقہ کار کے تحت خودبخود ہو جاتا تھا صر ف ناجائز کام کیلئے سفارش کی ضرورت پڑتی تھی جو سفارش ڈھونڈتا تھا اس کا کام یقیناًغیر قانونی ہوتا تھا جو ضابطہ اور قواعد کے مطابق نہیں ہو سکتا تھا اب صورت حال مختلف ہے جائز اور قانونی کام بھی سفارش کے بغیر نہیں ہوتا لوگوں کے ہزاروں کام مختلف وزارتوں اور محکموں میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں قانون کے مطابق نہ ایل پی جی کا کوٹہ ملتا ہے نہ الاٹ شدہ پلاٹ کا قبضہ ملتا ہے نہ ملازمین کی ترقی اور تبدیلی ہوتی ہے سفارش والا اپنا کام نکلواتا ہے جس کی سفارش نہیں وہ دانت پیس کر رہ جاتا ہے سرکاری امور میں سیاسی مداخلت پر قدرت اللہ شہاب کی یا د اشتوں سے بھی مدد ملتی ہے آج کل حسین احمد شیرازی کی خود نوشت ’’بابو نگر ‘‘کا بڑا چرچا ہے ایک جگہ مصنف لکھتا ہے

’’1981ء میں امریکہ سے ایک تربیتی کورس میں شرکت کے بعد ہم واپس لوٹے تو ہمارے ایک شنا سا وزیر نے وہاں کا احوال پوچھا۔ ہم نے بتا یا کہ امریکہ میں کوئی وزیر کسی سرکاری اہلکار کا تبادلہ نہیں کر سکتا تو وہ حیران ہوکر بولے ’’تو کیا وہا ں لوگ آم چوسنے کیلئے وزیر بنتے ہیں۔ ‘‘

اس تربیتی کورس کے بعد ہم نے اپنے باس کو محکمانہ تبدیلی اور بہتری کے لئے تجاویز کی تفصیلات عرض کی تو انہوں نے فرمایا کہ بھائی تم کن چکروں میں پڑگئے ہو؟ لگتا ہے پاکستان آ تو گئے ہو مگر ابھی پہنچے نہیں ایک ہفتہ کی چھٹی لو اور ادھر اُدھر دفتروں کے چکر لگاؤ تاکہ تمہارا نظریاتی جہاز پٹرو ل ختم ہونے سے پہلے اِس سر زمین پر بھی اتر جائے۔ ‘‘

یہ لمبا اقتباس اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہمارے افیسروں کی اعلیٰ پیمانے پر بیرون ملک تربیت سے بھی ہمارے دفتری نظم و نسق میں تبدیلی نہیں آتی یہاں افسر کا حکم نہیں چلتا وزیر اور ایم این اے یا ایم پی اے کی پرچی کام دیتی ہے قانون اور ضابطہ کوئی نہیں سیاسی بابو کی سفارش ہی قاعدہ اور قانون ہے ایک بار ان پڑھ ایم پی اے کو وزیر تعلیم بنایا گیا تھا کئی بار ایسا ہو اکہ نیا وزیر حلف اٹھانے کے بعد اپنے دفتر میں داخل ہوا تو قائد اعظم کی تصویر کو دیکھ کر کہا ’’اب اس کی جگہ میں وزیر بن گیا ہوں یہاں میر ی تصویر لگاؤ ‘‘ایسے ایسے ذہین اور فطین لوگ ہمارے سیاسی نظام کا حصہ ہو کر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں

حسین احمد شیر ازی نے لکھا ہے کہ وزیر خزانہ نے کسٹمز کے دفتر کا معائنہ کیا اور پوچھا کسی چیز کی کمی ہو تو بتاؤ متعلقہ افیسر نے کہا ڈپٹی سپرینڈنٹ کی آسامیاں کم ہیں وزیر موصوف نے 200آسامیوں کی منظوری دی اب محکمے میں ایک انسپکٹر کے اُوپر چار چار دپٹی سپرینڈنٹ آگئے تو دفتر کا پورا نظام تہہ و بالا ہوا ہم نے اپنے گنہگار آنکھوں سے دیکھا ایک جگہ جیل خانہ جات کے وزیر دورے پرآئے اس نے پرائمری سکول کو ہائی کا درجہ دیدیا

ہمارے عبوری وزیر اعظم 45دنوں میں کیا کر سکیں گے یہ سردست معلوم نہیں تاہم یا ر لوگوں نے نئے وزیر اعظم کے رشتہ داروں ،دوستوں اور نوکروں، چاکروں کا سراغ لگا نا شروع کیا ہے کیونکہ سسٹم کام نہیں کرتا کل تک رائے ونڈ کی طرف دیکھنے والی نگاہیں اب ’’خاقا ن ہاؤ س ‘‘کی طرف دیکھ رہی ہیں اور نئے وزیر اعظم کو رام کر نے کیلئے رشتے ناتے تلاش کر رہی ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔