ہزارہ پولیس کا افسوسناک رویہ۔۔۔

ہزارہ پولیس کا افسوسناک رویہ۔۔۔

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گزشتہ روز دیامر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور دیگر ٹرانسپورٹ یونین کے عہدیداروں نے چلاس پریس کلب میں ہزارہ پولیس کے ٹرانسپورٹروں سے ناروا سلوک کے خلاف ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزارہ پولیس ٹرانسپورٹروں کو مسلسل تنگ کرتی ہے اور رشوت اصول کرتی ہے رشوت نہ دینے کی صورت میں گھنٹوں تک پسنجر گاڑیوں کو روک کر بے جا طور پر ڈرا دھمکا کر کا غان روڈ سے واپس کردیتی ہے جس سے ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے منسلک شہریوں کا کاروبار بری طرح متا ثر ہورہا ہے ۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ہزارہ پولیس کے خلاف مختلف ٹریول سروسز ایسوسی ایشنز کھل کر سامنے آئے ہیں ورنا تو اس روڈ پر رشوت کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ مکروہ کاروبار جب سے کاغان روڈ تعمیر ہوا ہے تب سے اب تک چلتا آرہا ہے۔ جگہ جگہ ٹولیوں میں بیٹھے پولیس اہلکار مسافروں کے جان و مال کی تحفظ کے بجائے جیبوں کو خالی کرنے کی ڈیوٹی سر انجام دیتے آرہے ہیں۔ گرمیوں کے آغاز سے لیکر ٹاپ بند ہونے تک ان پولیس اہلکاروں کی چاندنی ہوتی ہے یہ نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ کو نشانہ بناتے ہیں بلکہ ان کے شر سے سیاح، گڈز ٹرانسپورٹ کمپنیاں اور عام موٹر سایئکلوں پر امدورفت رکھنے والے مقامی لوگ بھی محفوظ نہیں رہتے۔ گاڑی کے کاغذات کا بہانہ بنا کر جرمانے کے نام پر رشوت ستانی کا بازار گرم رہتا ہے حالانکہ کا غذات بھی پورے ہوتے ہیں ڈرایؤنگ لایئسنس بھی ہوتی ہے پھر بھی ڈبلنگ کا غذات رکھنے کا الزام لگا کر گاڑی کو لیبارٹری کرانے کی دھمکی دیکر رشوت اصول کرتے ہیں جس گاڑی کو روکتے ہیں اس سے بے جا طور پر کچھ نہ کچھ رشوت لیتے ہیں۔

عام طور پر گلگت بلتستان نمبر کی گاڑیاں ان کا حدف ہوتی ہیں۔ پہلے تو مانسہرہ بائے پاس سے لیکر ناران تک ہزارہ پولیس کی پولیس گردی ہوتی تھی لیکن اب گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کی سستی کی وجہ سے یہ سلسلہ گٹی داس تک پہنچ گیا ہے۔ اب ہزارہ پولیس کی عملداری گٹی داس تک ہے، حالانکہ قبل مسیح سے لیکر گزشتہ ستر سالوں تک لولو سر تک کا علاقہ دیامر کے باسیوں کی ملکیت رہا ہے۔ جھیل سیف الملوک نام بعد کا تجویز کردہ ہے اس جھیل کا قدیم نام لو لو سر ہے جو شینیا زبان کا لفظ ہے۔ لولو (لال ) اور (سر) جھیل یعنی ( لال جھیل)۔ ہمارے لوک گیتوں میں اس جھیل سے منسلک کئی گیت ہیں اور یہ درہ دریافت کرنے والے دیامر کے لوگ ہیں۔

سیدوں کی کا غان امد سے بھی کئی سو سال قبل سے چلاس تھک کے لوگ اس علاقے کو چراگاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے لیکن میاں گان کے امد کے بعد ظہور اسلام کے ساتھ ہی اس علاقے میں چلاسیوں کی گرفت کمزور پڑنا شروع ہوگئی اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ دیامر میں اسلام ایسی درے سے آئی تھی اور جو مبلغین اسلام اوارد ہوئے تھے وہ ایسی درے کے زریعے آئے تھے اس لیے مقامی لوگ اس علاقے کو میاں گان کی گزرگاہ یعنی متبرک زمین سمجھ کر ان ہی کو دے گئے لیکن پھر بھی لولوسر چلاسیوں اور کاغان کے لوگوں کے درمیاں حدود رہا۔ ایک سو سال قبل بھی کاغان سے آنے والے گجر برادری لولوسر کے آس پاس خیمہ لگا تے تو چلاس تھک کے لوگوں کو باقاعدہ قلانگ یعنی(لگام) ادا کرتے تھے اور اب بھی اس علاقے میں لولوسر تک ہزارہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کوئی بستی ہے اور نہ عارضی سکونت ہے۔ لولو سر تک آج بھی دیامر کے لوگوں کی مال مویشیوں کا چراگاہ ہے اور یہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ یہاں پر جب بھی کوئی نا خوش گوار واقع پیش آیا ہے تو اس کی قانونی کاروائی سے دونوں جانب کی انتظامیہ کتراتی رہی ہے۔

ما ضی قریب میں بھی ہزارہ انتظامیہ نے لولوسر سے اپر تک کے علاقے میں کوئی مداخلت نہیں کی لیکن سانحہ لولوسر کے بعد تمام قانونی کاروائی مانسہرہ انتظامیہ نے سر انجام دی جس کے بعدہزارہ پولیس کی عملداری گٹی داس تک پہنچ گئی جب کہ ہماری طرف سے دیامر پولیس بابوسر ٹاپ تک محدود ہے اور ٹاپ سے آگے کا تمام علاقہ ہزارہ پولیس کی عملدآری میں دیا گیا ہے جس سے علاقے میں سخت بے چینی پیدا ہوئی ہے اور اب ہزارہ پولیس کی رشوت خوری سے مقامی لوگوں کا جینا دو بھر ہو چکا ہے اور اس بات کو بہت سخت اور تلخ انداز میں مقامی سطح پر محسوس کیا جا رہے کہ کے پی کے انتظا میہ نو مولود صوبے کی حدود میں بے جا طور پر مداخلت کر رہی ہے اور ساتھ میں رہی سہی کسر ہزارہ پولیس پورا کر رہی ہے۔ اس سے دو نوں جانب کے شہریوں کے اند ر غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔

ہزارہ اور دیامر کے عوام کے درمیان صدیوں سے قائم ایک مظبوط رشتہ ہے جس میں دراڑ پڑ سکتا ہے لہذا دانش مندی اسی میں ہے کہ کے ۔پی۔کے انتظامیہ ہزارہ پولیس کا حلیہ اور رویہ درست کرے۔ میں زاتی طور پر اس بات کو بالکل حق بجانب مانتا ہوں کہ کے پی کے میں پولیس کی کار کردگی ماضی کے نسبت سے دیکھا جائے تو بہت بہتر ہوئی ہے اور اس بہتری کے تسلسل کو مذید آگے بڑھانی کی ضرورت ہے اور میں پر امید ہوں کہ وزیر اعلی کے پی کے پرویز خٹک ہزارہ پولیس کے اس نا روا سلو ک کا نوٹس لیکر ہزارہ پولیس کی پولیس گردی کو لگام دینگے ساتھ ہی وفاقی حکومت کا غان اور دیامر کے حدود متعین کرنے کیلے ایک غیر جانبدار کمیٹی کو تشکیل دیکر حدود کے تنازع کو حل کریں اور تب تک کیلے ناران سے لیکر بابوسر ٹاپ تک کا علاقہ کسی وفاقی فورس کے انڈر میں دیں اس سے سکیورٹی کا مسلہ بھی حل ہوگا اور ساتھ میں گلگت بلتستان کے پسماندہ عوام ہزارہ پولیس کے شر سے بھی محفوظ رہینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔