ڈھونڈوں کہاں قلب کی راحت؟

ڈھونڈوں کہاں قلب کی راحت؟

39 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

از شفیق آحمد شفیق

انسان فطری طور پر ایسا واقع ہوا ہے، کہ اطمینا ن اور سکون قلب کا پیاسا رہتا ہے، وہ دل کی تڑپ کو کبھی محبت  سےبہلا تا ہے، کبھی اپنی آرایش و زیبائیش سے اپنی حسن کو چمکاتا ہے، کبھی مقدس قصیدوں سے گنگناتا ہے۔ کبھی  سجدوں میں سر جھکا کہ اپنی بے بسی کا اظہا ر کرتا ہے۔ کبھی ثنائے معصوم کے نغمے سناتا ہے۔کبھی روح اعلی کے حمد سناتا ہے، کبھی جلوے نور کے دکھا تا ہے۔ کبھی مثل شعر غزل سناتا ہے، کبھی روح پرور گیت گاتا ہے، کبھی ظالم کا نوحہ سناتا ہے اور خود روتا ہے، کبھی زندگی کی بے وفائی کا گلہ کرتا ہے، کبھی خود سے شکوہ کرتا ہے، کبھی اوروں کو ستاتا ہے۔ کبھی دھوکہ دیتا ہے، کبھی پیشمانی پہ شرمندہ ہوتاہے۔کبھی زر و دولت سے اپنا لوحا منواتا ہے، چاہے وہ شکار شیر کا ہو، اور گیدڑ کی طرح اس کو اڑالیں، یا خود اپنی وجود کے شیطان کے فیصلہ کن آرا پر عمل دراآمد کے نتیجے میں حاصل کرتا ہے۔ جو بھی ہو دولت ہے، آخر معا شی ترقی کے اس دورمیں ہر چیز کو پیسے سے تو لا جاتا ہے۔ جیسے لڑکی کو جہیز کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ تو آخر کب تک برداشت کر تا ہے، جب غور کرتا ہے، تو ہر کوئی اپنی آمدنی میں اضافے کی سر تو ڑ کوشش کررہا ہے، غریب کی یہ کوشش کہ اس کا چھو لہا بجھنے نہ پائے، امیر کی یہ کوشش کہ  صف اول میں شامل ہو جاوں۔ ہر کوئی آگے بڑھ رہا ہے، اور یہ بھی نہیں دیکھ رہا کہ اس طرح دوڑنے سے کتنے چیونٹیاں واصل مرگ ہوئے ہیں، کتنے حشرات نوحہ خواں ہے، بس دوڑ رہا ہے اور دوڑ جیتنا چاہتا ہے، یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے پاوں تلے کیا کچھ ہو رہا ہے۔ اقبا ل نے بھی خوب کہا ہے

من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں

تن کی دولت چھاوں ہے آتا ہے دھن جاتاہے دھن

جناب سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو ا ہے، ظاہر سی بات ہے، اقتدار اور کرسی میں جو قلب راحت ہے وہ ہم جیسے مخلصوں کو کہاں نصیب، جو پر خلوص ہے قدرت نے ان کے تقدیر میں ماتم ہی لکھی ہے، اور جو خلوص اور سچائی کے بدن صلیب پر چڑھاتے ہیں، ان کے چہرے پہ مسکراہٹ اور طاقت کا غرور ضرور ہوتا ہے۔  اب چونکہ جناب وزیر اعظم نے قلب کی راحت کا معیا ر زر و دولت اور تاج و تخت ہی کو بنا یا تھا، ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے کے باوجود نہ ایک ایسا نطام دیا، جہاں انسانی حقوق کی بالا دستی ہو، نہ بہتریں تعلیمی نظام دیا کہ جس سے ہمارے بہتریں دماغ پیدا ہو، بلکہ ہمارے یو نیور سٹٰوں میں رائے کی آزادی کے شمعےکو مثل مشال بجھا یا جاتا ہے، نہ کوالٹی لایف جس سےانسا ں زندگی سے مطمئں ہو، لوڈشیڈنگ کی حالت نا گفتہ بہی۔ البتہ سعودی عرب کیلئے مجاہدیں پیداکیں۔ اور ان سلسلوں کو طاقت بخشا جو، ملکی امن و  امان کو تباہ کرتے ہیں۔

اتنا کرنے کے باوجود پھر بھی جناب وزیر اعظم پھر سے وزیر اعظم بننے کا خؤاب دیکھ رہے ہیں، اب آپ کی سکوں غارت اس لیئے ہیں کہ آپ نے انسان جیسی اعظیم ہستی کے خیر خواہ مقرر ہوئے تھے، اور چونکہ آپ نے اپنی مفادات اور وہ عناصر جن سے آپ مستفید ہو رہے تھے، ان کو مظبوط کیا ، لہذا قلب کی راحت تو انساں دوستی میں ہیں، انسانوں سے محبت میں ہے، سچائی اور خیر کے کام کرنے سے ہیں، جسمانی اور روحانی زمہ داریوں کو نبھانے میں ہے۔ لیکن افسوس کہ ان سے صاحب حق ہی واقف ہے۔

چونکہ آخر وقت نےرنگ  دکھانا ہے، اب حالت یوں ہے کہ ڈھونڈوں کہان قلب کی راحت

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments