کل کے خطرناک کل کا ذمہ دار کون ہے ؟

کل کے خطرناک کل کا ذمہ دار کون ہے ؟

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غالبؔ فرماتے ہیں کہ ؂
بس کہ ہوں غالب ؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ میری زنجیر کا

آیئے سب سے پہلے اس شعر کی تشریح پر نظر دوڑاتے ہیں ۔ بنیادی طور پر غالبؔ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں ۔ غالبجرم محبت کے الزام میں پابند سلا سل ہیں۔ ہاتھ پاؤں بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ یہ بیڑیاں قانوں نے پہنائی ہوئی ہیں لیکن دوسری جانب غالب کے قویٰ اتنے مضبوط ہیں کہ غالبؔ بھڑکتی ہوئی آگ کی مانند ہیں اور اُس آگ کی تپش اور حرارت اتنی تیز ہے کہ اُس تک پہنچنے کے بعد لوہا بھی پگھل جاتا ہے ۔ جن زنجیروں سے غالب ؔ کو باندھا گیا ہے وہ غالبؔ کی حرارت کی وجہ سے کب کے جل کے راکھ ہو چکی ہیں ۔آگ میں جلنے کے بعد اُن زنجیروں کی مثال جلے ہوئے بالوں کی سی ہو گئی ہیں ۔ نکتہ قابل غور یہ ہے کہ بال جل جانے کے بعد بھی اپنی شکل و صورت برقرار رکھتے ہیں اور یہ شکل و صورت اُس وقت تک بر قرار رہتی ہے جب تک اُن کو چھوا نہ جائے ۔ یوں غالبؔ کو جن زنجیروں میں جکڑا گیا ہے وہ جل کر راکھ تو ہو گئی ہیں لیکن فاصلے سے دیکھنے پر ایسا لگتا ہے کہ زنجیریں جوں کہ توں بر قرار ہیں اور غالبؔ پابند سلاسل ہے ۔’’ موئے آتش دیدہ ‘‘کی ترکیب اس خیال کے سانچے پر خوب جچا ہے ۔ غالب ؔ کی شان یہ ہے کہ وہ قانون کے احترام میں زنجیروں میں جکڑے بے حس حرکت استادہ ہیں ۔ اگر یہ قیدی راہ فرار چاہے تو جلے ہوے بولوں کی زنجیروں کی رکاوٹ کی آخر کیا وقعت ہوگی۔۔۔ ۔ سوال یہ ہے کہ غالب ؔ اتنے مضبوط ہونے کے باوجود بھی دشمنوں کو کیوں یہ باور کروا رہے ہیں کہ وہ آہنی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ؟ اصل می اس شعر میں غالبؔ نے قانوں کے احترام کا ایک دقیق پیغام دیا ہے ۔ اسے کہتے ہیں انسانی عضمت اور معراج بشریت ۔

غالب ؔ پر محبت کا الزام تھا کسی کی حق تلفی کا الزام نہیں تھا ۔ اس کے باوجود بھی قانون کا احترام کیا ۔ قانون کے احترام میں بڑے لوگوں نے کیا کیا نہیں کیا یہاں تک کہ قانوں اور عدالت کے فیصلے پر لوگوں نے زہر ہلاہل بھی نوش کیا حلانکہ وہ حق و صداقت پر گامزن تھے ۔لیکن ہمارے سابق وزیر اعظم پر ملک کو لوٹنے کا الزام ہے ۔ یہ بہت ہی شرمناک بات اور لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک حکمران جو کہ ملک و قوم کی عزت و آبرو کا نگہبان ہوتاہے ، ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کی عظیم ذمہ داری کا آمین ہوتا ہے ، عوام کی جان و مال کی حفاظت کا سہرا اُن کے سر پر سجتا ہے ۔ میری دعا ہے کہ اللہ کرے آپ پر دھرنے والے تمام الزامات بے بنیاد ہوں ، آپ نے کوئی چوری نہ کی ہو ، آپ نے عوام کا حق نہ مارا ہو، آپ نے قومی خزانے کو بیروں ملک بنکوں میں جمع نہ کیا ہو اور آپ نے ملک پر بہترین حکمرانی کی ہو کیوں کہ ایک وزیر اعظم کو ان خطوط پر دیکھنا ہمیں اچھا نہیں لگتا ۔لیکن آپ خود بتا دیجئے کہ کیا آپ کا یہ انداز درست تھا ملک کی اعلیٰ عدالت کے فیصلے کو آپ نے پامال کیا ۔ اسلام آباد سے لاہور تک گلی کوچوں کے آوارہ گشتیوں کی طرح عدلیہ کے خلاف چیختے چلاتے اپنا گلا پھاڑتے رہے ۔ آپ اگر راہ راست پر ہوتے تو عوام خود باہر آتا اورسراپا احتجاج بن کر کہتا کہ سابق وزیر اعظم پر الزامات بے بنیاد ہیں اور عدالت نے اقر با پر وری کی ہے ۔ آپ نے معصوم عوام کو اپنی بے گناہی کا جھانسہ دیکر راستوں میں لایا ۔بھائی ہم عوام ہیں ہم وزارت عظمی ٰ کا احترام کرتے ہیں کیوں کہ ہم نے کتابوں میں یہی پڑھا ہے کہ اس نشست کو جو بھی سنبھالتا ہے وہ ہمارا آقا ہوتا ہے ( قائد اعظم ہوتا ہے ) اور قانوں کی پاسداری اُسی آقأ کے اولین فرائض میں سے ایک ہوتا ہے ۔قانوں کا احترام سب سے پہلے ہمارے سب سے بڑے آقا نبی پاک ﷺنے سکھایا ہے ۔ ایک مرتبہ چوری کا جرم ثابت ہونے پر عدالت کی جانب سے مجرم کے بازو کاٹنے کے حکم پر کسی نے رحم کی اپیل کی تو آپ ﷺ نے صریحاً فرمایا کہ اس مجرم کی جگہ اگر میری اپنی اولاد بھی ہوتی تو اُس کا بازو بھی کٹ جاتا ۔ یہ واقعہ مذاق نہیں تھا۔ اسلام سچائی ،دیانتداری ، مساوات ، عد ل و انصاف اور خلق خدا سے محبت کی تعلیمات کا نام ہے اور پاکستان کی تعمیر و تشکیل انہی اصولوں پر ہوئی ہے ۔مگر اب سچی بات یہ ہے کہ قائد اعظم کے بنائے ہوئے اس گھر میں ہم نے جو تہلکہ مچا رکھا ہے انتہائی شرم ناک ہے ۔ جن ہستیوں نے ہمیں ہندؤں کے ظلم و تشدد سے آزاد ی دلوائی تھی اُن کی روحیں عدم میں تڑپ رہی ہوں گی ۔

ان لو گوں کی شرمناک سیاست اپنی جگہ لیکن مجھے اس وقت سب سے پریشان کن بات جو نظر آتی ہے وہ یہ کہ ان مخدوش حالات کا ہمارے چھوٹے بچوں پر بُرے اثرات مرتب ہوتے جا رہے ہیں ۔ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے گھروں میں ریڈیو تک نہ ہوتا تھا لیکن اجکل موصلات کا نظام اتنا تیز ہے کہ ہر طرف سے میڈیا کا بھر مار ہے اور ہم میڈیا کے نرغے میں ہیں ۔موجودہ ملکی حالات کے ساتھ چلنے اور پلنے والے بچے میں کل کے نامعقول شہری ثابت ہونے کے واضح اثرات نظر آتے ہیں کیوں کہ میڈیا میں جن غلیظ الفاط اور ایک دوسرے پر گالی گلوچ ہو رہی ہے وہ ہماری نسل کے لئے زہر قاتل ہے ۔ہم چند خاندانوں اور ان کے قانوں شکن حواریوں کی وجہ سے اپنے آنے والے کل کے سینے میں چھرا کھونپ رہے ہیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کل کے خطرناک کل کا ذمہ دار کون ہے ؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author