پاکستانی مدر ٹریسا ڈاکٹر رُتھ فاؤ ‎

پاکستانی مدر ٹریسا ڈاکٹر رُتھ فاؤ ‎

64 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شفیق آحمد شفیق

انسان کے ساتھ عمل خیر اور نیکی ، حقوق و العباداور انسانی قدروں کی بالا دستی ، انسان دوستی اور محبت خلق ہی حقیقی مسرت اور روحانی خوشی کا باعث ہے۔  حقوق العباد کی اہمیت کے متعلق Loius One Newman  اپنے ایک نظم میں لکھتے ہے۔

I sought to hear the voice of God. and climbed the topmost steeple but God declare me go down again , i dwelll among the people.

“میں نے چاہا کہ میں خدا کی اواز سنوں اور گرجے کے مینار کی چوٹی تکا جا پہنچا ، لیکن وہاں خدا نے مجھے حکم دیا کہ دوبارہ نیچے جاو میں لوگوں کے درمیاں رہتا ہوں،“انساں دوستی اور حقوق العباد کے جذبے سے سر شار  پاکستانی مدر ٹریسا ڈاکٹر رُتھ فاؤ کراچی کے نجی اسپتال میں شدید علالت کے باعث 88 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں، ڈاکٹر روتھ فاؤ 9 ستمبر 1929 کو جرمنی کے شہر لیپازگ میں پیدا ہوئیں تھیں جو طویل عرصے سے سانس کی تکلیف اورعارضہ قلب میں مبتلا تھیں۔

ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی گراں قدر خدمات پر حکومت پاکستان، جرمنی اور متعدد عالمی اداروں نے انہیں اعلی ترین اعزازات سے نوازا جن میں نشان قائد اعظم، ہلال پاکستان، ہلال امتیاز، جرمنی کا آرڈر آف میرٹ اور دیگر شامل ہیں۔

آٹھ مارچ 2010کو انہیں پاکستان میں جذام کے مریضو ں کی خدمت کرتے ہوئے پچاس سال مکمل ہونے پر حکومتِ سندھ کی جانب سے اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا، کراچی میں جرمن قونصل خانے نے اور متعدد نجی اور نیم سرکاری اداروں کی جانب سے ان کے اعزاز میں تقاریب منعقد کی گئی، لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ دیے گئے۔ لیکن ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض دفعہ مالی تنگی کے باعث انہیں مریضوں کی مدد کے لیے اپنے کچھ ایوارڈ فروخت کرنے پڑے، لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود وہ ان مریضوں کے شانہ بہ شانہ کھڑی رہیں، جنہیں اُن کے اپنے گھر والوں نے اچھوت قرار دے کر گھر سے نکال دیا تھا۔

٭ ڈاکٹر رُتھ فاؤ کو ملنے والے اعزازات

1968 : دی آرڈر آف دی کراس، جرمنی

1969: ستارہ قائد اعظم، حکومتِ پاکستان

1979: ہلال امتیاز، حکومتِ پاکستان

1985: دی کمانڈر کراس آف دی آرڈر آف میرٹ، جرمنی

1989: ہلالِ پاکستان، حکومتِ پاکستان

1991:ڈیمین ڈیوٹن ایوارڈ، امریکا

1991:Osterreischische Albert Schweitzer Gasellschaft، آسٹریا

2002: رامن میگ سیسے ایوارڈ، فلپائن

2003:جناح ایوارڈ، جناح سوسائٹی پاکستان

2004: ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگری، آغا خان یونیورسٹی، کراچی

2004:لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ، روٹری کلب کراچی

2005: میریون ڈوئن ہوف ایوارڈ، جرمنی

2006:لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ، صدر پاکستان

2011: نشان قائد اعظم، صدر پاکستان

٭ مطبوعات

ڈاکٹر رُتھ فاؤ ایک اچھی مسیحا کی طرح بہترین لکھاری بھی تھیں، انہوں نے پاکستان اور افغانستان میں جذام کے مریضوں پر جرمن زبان میں چار کتابیں لکھیں، جن کا انگریزی، فرانسیسی، اور کئی دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ چند ماہ قبل ہی انہوں نے انگریزی زبان میں ایک کتاب’ دی لاسٹ ورلڈ از لو: ایڈوینچر، میڈیسن، وار اینڈ گاڈ‘ مکمل کی، جسے کراس روڈ پبلشنگ کمپنی 15نومبر، 2017کو شایع کرے گی۔

پاکستان کی مدر ٹریسا ، ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی خدمات کے اعتراف میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے ’ روشنی کی مینار: رُتھ فاؤ‘ کے نام سے اردو زبان میں ایک نصابی کتاب شایع کی۔اس کتاب میں ڈاکٹر فاؤ کے حالات زندگی، اور ان کی جذام کے مریضوں کے لیے کی گئی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ 2004 میں ڈاکٹر ضیا مُطاہر نے ’ سرونگ دی ان سروڈ: دی لائف آف ڈاکٹر رُتھ‘ کے عنوان سے ڈاکٹرفاؤ کی سوانح حیات لکھی، جس کا اُردو ترجمہ ’ میرا مقصد حیات ‘ کے نام سے شایع ہوا۔

 ڈاکٹررتھ فاؤ کی آخری رسومات 19 اگست کوسینٹ پیٹرک چرچ صدرمیں اداکی  گئی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ڈاکٹررتھ فاؤکے انتقال پراظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر رتھ فاؤ جرمنی میں پیدا ہوئیں لیکن ان کا دل پاکستان میں دھڑکتا تھا، ان کی پاکستان میں طب کے شعبے میں خدمات پرخراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے بھی ڈاکٹر رتھ کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ بطور انسانیت کی سفیر اور ان کی پاکستان کے عوام کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رہیں گی۔ چیرمین پاک سرزمین پارٹی سید مصطفی کمال نے ڈاکٹر روتھ فاؤ کی وفات پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر روتھ فاؤ کی زندگی نوجوان نسل کے لیے مثال ہے، انہیں پاکستان میں جذام کے مریضوں کی خدمات پر انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔