طالبان کے سہولت کار

طالبان کے سہولت کار

24 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ارشاد اللہ مکرر

صوبہ خیبر پختونخوا ہ میں  چند مہینے پہلے  مشال خان کا  اقعہ پیش آیا جس کے بعد بعض جاہل اور مفاد پرست علماٗ اس واقعے کا غلط فائدہ آٹھا کر اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف  مشال خان والا ڈرامہ رچانے کی کوشش کررہے ہیں۔چند دن پہلے  دروش (چترال) میں اس  قسم کا واقعہ رونما ہوا۔

گذشتہ روز مجھے  دروش تھانے جانے کا اتفاق ہوا۔7 جولائی کو بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ  کے خلاف  احتجاج ہوا۔ جس میں لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ہزاروں لوگوں کی موجودگی کے باوجود صرف ایک یوتھ کونسلر کے خلاف پرچہ کاٹا  گیا۔

دوسرے روز میرے گاؤں کے ایک عورت میرے پاس آئی اور بتایا کہ ایس ایچ او دروش پولیس والوں کو ساتھ لیکر میرے گھر آیا اور میرے نو عمر کمسن بیٹے کو بے قصور گرفتار کرکے  اپنے ساتھ لے گئے۔

راقم امن کمیٹی کے ممبر  ،کوآرڈینیٹر کمیونٹی پولیسنگ فورم (CPF) اور ممبر پبلک لیزان کمیٹی  کی حیثیت  سے  اس مسلئے سے متعلق معلومات حاصل کرنے  دروش تھانے گیا۔جہاں پر ایس ایچ او نے میرے بڑی آو بھگت کی  اور مجھے اپنے دفتر میں بٹھا کر بیان کرنا شروع کیاکہ علماٗ حضرات کا ایک خاص گروپ میرے پاس آیا تھا، اور وہ مذکورہ یوتھ کونسلر پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کرنا چاہتے ہیں ۔

واقعہ کچھ یوں ہوا تھا کہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف جلسہ  ختم ہونے کے بعد چند نا بالغ بچوں نے مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والے کسی یونین ناظم  کے گھر پر پتھر پھنکے تھے۔اس نے اپنے مذہبی مقام و مرتبے سے فائدہ آٹھا کر  اپنے مخالف یوتھ کونسلر کے خلاف پرچہ درج کرنا چاہتا ہے۔

ایس ایچ او نے بتایا اگر میں نے اس کونسلر  کے خلاف پرچہ  نہیں کیا تو مستقبل میں یہ حضرات  میرے خلاف ہو جائیں گے اور اس معاملے  کودرو ش بھر میں ہوا دی جائے گی۔

مجھے ایسا لگا کہ ایس ایچ او دروش قانون کی پیروی کی بجائے ان چند شرپسند علما ٗحضرات کے شدید دباؤ کا شکار تھے۔ان کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ دروش تھانہ مکمل طور پر مذہبی جنونیوں کے نرغے میں ہے  اور بے قصور شخص اس دباؤ کے نتیجے میں جیل جا رہا ہے۔

مجھے حیرت اس وقت ہوئی جب ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ مذکورہ شخص نے مدرسے پر پتھر پھنکا ہے۔ یہ بتا کر اس نے معاملے کو اور مضحکہ خیز بنا دیا۔جبکہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا اور نہ ہی عینی شاہد موجود ہے۔ نیز یہ کہ مدرسہ ہذا میرے گھر کے بلکل قریب ہی واقع ہے۔

مدرسے میں مقامی لوگ رہائش نہیں رکھتے ،رہائش پزیر لوگوں کا تعلق نورستان،کنڑ ،افغانستا ن اور پاک افغان سرحدی  علاقوں سے ہے۔مختلف قسم کے لوگ مدرسے کے رہائیشوں سے ملنے آتے ہیں۔مقامی لوگ ان کو نہیں جانتے کہ وہ کہاں کے رہنے والے ہیں۔

راقم بطور ممبر آمن کمیٹی پاک فوج اور ایجنسیز  کے زمہ داروں کے نوٹس میں لانا ضروری سمجھتا ہے کہ اس مدرسے کے طلبا کی ویریفیکشین ہونی چاہئے ۔ایسا نہ ہو کہ اس مدرسے کے زریعے ہمارے ملک کے آمن و آمان کو کوئی نقصان پہنچے۔یا سنی اسماعلیہ فرقہ واریت  کو ہوا ملے۔

مدرسے کو فنڈز کہاں سے ملتے ہیں اس کی تفصیلی تحقیق ہونی چاہئے۔جو جاہل ، سیاسی اور مفاد پرست علماٗ یہاں گروپ بندی کرکےاپنے مخالفین کو نشانہ بناتے ہیں ان کی ماضی کا ریکارڈ بھی چیک کیا جانا چاہئے۔ان میں بعض ایسے حضرات بھی ہیں جو دہشت گرد طالبان کیلئے  نرم گوشہ رکھتے ہیں اور ماضی میں طالبان کے جلسوں اور جلوسوں میں بھر پور طریقے سے شرکت کرتے رہے ہیں۔بلکہ سہولت کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔

سوات اپریشن کے بعد اب وہ یہ کام  اگر چہ بر ملا نہیں کر سکتے  لیکن ان کی دلی ہمدردیاں اب بھی دہشت گروں کے ساتھ ہیں اور ایس ایچ او دروش مکمل طورپر ان کے زیراثر ہے۔

اس سے پہلے بھی دروش میں انسانی حقوق کی پا مالی سمیت دیگر جرائم میں ملوث ہیں۔اس میں بھی ایس ایچ او صاحب کا کردار نا قابل معافی ہے۔ایجنسیوں کے مقامی اہلکار ،مقامی ثقافتی روایات کی وجہ سے اس قسم کےرپورٹ اگے بھیجنے سے کتراتے ہیں۔

لہذا میں بحیثیت ممبر آمن کمیٹی  پاک فوج ، چیف جسٹس آف پاکستان ، مرکزی و صوبائی حکومت ، کور کمانڈر خیبر پختونخواہ ، ائی اجی پولیس کے پی کے اور جے او سی ملاکنڈ ڈویژن سے اپیل کرتا ہوں کہ چترال کے شدت  پسندوں کی سرگرمیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور دہشت گردوں کے خلاف  چترال میں رد الفساد کا آغاز کریں اور چترال کے پر آمن ماحول کو تباہ ہونے نہ دیں۔فرقہ واریت میں ملوث افراد، چاہے وہ ٹیکسٹ مسیج پر ہو یا فیس بک پر، سر گرم ہیں اور اب وہ ایس ایچ او دروش کے دست راز بنے ہوئے ہیں، ایسے واقعات کے لئے ان کو عینی شاہد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کو لگام ڈالی جائے۔

معاملے کی حساسیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔میں پولیس کے اس مشکوک رویے کی وجہ سے احتجاجاً  پبلک لیزان کمیٹی  سے بطور ممبر استعفی پیش کر رہا ہوں۔ اور پولیس کی جانب سے ملنے والے ممبر کارڈ کو واپس کرتا ہوں۔ تاہم، میں ممبر آمن کمیٹی کی حیثیت سے  چترال میں آمن وآمان کے حوالے سے اپنا کر دار ہمیشہ ادا کرتا رہوں گا۔

مجھے طالبان دہشت گرد وغیرہ کا کوئی خوف نہیں میں صرف اللہ سے ڈرتا ہوں، اور موت اپنے وقت پر ہی آئے گی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔