غذر میں گندم کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج، گاہکوچ میں بھوک ہڑتال کیمپ کا آغاز

غذر میں گندم کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج، گاہکوچ میں بھوک ہڑتال کیمپ کا آغاز

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غذر (دردانہ شیر ) غذر میں آٹے کا سخت بحران گندم کی عد م دستیابی اور کوٹے میں کٹوتی پر سینکڑوں آفراد کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر گاہکوچ میں بھوک ہڑتال جب تک عوام کو گندم کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک بھوک ہڑتال جاری رہیگا ممبر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان نواز خان ناجی سابق امیدوار قانون ساز اسمبلی و رہنما پاکستان پیپلز پارٹی امیر محمد خان، پاکستان مسلم لیگ کے سینئر رہنماو سابق ممبرقانون ساز اسمبلی سلطان مدد ،سابق امیدوار قانون ساز اسمبلی و سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی نزیر ایڈوکیٹ اور دیگر قائدین کا بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ اس موقع پر اپنے خطاب میں مقررین نے کہا کہ حکومت غذر کے عوام کی شرافت کا امتحان لینا بند کر دیں ورنہ انھیں ایوانوں بیٹھنا مشکل کر دینگے غذر کو موجود ہ حکومت نے جس انداز میں نظر انداز کیا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اب تو نوبت یہاں تک آئی ہے کہ غذر کے لئے گندم کی سپلائی بھی بند کردی ہے اور لوگ فاقوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں مگر حکمرانوں کو سیر سپاٹے سے ہی ٹائم نہیں ملتی اس وقت صورت حال یہ ہے کہ غذر کے تمام گودام گندم سے خالی ہوگئے ہیں اور جون کا راشن تاحال لوگوں کو تقسیم نہیں کیا گیا ہے اور اوپر سے گندم میں کٹوتی کرنے کا مقصد غذر کے عوام کو تنگ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں بہت جلد غذر بھر میں گندم کی عدم فراہمی کے خلاف سخت احتجاج کیا جائے گا اور عوام کو ان کا حق نہیں دیا گیا تو گلگت تک لانگ مارچ پر مجبور ہونگے ہماری شرافت کا غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے اگر یہ صورت حال رہی تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی زمہ دارموجودہ حکمران ہونگے شدید گرمی میں عوام کا بھوک ہڑتال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکومت عوام کی کتنی ہمدرد ہے بلندبانگ دعوے کرنے والے کم از کم لوگوں کے منہ سے دو وقت کی روٹی تو نہ چھین لئے دوسری طرف یاسین میں بھی گندم کی عدم فراہمی کے خلاف17اگست کو سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ احتجاج میں کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر زمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ادھر غذر میں گندم اور آٹے کی عدم فراہمی دکانداروں نے بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے چھ سو میں ملنے والا آٹے کا تھیلہ دوہزار میں فروخت کیا جارہا ہے مگر انتظامیہ تاحال ان دکانداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔